اسلام آباد ہائیکورٹ: فیصل واوڈا کی نااہلی کیخلاف اپیل مسترد، الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار
اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے تحریک انصاف کے سابق سینیٹر فیصل واؤڈا کی الیکشن کمیشن نااہلی فیصلہ کے خلاف اپیل کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ موجود نہیں، فیصل واوڈا کا اپنا طرز عمل ہی موجودہ نتائج کا باعث بنا ہے ، نااہلی برقرار رہے گی ۔
سماعت کے دوران فیصل واؤڈا کے وکیل وسیم سجاد عدالت پیش ہوئے اور کہاکہ تاحیات نااہلی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،الیکشن کمیشن کو بار بار بتایا کہ وہ کورٹ آف لا نہیں،الیکشن کمیشن کو نااہل قرار دینے کا اختیار نہیں تھا، فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے ،چیف جسٹس نے کہاکہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی جمع کرانے کی آخری تاریخ کیا تھی ؟،وکیل نے بتایاکہ 11 جون 2018 کو بیان حلفی جمع کرایا،چیف جسٹس نے کہاکہ 3 سال سے فیصل واوڈا کیس چل رہا ہے ، حقائق بتائیں،آپ ٹیکنیکل دلائل دے رہے ہیں ہمیں حقائق بتائیں الیکشن کمیشن نے کیا غلطی کی؟سپریم کورٹ نے بیان حلفی بتایا اور کہا کہ اگر جھوٹا ہوا تو نتائج بھگتنا ہوں گے۔
وکیل نے کہاکہ فیصل واوڈا نے جان بوجھ کر جھوٹا بیان حلفی نہیں دیا،چیف جسٹس نے کہاکہ اگر الیکشن کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ بیان حلفی جھوٹا ہے تو پھر کیا کرتا ؟،عدالت کو صرف یہ بتائیں کہ فیصل واوڈا کیسے صاف نیتی ثابت کرتے ہیں؟، وسیم سجاد ایڈووکیٹ نے کہاکہ الیکشن کمیشن بیان حلفی کی انکوائری کر سکتا ہے ، دیکھنا یہ ہو گا کہ اس کے بعد کیا پراسیس ہے ؟، چیف جسٹس نے کہاکہ کیا الیکشن کمیشن انکوائری کر کے کیس سپریم کورٹ کو بھجوائے ، وکیل نے کہاکہ اگر جھوٹا بیان حلفی آئے تو اس کے خلاف انکوائری کے بعد کورٹ آف لا کو کارروائی کا اختیار ہے ،چیف جسٹس نے کہاکہ کیا سپریم کورٹ اس پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے ؟،صرف اس بینچ کو اتنا سمجھا دیں کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کا کیا کریں؟، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ جھوٹے بیان حلفی کے سنگین نتائج ہوں گے ۔
الیکشن میں جھوٹے بیان حلفی پر توہین عدالت کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ انسان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے لیکن کیا فیصل واوڈا نے آج تک شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ دیا؟اپنی بے گناہی اور صاف نیتی فیصل واوڈا نے ثابت کرنی تھی،وکیل نے کہاکہ جس بیان حلفی کو جھوٹا قرار دیا گیا فیصل واوڈا بطور ایم این اے اس سے مستعفی ہوچکے ، چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت بیان حلفی پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو کیسے نظر انداز کرے ؟،کیا فیصل واوڈا کل تک امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت پیش کرسکتے ہیں؟، وسیم سجاد ایڈووکیٹ نے کہاکہ فیصل واؤڈا کا بیان حلفی اگر جھوٹا بھی ثابت ہو تو وہ صرف بطور رکن قومی اسمبلی نااہل ہو سکتے تھے ، وہ بطور رکن اسمبلی مستعفی ہو چکے ہیں۔
تاحیات نااہلی کا فیصلہ نہیں ہو سکتا،جس الیکشن کے لیے بیان حلفی جمع کرایا گیا صرف اسی نشست کے لیے نااہل ہو سکتے ہیں،اگر بیان حلفی کورٹ آف لاء کے سامنے جھوٹا ثابت ہو تو پھر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے ، تاحیات نااہلی سیاست میں سزائے موت کی طرح ہے ،سیاست دان کے لیے تاحیات نااہلی کا آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف \"سزائے موت\" ہے ،چیف جسٹس نے کہاکہ لیکن یہ سزائے موت بہت سے سیاست دانوں کو مل چکی ہے ،پارلیمنٹ نے اس کے باوجود اس آرٹیکل کو رکھا ہوا ہے ،دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیااور بعد ازاں جاری اپنے فیصلہ میں عدالت نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا حکم سنادیا۔
اپنے فیصلہ میں عدالت کاکہنا ہے کہ فیصل واوڈا کی نااہلی برقرار رہے گی،فیصل واؤڈا نے نااہلی کیس میں کارروائی سے بچنے کے لیے استعفی ٰدیا،طویل عرصہ تک کمیشن اور کورٹ کے سامنے فیصل واوڈا تاخیر کرتے رہے ،فیصل واڈا نے شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے سے بھی انکار کیا، فیصل واوڈا کی ذمہ داری تھی کہ دوہری شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش کرکے اپنی نیک نیتی ثابت کرتے ،عدالت کایہ بھی کہناہے کہ الیکشن کمیشن میں کارروائی شروع ہونے پر واوڈا نے پھر ہائیکورٹ سے رجوع کیا، ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو 60 روز میں فیصلہ کرنے کا کہا،الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہائیکورٹ میں ہوئی کارروائی کے نتیجے میں ہی آیا۔؎
فیصل واوڈا بعد میں قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر سینیٹر بن گئے ، فیصل واوڈا کے سیٹ چھوڑنے پر درخواست نمٹائی گئی،ہائیکورٹ نے کہا تھا الیکشن کمیشن بیان حلفی کے سچے یا جھوٹے ہونے پر فیصلہ کرے ،فیصل واوڈا نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیاتھا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت کیس میں سابق وزیر فیصل واوڈا کو نااہل قرار دیا ہے اور ان کا بطور سینیٹر نوٹیفکیشن واپس لینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ان کا بطور سینیٹر الیکشن کمیشن سے جاری نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ۔