وکالت نامہ داخل کرتے وقت بائیو میٹرک ویری فکیشن ختم کی جائے ، سابق صدر بار بھیرہ
بھیرہ (نامہ نگار )سابق صدر بار ایسوسی ایشن بھیرہ محمد شاہد القمر بھٹی ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ داخل کرتے وقت بائیو میٹرک اور ویری فکیشن کے موجودہ طریقہ کار کو غیر ضروری اور وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسے ختم کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں پہلے ہی وکیل کی شناخت اور ذمہ داری واضح ہوتی ہے ، اس لیے وکالت نامہ داخل کرتے وقت اضافی بائیو میٹرک اور ویری فکیشن کا نظام وکلاء اور سائلین دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مقدمے میں وکالت نامہ داخل کرنے کے باوجود مقررہ وقت پر وکیل عدالت میں پیش نہ ہو یا مقدمے کی پیروی نہ کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے ۔ اس لیے غیر ضروری ویری فکیشن کے مراحل سے نظام مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے ۔
محمد شاہد القمر بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکیل عدالت کا افسر ہوتا ہے اور اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ سائلین کے مفادات کا تحفظ کرے ۔ انہوں نے بار کونسلز اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وکالت نامہ داخل کرتے وقت بائیو میٹرک اور ویری فکیشن کے غیر ضروری طریقہ کار کو ختم کر کے ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس سے وکلاء اور سائلین دونوں کو سہولت ملے اور عدالتی امور بلا تاخیر انجام پا سکیں۔