میں ماضی پرست بالکل بھی نہیں لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ میں ماضی بیزار تو ہرگز بھی نہیں ہوں۔ ماضی اگر تنگی میں گزرا ہو اور اللہ نے اب آسانیاں فراہم کر دی ہوں تو ماضی کو یاد کرکے حال پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اگر ماضی میں کوتاہیاں کی ہیں تو ان سے سبق حاصل کرتے ہوئے حال میں ان سے بچنا چاہیے۔ لیکن ان سب کیلئے ماضی کو یاد کرنا از حد ضروری ہے۔ ماضی سے لطف لیا جانا چاہیے کہ زندگی میں بچپن ہی وہ خوبصورت دور ہے جس میں کوئی چھل کپٹ‘ فریب اور دھوکا نہیں ہوتا۔ ماضی اگر خراب بھی گزرا ہے تو اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ برا وقت اب گزر چکا ہے۔ وہ جو اختر انصاری نے کہا ہے کہ:
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب ؍ چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ اللہ جانے اُس وقت شاعر کو کیا یاد آیا تھا اور اس کی کیا کیفیت تھی۔ بہرحال ماضی اتنا برا ہرگز نہیں ہوتا جتنا درج بالا شعر سے ظاہر ہوتا ہے۔ عمر کے اس حصے میں ماضی میرے لیے ایک پُرلطف کہانی ہے۔ ایسی کہانی جس سے میں خود تو بھرپور لطف لیتا ہی ہوں لیکن خواہ مخواہ اپنے قارئین کو بھی وقتاً فوقتاً اس میں شامل کر لیتا ہوں‘ لیکن کیا کروں! بچپن میں کہانیاں سننے کا یہ شوقین بچہ جو اَب مائل بہ بڑھاپا ہے‘ اس کا دل کرتا ہے کہ اپنی کہانیاں وہ دوسروں کو سنائے‘ نئے لوگوں کو اپنے زمانے سے متعارف کرائے‘ اپنے ماضی کو حال سے جوڑے تاکہ کہانی چلتی رہے۔ اب اس لکھاری کے پاس اپنے قارئین کے علاوہ بھلا اور کون ہیں جن سے وہ اپنے گزرے دن‘ ماضی کی باتیں‘ مٹتے ہوئے رسم و رواج‘ ماند پڑتے ہوئے تہذیبی ورثے اور بدلتے ہوئے ماحول کی یادیں بانٹ سکے اور اپنی زندگی کی کہانیاں سنا سکے۔ ویسے یہ عاجز کوشش کرتا ہے کہ اسکی کہانی کا کوئی نہ کوئی سرا ہمارے حال سے جڑا ہوا ہو تاکہ جب کہانی ماضی سے حال کا سفر طے کرے تو یہ قلمکار اور قارئین ایک کشتی کے سوار بن کر اس سے لطف لیں۔
کالم تو پاکستان کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی پر لکھنے کا ارادہ کرتے ہوئے شروع کرنا تھا مگر حسبِ معمول خیال کہیں اور بھٹک گیا اور مجھے اپنا پرانا کلاس فیلو نسیم یاد آ گیا۔ نسیم یاد آیا تو رخشِ خیال اپنے راکب سمیت چشم زدن میں اٹھاون برس پیچھے چلا گیا۔ میں چھٹی کلاس میں گورنمنٹ سکول گلگشت کالونی میں داخل ہوا تو ماسٹر گلزار ہمارے کلاس انچارج تھے۔ عالم یہ تھا کہ چھٹی کلاس میں بھی میں ان چند بچوں میں شامل تھا جنہیں اے بی سی اور اسے جوڑ کر تھوڑے بہت لفظ بنانے آتے تھے وگرنہ لطف آباد‘ نیل کوٹ اور اڈہ بوسن کے پرائمری سکولوں سے آنے والے بچوں کو تو اتنی انگریزی بھی نہیں آتی تھی اور کلاس میں ایسے ہی بچوں کی اکثریت تھی۔ میونسپل پرائمری سکول چوک شہیداں میں‘ جہاں سے میں نے پرائمری جماعت تک تعلیم حاصل کی‘ سرے سے انگریزی پڑھائی ہی نہیں جاتی تھی۔ اور اسی سکول پر کیا موقوف؟ کسی بھی سرکاری سکول میں پانچویں کلاس تک انگریزی کا کوئی چلن نہ تھا۔ ملتان میں تب صرف جونیئر سکول اور کانوونٹ میں ابتدائی جماعتوں سے انگریزی پڑھائی جاتی تھی۔ پرائیویٹ تعلیم کی مشروم پیداوار کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔
ادھر ہم چھٹی کلاس میں داخل ہوئے اور اُدھر علی اور نسیمہ کے ساتھ مسٹر علی اور مسز جمیلہ کے معاملات پر مشتمل انگریزی کتاب ہمارے لیے مسئلہ بن کر نازل ہو گئی۔ ساری کلاس نئی تھی؛ البتہ ایک دانہ پرانی والی چھٹی کلاس سے لڑھک کر ہمارے ساتھ آن شامل ہوا۔ اس کی باقی کلاس ساتویں میں چلی گئی تھی۔ یہ اکلوتا دانہ نسیم تھا۔ اللہ بخشے ماسٹر گلزار صاحب اسے شہزادہ کہا کرتے تھے۔ ان کے بقول نالائق‘ غبی اور لاپروا ہونے کیساتھ ساتھ ایسا مطمئن طالبعلم ان کی نظروں سے پہلے بھلا کہاں گزرا ہوگا۔ ادھر میرا بھولپن ملاحظہ کریں کہ میں اسے سینئر طالبعلم سمجھتے ہوئے گمان کرتا کہ بھلے وہ فیل ہو کر اسی کلاس میں رہ گیا ہے لیکن بہرحال وہ یہ سارا کورس پہلے ایک بار پڑھ چکا ہے اس لیے وہ ہم سے کہیں زیادہ علم و فضل کا مالک ہوگا۔ دو چار دن بعد ماسٹر گلزار نے انگریزی کا ٹیسٹ لینے کیلئے ہمیں کلاس سے باہر لے جا کر درختوں تلے بٹھا دیا اور اردو میں جملے لکھواتے ہوئے ان کا انگریزی ترجمہ کرنے کا کہا۔ اتنے سال بعد بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بھولے بھالے محمد افضل نے دبی دبی آواز میں اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے نسیم سے کسی اردو لفظ کی انگریزی پوچھی۔ پیچھے کھڑے ہوئے ماسٹر گلزار صاحب نے افضل کو کان سے پکڑ کر اٹھایا اور اس کے کان کو مزید مروڑتے ہوئے کہنے لگے: میں تمہارا کان اس لیے نہیں مروڑ رہا کہ تم نقل مارنے کی کوشش کر رہے ہو بلکہ اس حماقت کی وجہ سے مروڑ رہا ہوں کہ تم اس شہزادے سے پوچھ رہے ہو جو خود اپنے سے آگے والے سے پوچھ رہا ہے۔
فیل ہونا ہمارے لیے تو بڑی شرم اور ''نموشی‘‘ والی بات تھی مگر نسیم اس معاملے میں خاصا بے فکر ہونے کے باوجود اگر کسی مضمون میں کلاس میں اکلوتا فیل ہوتا تو اسے محض چند منٹ کیلئے ملال ہوتا اور پھر وہ دوبارہ اپنی اسی پرانی فارم میں آ جاتا۔ یہ صرف اس وقت ہی ہوتا جب پوری کلاس میں سے اس مضمون میں فیل ہونیوالا وہ یک و تنہا طالبعلم ہوتا۔ اگر اس کیساتھ دو چار اور لڑکے بھی فیل ہو جاتے تو اسکا اطمینان قابلِ دید ہوتا۔ بلکہ اطمینان تو میں نے از راہِ مروت لکھ دیا ہے وہ باقاعدہ خوش دکھائی دیتا اور اس کی باچھیں تو اس وقت کھل اٹھتیں جب اسے یہ معلوم ہوتا کہ کسی فیل ہونیوالے طالبعلم کے نمبر اس سے بھی کم ہیں۔ اب فیل تو فیل ہوتا ہے‘ بھلا اس میں کیا درجہ بندی اور کیا نمبروں کا موازنہ۔ مگر نسیم فیل ہونے میں بھی درجہ بندی کا قائل تھا اور کسی کلاس فیلو کے اپنے سے کم نمبر لے کر فیل ہونے کی صورت میں باقاعدہ خوشی محسوس کرتا اور اس کا فخر و انبساط دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔
قارئین! اب تو معذرت کرتے بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے لیکن کیا کروں جب قلم کا گھوڑا میرے قابو سے باہر نکلتا ہے تو پھر اپنی مرضی کرتا ہے۔ میں اس معاملے میں لاکھ کوشش کے باوجود خود کو بے بس اور لاچار پاتا ہوں۔ ویسے بھی بگٹٹ بھاگتے ہوئے رخشِ خیال کو روکنا کسی ماہر راکب کا ہی کام ہو سکتا ہے اور یہ عاجز اس معاملے میں خاصا نالائق واقع ہوا ہے۔ آج اٹھاون برس بعد نسیم اور اس کا فیل ہونے کے باوجود اپنی بہتر درجہ بندی پر خوش ہونا صرف اس لیے یاد آیا کہ میں خود اس ملک کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی پر‘ ناقابلِ تصور شرحِ پیدائش پر‘ آبادی کے بڑھتے ہوئے دبائو کے مدنظر اپنے معاشرتی اور معاشی مستقبل پر‘ اڑھائی کروڑ سے زائد بچوں کے آئوٹ آف سکول ہونے پر‘ ان اڑھائی کروڑ بچوں سے اگلے دس بارہ سال بعد بننے والے کسمپرسی کے شکار خاندانوں پر‘ ملکی وسائل کی ترقی سے زیادہ شرح سے بڑھنے والی آبادی پر اور آبادی کے اس ٹائم بم کے پھٹنے کے خوف میں مبتلا رہتا ہوں لیکن آج ایک تقابلی ڈیٹا دیکھ کر دل کو تسلی ہوئی‘ ایک گھٹیا سی خوشی محسوس ہوئی اور ایک نامعلوم سا اطمینان محسوس ہوا کہ آبادی میں اضافے کی شرح میں ہمارا بہرحال پہلا نمبر نہیں ہے۔ دنیا بھر میں فی شادی شدہ عورت بچے پیدا کرنے کی تعداد کے لحاظ سے 6.03 بچوں کے ساتھ چاڈ پہلے نمبر پر ہے‘ صومالیہ دوسرے‘ کانگو تیسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان 3.55بچے فی شادی شدہ خاتون کے حساب سے اس فہرست میں 19ویں نمبر پر ہے۔ اگر شرحِ پیدائش کے حوالے سے آبادی میں اضافے کی فہرست دیکھیں تو اس میں نائجر5.1 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ پہلے‘ مالی دوسرے اور یوگنڈا تیسرے نمبر پر ہے‘ ہمارا ہمسایہ افغانستان چوتھے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان 2.55 فیصد کی شرح کے ساتھ 27ویں نمبر پر آتا ہے۔ اپنا نمبر اتنا نیچے دیکھ کر ایک کمینی سی خوشی‘ ایک گھٹیا سا اطمینان ہوا اور نسیم یاد آ گیا۔ باقی تفصیل پھر سہی۔