کاغذ کی شارٹیج ، کاپیوں ، کتابوں کی قیمت میں اضافہ
بے یقینی کی صورتحال سے کاغذ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ، درمیانی کوالٹی کے کاغذ کا ہول سیل میں ریٹ 200روپے فی کلو سے بڑھ کر 300 تک پہنچ چکا طلباکے والدین دوہری مشکلات کا شکار،نئے تعلیمی سال کے اخراجات نے توڑ کر رکھ دی ، کسی قسم کا کوئی چیک اینڈبیلنس نہیں ، سٹاک کرنیوالے فائدہ اٹھانے میں مصروف
سرگودھا(نعیم فیصل سے ) کاغذ کی شارٹیج اور مانگ میں اضافہ کے باعث اس کے ریٹ میں پچاس فیصد اضافہ کے ساتھ ہی کاپیوں کتابوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں،بالخصوص نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اخراجات میں بے پناہ اضافہ نے والدین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ، ذرائع کے مطابق امریکہ ایران جنگ کے باعث ملک میں کاغذ کی قلت کے باعث حالیہ ڈیڑھ ماہ کے دوران اس کے ریٹ میں 50فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث نہ صرف نئے تعلیمی سال کی کتابیں کاپیوں کے نرخ بھی بڑھے ہیں بلکہ بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے کاغذ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ، عام طور پر استعمال ہونیوالے درمیانی کوالٹی کے کاغذ کا ہول سیل میں ریٹ 200روپے فی کلو سے بڑھ کر 300روپے تک پہنچ چکا ہے۔
اسی طرح دیگر کوالٹی کے کاغذ کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ باعث تشویش بنتا جا رہا ہے ، بالخصوص اس صورتحال میں طلباء و طالبات کے والدین دوہری مشکلات کا شکار ہیں جن کی کمر نئے تعلیمی سال کے اخراجات نے توڑ کر رکھ دی ہے ، جبکہ کاغذ کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے سلسلہ میں کسی قسم کا کوئی چیک اینڈبیلنس نہیں اور نہ ہی متعلقہ اداروں نے کبھی اس کی ضرورت محسوس کی،دوسری جانب کاغذ کی درآمد کے حوالے سے بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے اسکی قیمت میں مزید اضافے کا امکان مصنوعی قلت کو بھی جنم دے رہا ہے اورکاغذ سٹاک کرنیوالے صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔