با اثر افراد کا سرکاری نکاسی آب کے تالاب پر بھی قبضہ
مٹی ڈال ڈال کر تالاب ہڑپ کرنے کا سلسلہ جاری ، کئی مقامات پر قبضہ شدہ جگہوں پر پختہ تعمیرات بھی قائم، 200 سے زائد دیہات میں نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے کا انکشافآبادیوں سے باہر بڑے بڑے تالاب بنائے گئے وقت گزرنے کے ساتھ بااثر افراد نے مبینہ طور پر ان تالابوں میں مٹی ڈال کر انہیں ختم کرنا اور سرکاری اراضی پر قبضہ جمانا شروع کردیا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں دیہی آبادیوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے بنائے گئے سرکاری نکاسی آب کے تالاب ہی قبضہ مافیا کے نشانے پر آگئے ، بااثر افراد کی جانب سے مبینہ طور پر مٹی ڈال ڈال کر آبادیوں کے باہر موجود سرکاری تالاب ہڑپ کرنے کا سلسلہ جاری ، کئی مقامات پر قبضہ شدہ جگہوں پر پختہ تعمیرات بھی قائم، 200 سے زائد دیہات میں نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے کا انکشاف، انتظامیہ کے سابقہ احکامات اور متعدد شکایات بھی سرکاری اراضی واگزار نہ کراسکیں۔ ذرائع کے مطابق سرگودھا میں چکوک کے قیام کے وقت دیہی آبادیوں سے گندے اور بارشی پانی کی نکاسی کے لیے آبادیوں سے باہر بڑے بڑے تالاب بنائے گئے تھے ، جو مکمل طور پر سرکاری جگہوں پر قائم تھے اور دیہات کے نکاسی آب کے نظام میں بنیادی حیثیت رکھتے تھے ، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بااثر افراد نے مبینہ طور پر ان تالابوں میں مٹی ڈال کر انہیں ختم کرنا اور سرکاری اراضی پر قبضہ جمانا شروع کردیا، بعض مقامات پر مٹی سے بھرے گئے تالابوں پر باقاعدہ پختہ تعمیرات بھی قائم کرلی گئیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ سابقہ انتظامیہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے قبضے ختم کروانے کے احکامات بھی جاری کرچکی ہے ، مگر احکامات فائلوں سے نکل کر عملی میدان میں نہ آسکے ، جس کے باعث قبضوں کا دائرہ مزید وسیع ہوتا چلا گیا۔ ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں لگ بھگ 200 سے زائد دیہات ایسے ہیں جہاں نکاسی آب کے لیے مختص سرکاری تالابوں پر مٹی ڈال کر مبینہ قبضے کیے جاچکے ہیں، جس کا براہ راست اثر دیہی آبادیوں کے نکاسی آب کے نظام پر پڑ رہا ہے اور بارش یا گندے پانی کے جمع ہونے کی صورت میں مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments