31 دسمبر 2025ء کے آخری سورج کو جب میں نے شام کی منڈیر سے دیکھا تو امجد اسلام امجد کی نظم ''دائرے‘‘ بہت یاد آئی:
ہم لوگ؍ دائروں میں چلتے ہیں؍ دائروں میں چلنے سے؍ دائرے تو بڑھتے ہیں؍ فاصلے نہیں گھٹتے؍ آرزوئیں جلتی ہیں؍ جس طرف کو جاتے ہیں؍ منزلیں تمنا کی؍ ساتھ ساتھ چلتی ہیں؍ گرد اڑتی رہتی ہے؍ درد بڑھتا جاتا ہے؍ راستے نہیں گھٹتے؍ صبح دم ستاروں کی تیز جھلملاہٹ کو؍ روشنی کی آمد کا پیش باب کہتے ہیں؍ اک کرن جو ملتی ہے‘ آفتاب کہتے ہیں؍ دائرے بدلنے کو انقلاب کہتے ہیں
اس نظم میں وطنِ عزیز کی کہانی آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ 78برس سے ہم اسی دائرے میں چلتے چلے جا رہے ہیں۔ بس نام بدلتے ہیں کردار وہی رہتے ہیں۔ انداز وہی رہتے ‘اطوار بھی نہیں بدلتے۔ اسی بنا پر قلمکاروں کی تحریریں بھی دائروں میں سفر کرتی ہیں۔ قومیں دائروں میں چکر کاٹنے سے نہیں سوچ کے زاویے بدلنے اور دائروں سے نکلنے اور خطِ مستقیم میں آگے بڑھنے سے بدلتی ہیں جیسے چینیوں کو شاہراۂ ترقی پر آگے بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ جہاں تک ہمارا حال ہے تو نہ ہم بدلے‘ نہ تم بدلے نہ دل کی آرزو بدلی۔ ہمارے سیاستدانوں کے رویے بھی وہی ہیں‘ ہمارے مہربانوں کے رویے بھی وہی ہیں‘ سرخ فیتے والوں کے رویے بھی وہی ہیں۔ پسِ دیوارِ زنداں رویے بھی وہی ہیں اور بیرون ِزنداں‘ اپنی اناؤں کے زندانیوں کی سوچ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
جہانبانی خود نمائی کا نام نہیں۔ قدِ آدم تصاویر چوکوں چوراہوں میں آویزاں کرنے سے نہیں‘ تبدیلی دلگداز رویوں سے آتی ہے۔ بندئہ مزدور کے اوقات تلخ تر ہو گئے‘ مہنگائی اتنی کہ غریب کیلئے دال روٹی بھی میسر نہیں۔ اپنی کھولی کا کرایہ دے تو گھر ٹمٹماتی روشنی سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ بجلی کا بل دے تو بچے سکولوں سے نکال باہر کیے جاتے ہیں۔ غریب بیمار پڑ جائے تو سرکاری ہسپتالوں میں کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اہلِ خیر کے شفا خانوں میں جائے تو اُن کی لکھی ہوئی داؤں کے پیسے کہاں سے لائے۔ اگر غریب شو میٔ قسمت سے کسی مقدمے میں پھنس جائے تو عدالتوں اور وکیلوں کی فیسیں کہاں سے لائے۔ یہ فیسیں ادا کرنے کیلئے سود خوروں سے قرض لے تو ساری زندگی کا لاعلاج روگ پال لے۔
یہ درویش لاہور کی ایک ایسی بستی کا مکیں ہے کہ جہاں کبھی صفائی ستھرائی اور سکیورٹی کا نظام مثالی تھا‘ اب یہاں کتوں کے غول کے غول پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔31دسمبر کی دھند آلود صبح 9 بجے کے قریب پارک میں واک کیلئے گیا تو مجھے خاصا عجیب سا منظر دکھائی دیا۔ پلاسٹک کے ڈرموں سے کوڑا اٹھانے والی گاڑی کے بجائے مجھے بستی کا ایک کارکن نظر آیا جو ہاتھ سے ڈرموں کے باہر اور اندر سے کچھ گتے کاغذ چن کر ایک بوری میں ٹھونس رہا تھا۔ میں نے اسے سلام کیا اور پوچھا کہ کیا کوڑا اٹھانے کیلئے گاڑی نہیں آئے گی؟ اس نے کہا : گاڑی تو آئے گی مگر ہماری ڈیوٹی فٹ پاتھ صاف کرنے کی ہے۔ میں نے کہا کہ فٹ پاتھوں پر تو آج کل دھول جمی ہے۔ اس نے کہا : افسران نے ملازمین کی چھانٹی کر دی ‘ ہمیں جھاڑو تک نہیں دیے جاتے‘ میری تنخواہ پہلے ہی کتنی تھی ‘اس میں سے بھی پانچ ہزار کی کٹوتی کر دی گئی ہے۔ میں بوری میں جو کاغذ‘ گتے وغیرہ ڈال رہا ہوںوہ شام کو بیچ دیتا ہوں یوں سو دو سو روپے مل جاتے ہیں جن سے ہانڈی روٹی کا کچھ بندوبست ہو جاتا ہے۔ حکمران اب تک اپنے رویے بدلنے کو تیار نہیں۔ ابھی چند روز پہلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواداتا نگری آئے تو یہاں اُن سے جو سلوک اختیار کیا گیا وہ اس نگری کے شایانِ شان نہ تھا۔ لاہوریوں کی مہمان نوازی تو بہت مشہور ہے۔ آج تک ہمارے حکمرانوں کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ عداوت کو مرّوت سے‘ نفرت کو محبت سے‘ تُندی کو نرمی سے اور تلخی کو شیرینی سے مات بلکہ شہ مات دی جا سکتی ہے۔اگر وزیراعلیٰ صاحبہ ایک دوسرے صوبے کے ہم منصب کے ذاتی وزٹ کو محفوظ اور خوشگوار بنانے کیلئے فراخدلی سے انتظام و اہتمام کرتیں تو پاکستان میں ہی نہیں پاکستان سے باہر بھی ان کی مہمان نوازی کی تعریف و توصیف کی جاتی۔ مگرترجمانوں کی ترجمانی میں کچھ اپنے اضافی نمبر بنانے کی خواہش بہت زیادہ حدت و حرارت پیدا کر دیتی ہے۔ ہمیں یہ سن کر افسوس ہوا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان شفیع اللہ جان کا محترمہ عظمیٰ بخاری صاحبہ کے بارے میں بیان غیر شائستہ اور نامناسب تھا۔ البتہ سالِ نو کے پہلے روز کے اخبارات میں شفیع اللہ جان کی عظمیٰ بخاری صاحبہ سے معذرت کی خبر پڑھ کر قدرے اطمینان ہوا کہ انہوں نے خود سمجھا کہ اُن کا رویہ نامناسب تھا۔
اب آئیے اسلام آباد کی جانب جہاں ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف صاحب نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کی مگر دوسری طرف اُن کی حکومت نے مذاکرات کیلئے موافق نہیں ناموافق ماحول پیدا کر دیا ہے۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ تحریک انصاف کے اعتدال پسند چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران سے ملاقات کی بھیک مانگتا ہوں۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ صاحب ِاقتدار دل بڑا کریں۔ 2025ء میں دشمن کے ساتھ سیز فائر ہوا مگر ہمارا آپس کا تناؤ ختم نہ ہوسکا۔ عمران خان کی بہنوں کا اڈیالہ روڈ پر رات گئے تک دھرنا کئی ہفتوں سے ایک روایت بن چکا ہے۔ بعض اوقات شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے والے اہلکار معزز خواتین کو وہاں سے ہٹانے کیلئے اس سرد موسم میں اُن پر پانی چھڑک دیتے ہیں۔ اگر بہنوں‘ وکیلوں اور آمادئہ مفاہمت سیاستدانوں کی قیدی کے ساتھ ملاقات نہیں ہو گی تو بات کیسے آگے بڑھے گی؟ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیّر بخاری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر نہ آئی تو اپنا اور ملک کا نقصان کرے گی۔ اگر یہ لوگ تیار ہیں تو پھر بات آگے کیوں نہیں بڑھ رہی؟ 31دسمبر کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی سابق ہر دلعزیز وزیراعظم محترمہ خالدہ ضیا کی تدفین کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے آگے بڑھ کر پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق سے مصافحہ کیا۔ مئی کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کا اعلیٰ سطح پر یہ پہلا مصافحہ ہے‘ جسے بہت سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے سے نہ صرف دونوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ یہ خطے کے امن کیلئے بھی بہت ضروری ہے۔ جنگی ماحول کے خاتمے سے دونوں پڑوسی ملک اپنے اپنے عوام کی خوشحالی کیلئے اپنے وسائل استعمال کرسکیں گے۔ مسئلہ کشمیر بھی حل ہو گا۔
کیا ہی اچھا ہو کہ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے پہلے ہمارے گھر میں سیاست دانوں کے آپس میں تعلقات معمول پر آ جائیں۔ نیو یارک سے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2026ء کا سال انسانی طرزِ زندگی‘ سیاست‘ ٹیکنالوجی اور سماجی رویوں میں نمایاں تبدیلی لے کر آئے گا۔ سادہ موبائل فون سٹیٹس سمبل بن جائیں گے۔ مصنوعی ذہانت سے بیزاری پیدا ہو جائے گی۔ کیا ہم بھی 2026ء میں اپنی سیاست اور اپنے سماجی رویوں میں تبدیلیاں لے آئیں گے؟
احسان دانش نے شاید ہمارے بارے میں ہی کہا تھا:
یوں خود فریبیوں میں سفر ہو رہا ہے طے
بیٹھے ہیں پل پہ اور نظر ہے بہاؤ پر
کیا 2026ء میں موجودہ حکومت پل سے اُتر آئے گی؟ کیا وہ پرانے دائرے میں ہی چکر کاٹتی رہے گی یا کسی نئے دائرے کی اسیر ہو جائے گی؟ جناب امجد اسلام امجد نے اپنی نظم کی آخری سطر میں کہا تھا:
دائرے بدلنے کو انقلاب کہتے ہیں
اپنے مرحوم دوست کے ایک لفظ کو بدل کر میں یوں کہوں گا
'رویے‘ بدلنے کو انقلاب کہتے ہیں