اسٹامپ پیپرز کے اجرا میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف
اسٹامپ پیپرز کے بار کوڈ کو اسکین کر کے اصل خریدار کا نام ایڈیٹ کر دیتے ہیں
بھیرہ(نامہ نگار)بیانِ حلفی اور دیگر قانونی و انتظامی امور کے لیے جاری کیے جانے والے اسٹامپ پیپرز کے اجرا میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے زرائع کے مطابق اس وقت تحصیل بھیرہ میں اسٹامپ وینڈرز کے 22 مستقل جبکہ 3 عارضی لائسنس جاری کیے گئے ہیں ان میں سے بعض نے خود کام کرنے کے بجائے اپنے لائسنس غیر قانونی طور پر ٹھیکے پر دے دیا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ بعض افراد جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے جاری شدہ اسٹامپ پیپرز کے بار کوڈ کو اسکین کر کے اصل خریدار کا نام ایڈیٹ کر دیتے ہیں اور بعد ازاں وہی اسٹامپ کسی دوسرے شخص کے نام پر جاری کر دیا جاتا ہے۔
یہ اسٹامپ پیپرز بالخصوص مالیاتی اداروں سے قرضوں کے حصول، ڈومیسائل سرٹیفکیٹس، لوکل گورنمنٹ اور واپڈا کنکشن کے لیے تیار کی جانے والی فائلوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹامپ پیپرز میں اس نوعیت کی ٹیمپرنگ سنگین جرم کے زمرے میں آتی ہے عوامی و سماجی حلقوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) اور اسسٹنٹ کمشنر بھیرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل بھر میں اسٹامپ وینڈرز کے لائسنسوں کی ازسرِنو چھان بین کی جائے ، غیر قانونی طور پر لائسنس ٹھیکے پر دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ معاملہ ایک بڑے اسکینڈل کی شکل اختیار کر سکتا ہے