ہائیکورٹس ججز کی تقرری کیلئے انٹرویو لازمی قرار دینے کی سفارش

ہائیکورٹس ججز کی تقرری کیلئے انٹرویو لازمی قرار دینے کی سفارش

جسٹس عامر فاروق کی زیر صدارت رولز کمیٹی نے سفارشات جوڈیشل کمیشن کو بھجوادیں ہائیکورٹس کے21ججز کیخلاف شکایات، سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14مئی کو طلب

لاہور (محمد اشفاق سے )ہائی کورٹس کے جج کی تقرری کیلئے امیدوار کا انٹرویو لازمی قرار دینے کی سفارشات جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئیں ۔ وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے رولز سے متعلق رولز کمیٹی کا اعلیٰ سطح اجلاس ہوا ، جس میں اٹارنی جنرل،ممبر احسن بھون ،فاروق ایچ نائیک اور بیرسٹر سید علی ظفر نے شرکت کی ۔اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا کہ ہائی کورٹس کے جج کی تقرری کے لیے امیدوار کا انٹرویو کون کرے گا؟ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایک رائے یہ سامنے آئی کہ جوڈیشل کمیشن ہی امیدوار کا انٹرویو کرے جبکہ دوسری تجویز یہ تھی کہ سات رکنی کمیٹی کے سامنے امیدوار پیش ہو کر انٹرویو دے ۔ کمیٹی کے اکثریتی فیصلے کے بعد پانچ رکنی کمیٹی کا فیصلہ ہوا ۔جس کے بعد کمیٹی نے سفارشات جوڈیشل کمیشن کو ارسال کر دی ہیں ۔

کمیٹی کی سفارشات کا جوڈیشل کمیشن جائزہ لے کر منظوری دے گا ۔ جوڈیشل کمیشن کے رولز نہ ہونے کے باعث بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی نئی تقرریاں موخر کر دی گئی تھیں۔دریں اثنا ملک بھر کی ہائی کورٹس کے 21 ججز کے خلاف مختلف شکایات پر چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14 مئی کو طلب کر لیا ، اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم اور کونسل کے دیگر ممبران شرکت کریں گے ،اجلاس میں ہائی کورٹس کے 21 ججز کے خلاف مختلف شکایات پر غور کیا جائے گا اور اس حوالے سے شکایات پر کارروائی کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے بھی فیصلے کا امکان ہے جن ججز کے خلاف شکایات ہیں ان میں لاہور ہائی کورٹ ،اسلام آباد ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے ججز بھی شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں