غیر قانونی کالونیوں کے ہزاروں الاٹیز دربدر
کالونیوںکی تعداد 60،سرکاری ریکارڈ کا ایک بڑا حصہ مبینہ طور پر متعلقہ شعبوں سے غائب ،سرکاری ریکارڈ کی گمشدگی کا یہ معاملہ کئی برسوں سے چلا آ رہا متاثرین مسلسل سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ، درخواستوں پر کارروائی تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی،نچلی سطح پر آج تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ضلع کے مختلف علاقوں میں کچی آبادیوں اور جناح آبادیوں کے نام پر قائم کالونیوں جن کی تعداد 60سے زائد بتائی جاتی ہے کے سرکاری ریکارڈ کا ایک بڑا حصہ مبینہ طور پر متعلقہ شعبوں سے غائب ہونے کے باعث ہزاروں الاٹیز اور سائلین برسوں سے مالکانہ حقوق کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جبکہ حکومتی پالیسی اور واضح ہدایات کے باوجود سینکڑوں درخواستیں مسلسل التواء کا شکار ہیں،ذرائع کے مطابق سرکاری ریکارڈ کی گمشدگی کا یہ معاملہ کئی برسوں سے چلا آ رہا ہے ، لیکن آج تک نہ تو ریکارڈ مکمل طور پر بازیاب ہو سکا اور نہ ہی اس غفلت یا ممکنہ کوتاہی کے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکا۔ نتیجتاً مالکانہ حقوق کے حصول کے لیے جمع کرائی گئی درخواستوں پر کارروائی تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے اور متاثرین مسلسل سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں،متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے مالکانہ حقوق کے حصول کے لیے متعلقہ دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، مگر ہر بار انہیں یہی جواب دیا جاتا ہے کہ مطلوبہ ریکارڈ \\\"ٹریس ایبل\\\" نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مختلف ادوار کی حکومتوں، متعدد کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور صوبائی حکام تک اپنی شکایات پہنچا چکے ہیں، لیکن نچلی سطح پر آج تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی،انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتی پالیسی پر عملی طور پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments