پٹرول ریلیف سکیم پر شہریوں کے شدید تحفظات
ٹرانسپورٹ کے کرائے ، سبزی، پھل، دودھ، اشیائے خورونوش بھی متاثر محدود رقم کا ریلیف مستقل بڑھتے ہوئے اخراجات کا متبادل نہیں بن سکتا، شہری
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے متاثرہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے مہنگے پیٹرول سے نجات کے نام سے شروع ہونیوالی وزیر اعظم کی خصوصی ریلیف سکیم کو شہریوں کی بڑی تعداد نے تاریخ کی بد ترین منصوبہ بندی قراردیدیا اورشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ زندگی کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی مہنگی ہو رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب معمولی مالی امداد کو بڑے ریلیف پیکیج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ شہریوں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر صرف موٹر سائیکل یا گاڑی چلانے والے شخص تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے کرائے ، سبزی، پھل، دودھ، اشیائے خورونوش اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
، جس سے کم آمدنی والے خاندانوں کے ماہانہ بجٹ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے ، اگر ایک عام گھرانے کے سفری اخراجات اور دیگر ضروری اخراجات میں پٹرولیم قیمتوں کے باعث سینکڑوں یا اس سے زائد روپے کا اضافہ ہو رہا ہو تو اس کے مقابلے میں محدود رقم کا ایک مرتبہ ریلیف مستقل بڑھتے ہوئے اخراجات کا متبادل نہیں بن سکتا۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ حکومت کو ایسے ریلیف پروگرام مرتب کرتے وقت صرف براہِ راست مالی امداد کے بجائے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مجموعی معاشی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے ، کیونکہ مہنگا ایندھن پورے سپلائی اور ٹرانسپورٹ نظام کو متاثر کرتا ہے ۔ محض نقد رقم کی تقسیم سے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں، بلکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے سفری اخراجات کم کرنے ، پبلک ٹرانسپورٹ کو سستا بنانے ، ضروری اشیا کی قیمتوں میں استحکام اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے مؤثر اور براہِ راست امدادی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments