100سینٹری ورکرز کی واسا کے بجائے بلدیہ میں ڈیوٹی
100سینٹری ورکرز کی واسا کے بجائے بلدیہ میں ڈیوٹی افسران کی مبینہ ملی بھگت اور عدم توجہ ،ادارہ مالی بوجھ برداشت کر رہاہے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر)میونسپل کارپوریشن سرگودھا کے افسران کی مبینہ ملی بھگت اور عدم توجہ کے باعث شعبہ ہیلتھ کے ایک سو کے قریب ملازمین (سینیٹری ورکرز)ستھرا پنجاب اور واسا میں جانے کے بجائے بلدیہ میں ڈیوٹی دے رہے ہیں جس وجہ سے ادارے کو مالی بوجھ برداشت کرنا پڑرہا ہے ذرائع کے مطابق حکومت کے جانب سے سیوریج صفائی اور واٹر ورکس میونسپل کارپوریشن سے الگ کرکے دوالگ ادارے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اورواسا بنا دیئے گئے ہیں جس پر عملہ صفائی سیور مین ،آپریٹر، بیلدار وغیرہ کی پوسٹ پر بھرتی ہونے اور شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ میں پوسٹ بھی ان ملازمین یہیں ہے لیکن مبینہ طور پر سیاسی دباؤ افسران پر ڈال کر یہ ملازمین نے ان اداروں میں جانے کے بجائے بلدیہ دفتر میں ہی ڈیوٹی لگوالی جس وجہ سے ان ملازمین کو تنخواہیں بلدیہ کو دینا پڑ رہی ہے اور ملازمین کی تعداد بڑھنے سے یہ ملازمین ڈیوٹی بھی کم دے رہے ہیں ،ستم ظریفی یہ ہے کہ قبل ازیں صفائی پر مامور ان ملازمین میں سے آدھے ملازمین کو شعبہ انکروچمنٹ میں لگایادیا گیا ، جوکہ تجاوزات آپریشن کی آڑ میں مبینہ طور پر دیہاڑیاں لگانے میں مصروف ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شعبہ انکروچمنٹ میں جانیوالے ان ملازمین نے مک مکا کیلئے اپنے پرائیویٹ ایجنٹ رکھے ہیں جو کہ تجاوزت کنندگان سے مبینہ طور پر پیسے لے کر اپنی اور ان ملازمین کی جیبیں بھرتے ہیں،ان ملازمین نے کارپوریشن میں ایک پریشر گروپ بنا رکھا ہے جس سے ادارہ میں نہ تو کرپشن رکی ہے اور نہ ہی ادارہ کی کاکردگی بہتر رہی ہے ۔