سرکاری افسران کے سے سرکاری رہائش گاہیں واپس نہ لی جاسکیں

سرکاری افسران کے سے سرکاری رہائش گاہیں واپس نہ لی جاسکیں

سرکاری افسران کے سے سرکاری رہائش گاہیں واپس نہ لی جاسکیںپانچ سال کے باوجود متعدد اضلاع سے رپورٹس حکومت کو ارسال نہیں کی جا سکیں

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ڈویژنل ہیڈ کوارٹر سرگودھا سمیت چاروں اضلاع میں اعلیٰ سرکاری افسران کے زیر استعمال وسیع و عریض سرکاری رہائش گاہوں، ریسٹ ہاؤسز، سرکٹ ہاؤسز، ڈاک بنگلوں اور کیمپ دفاتر کو واپس لے کر ان کی نیلامی یا متبادل سرکاری استعمال میں لانے کا منصوبہ مناسب نگرانی اور عملدرآمد نہ ہونے کے باعث رواں مالی سال بھی روبا عمل نہ ہو سکا،ذرائع کے مطابق سابقہ حکومت نے سال 2021ء میں سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور قیمتی سرکاری املاک سے بہتر مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت صوبہ بھر میں اعلیٰ افسران کے زیر استعمال رہائش گاہوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کا مکمل ریکارڈ اکٹھا کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے ان رہائش گاہوں، سرکٹ ہاؤسز، ریسٹ ہاؤسز، ڈاک بنگلوں اور کیمپ دفاتر کی لوکیشن، کل رقبہ، زیر استعمال ایریا، کمروں کی تعداد، عمارتوں کی موجودہ حالت، سالانہ مرمت و دیکھ بھال پر آنے والے اخراجات، یوٹیلٹی بلز اور دیگر سہولیات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں، تاہم پانچ سال گزرنے کے باوجود متعدد اضلاع سے مکمل رپورٹس حکومت کو ارسال نہیں کی جا سکیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سرگودھا میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی، ڈی پی او، محکمہ انہار، محکمہ زراعت اور دیگر سرکاری اداروں کے ضلعی سربراہان کئی کئی ایکڑ پر مشتمل سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم ہیں، جن کی دیکھ بھال، سکیورٹی، باغبانی، مرمت، بجلی، گیس اور دیگر سہولیات پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں،اس منصوبے کے تحت تجویز دی گئی تھی کہ جہاں ممکن ہو ان وسیع و عریض عمارتوں کو نیلام کیا جائے یا انہیں عوامی فلاح، تعلیمی، طبی، انتظامی یا دیگر سرکاری مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جائے تاکہ قومی خزانے پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں