صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کو تیار:آفریدی

صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کو تیار:آفریدی

فیلڈمارشل سے ملوں گا، پشاور کو لاہور جیسی ترقی نہیں دینگے ، وہاں جلسوں پر پابندی آج بھی آپریشنز کے مخالف،نقل مکانی پر معاوضے صوبائی حکومت ادا کریگی

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے مجھے نہیں کہا تاہم صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کیلئے تیار ہوں۔ پشاور میں سینئر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا بات چیت کا ٹاسک محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے حوالے کیا گیا ہے ، بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات نہیں کرائی جا رہی ہے ، ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں۔ حکومت اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو عوامی مفادات کے مطابق ہو۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملوں گا۔انہوں نے کہا کہ پشاور کو ترقی دیں گے تاہم لاہور جیسی نہیں جہاں جلسہ جلوس کرنے پر پابندی ہے ، وفاق نے ضم اضلاع کے لیے اے آئی پی کے تحت 1000ارب میں سے 700 ارب روپے بقایاجات ابھی تک ادا نہیں کیے ۔

مرکز سے ملنے والا پیسہ ترتیب سے ضم اضلاع میں خرچ کیا جائے گا، ترقی کا عمل شروع ہونے سے ضم اضلاع میں عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوجائے گا، بجلی کے خالص منافع اور دیگر بقایاجات کی مد میں وفاقی حکومت نے ہمارے 4 ہزار ارب روپے سے زیادہ دینے ہیں۔انہوں نے کہا تیراہ سمیت جہاں سے بھی لوگ نقل مکانی کرتے ہیں، معاوضوں کی ادائیگی صوبائی حکومت ہی کرے گی تاہم آج بھی بانی پی ٹی آئی کی پالیسی پر کھڑے اور آپریشنز کے مخالف ہیں، انہوں نے کہا اپنے صوبے میں بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کی کوشش کر رہے ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ ہم پیسکو کو ہی صوبائی حکومت کے زیرانتظام لانے کے لیے کوئی قدم اٹھالیں۔انہوں نے کہا لاہور میں دورے کے دوران ہم سے غلط زبان کا استعمال ہوا لیکن وہ عمل کا ردعمل تھا، ہم نے اپنے دورہ لاہور کے دوران غلط زبان کے استعمال پر معذرت کرلی ہے ۔سہیل آفریدی نے کہا کہ کراچی کے دورے کا پلان تیار کر رہے ہیں، کراچی میں آئی ایس ایف، آئی ایل ایف سے ملاقاتیں کریں گے ۔احتجاج سے متعلق انہوں نے کہا کہ 8 فروری کا احتجاج ہر صورت ہوگا، جنہوں نے مذاکرات کرنے ہیں وہ مذاکرات کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں