ذوالفقار چیمہ کی کتاب ’’جہد مسلسل‘‘ شہاب نامہ سے زیادہ دلچسپ قرار
ذوالفقار چیمہ با کردار پولیس افسر ، حکمرانوں کا دباؤ قبول کیانہ غیر قانونی حکم مانا:مقررین مصنف نے فکر اقبال کا پرچم اٹھایا تو اسے حرز جاں بنالیا ،خود نوشت مقبول ترین ثابت ہو گی ’’جہد مسلسل ‘‘ کی تقریب رونما ئی سے انجینئر سرفراز احمد ،سید نذیر تابش و دیگر کا اظہار خیال
اسلام آباد(دنیا رپورٹ ) پولیس سروس کے سپر سٹار اور تمام سول سروسز کے رول ماڈل سابق انسپکٹر جنرل پولیس ذو الفقار احمد چیمہ کی خود نوشت ’’جہد مسلسل ‘‘شائع ہو گئی جس کے افتتاح کی تقریب میں ہر طبقہ فکر کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی ۔اہل قلم کی رائے کے مطابق سول سرونٹس ، اسا تذہ اہل علم و دانش، خواتین اور نو جوانوں میں غیر معمولی پذیرائی پانے وا لی کتاب جہد مسلسل ، شہاب نامہ سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔
تقریب میں سابق چیف سیکرٹری کے پی عابد سعید ، سابق آئی جی ظفر عباس، سابق فیڈرل سیکرٹری ڈاکٹر شجاعت ، ڈائریکٹر جنرل نیپا فاروق مظہر ، معروف مصنف اور استاد اشفاق ورک ، ایڈیٹر نوائے وقت دلاور چودھری، جیو چینل کے بیورو چیف رئیس انصاری، سٹی 42کے ایڈیٹر نوید چودھری، ویمن چیمبر کی صدر مسز فلاحت عمران ، معروف شاعر ناصر بشیر ،معروف شاعرہ ڈاکٹر سعد یہ بشیر، معروف ادیبہ ڈاکٹر عائشہ عظیم، معروف مصنف شاہد ظہیر سید، معروف آرکیٹیکٹ انجینئر سرفراز احمد، اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل شہباز شیخ، سید تنویر عباس تابش، نوید الحسن ، حامدہ طارق، چودھری جاوید سلیم ، ارشد میلا، سلمان چٹھہ، الیاس بٹ، حفظہ طاہر اور دیگرنے شر کت کی اور انہوں نے مصنف سے دستخط شدہ کتا بیں وصول کیں۔
معروف آرکیٹیکٹ انجینئر سرفراز احمد نے کہا ہے ذوالفقار چیمہ با کردار، باضمیر اور دیانتدا ر افسر رہے ، وہ پولیس کے ہر شعبے میں بہتری لائے ، کبھی کسی حکمران کا دباؤ قبول کیانہ کبھی کسی کا غیر قانونی حکم مانا ۔ پچھلی نصف صدی میں ان جیسا کوئی اور سول سرونٹ نظر نہیں آتا، پھر جب انہوں نے قلم پکڑا تو اس میں بھی کمال کر دکھایا ، وہ سچ لکھتے ہیں ، دوٹوک لکھتے ہیں ۔ انہوں نے فکر اقبال کا پرچم اٹھایا تو اسے بھی حرز جاں بنالیا ۔ جہد مسلسل کے چند باب پڑھ کر ہی اندازہ ہورہا ہے کہ یہ مقبول ترین خودنوشت ثابت ہوگی جسے چند دنوں میں ہی بے حد پذیرائی حاصل ہوگئی ہے ۔سابق بینکر اور معروف علمی اور ادبی شخصیت سیدنذیر تا بش نے کہا ہے کہ جہد مسلسل کی تحریر قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے ، کئی اہل قلم نے کہا کہ جہد مسلسل شہاب نامہ سے زیادہ دلچسپ ہے کیونکہ شہاب صاحب صرف ایک ضلع کے ڈی سی رہے تھے جبکہ چیمہ صاحب کا فیلڈ کا تجربہ بہت وسیع اور متنوع ہے اور واقعات بھی تازہ اور آج کے دور کے ہیں جو قاری کیلئے زیادہ relevant ہیں۔