کمپیوٹرائزڈ نہ ہونیوالے پٹوارخانے شہریوں کیلئے عذاب
پٹواریوں کی عدم موجودگی معمول ، سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے غیر سرکاری اور نجی افراد تعینات ،بعض مقامات پر رشوت کے بغیر کام کروانا انتہائی مشکل
سرگودھا (سٹاف رپورٹر)ضلع سرگودھا کے مختلف علاقوں میں ایسے پٹوار خانے جہاں زمینوں کا ریکارڈ تاحال مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ نہیں ہو سکا، سائلین کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گئے ہیں۔شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ان پٹوار خانوں میں پٹواریوں کی عدم موجودگی معمول بن چکی ہے جبکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے غیر سرکاری اور نجی افراد کو تعینات کیا گیا ہے ، جو فرد، انتقالات، رجسٹری اور دیگر ریونیو معاملات نمٹاتے ہیں۔متاثرہ شہریوں کے مطابق اراضی ریکارڈ سے متعلق معمولی کاموں کے لیے بھی انہیں بار بار دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ بعض علاقوں میں پٹواری ہفتوں تک دفتر نہیں آتے جس کے باعث عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ۔شہریوں نے مزید الزام عائد کیا کہ فرد ملکیت کے حصول، انتقال زمین کی منظوری اور دیگر قانونی کارروائیوں میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی ہے ، جبکہ بعض مقامات پر رشوت کے بغیر کام کروانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے ۔ ان کے مطابق اضافی رقم نہ دینے کی صورت میں فائلوں کو اعتراضات لگا کر طویل عرصے تک التواء میں رکھا جاتا ہے ۔اس صورتحال کے باعث کسانوں، زمینداروں اور عام شہریوں کو مالی و ذہنی مشکلات کا سامنا ہے ۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام پٹوار خانوں کا ریکارڈ جلد از جلد کمپیوٹرائزڈ کیا جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے ۔متاثرین نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا سمیت اعلیٰ ریونیو حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں، انکوائری کروائیں، غیر حاضر اہلکاروں اور قواعد کی خلاف ورزی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کریں اور عوامی مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے ۔