توجہ ٹیکس نیٹ بڑھانے پر مرکوز،بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا:وزیر خزانہ
غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ، موجودہ ٹیکس دہندگان کو مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے یہ سٹر ٹیجک تبدیلی دستاویزی معیشت کے فروغ اور پائیدار مالیاتی استحکام کا باعث بنے گی ،محمد اورنگزیب
اسلام آباد (دنیا نیوز )وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے بجٹ میں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ، وزیرِ خزانہ نے تصدیق کی کہ حکومت بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کرے گی ، ٹیکس دہندگان پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالیں گے بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز ہے ، اس کے برعکس آنے والی مالیاتی حکمتِ عملی کا پورا رخ موجودہ ٹیکس نیٹ کو مستحکم اور وسیع کرنے کی طرف ہوگا ، غیر دستاویزی شعبوں کو معاشی دائرہ کار میں لا کرموجودہ ٹیکس دہندگان سے مزید ٹیکس کے بجائے ٹیکس دہندگان میں اضافہ کیا جائے ، جس سے معاشی استحکام کے لئے بہتر بنیاد فراہم ہوگی ، کاروباری حلقوں اور عوام کے حق میں ایک مثبت رویہ اپناتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے اعلان کیا کہ آنے والے بجٹ میں نئے ٹیکس متعارف کروانے سے گریز کیا جائے گا اور اس کے بجائے قومی ٹیکس بیس کو بڑھانے کو ترجیح دی جائے گی ، اس کا بنیادی مقصد معیشت کے اب تک ٹیکس سے باہر رہنے والے حصوں کو نیٹ میں لا کر برابری کا نظام قائم کرنا ہے تاکہ موجودہ ٹیکس دہندگان کو ریلیف اور پالیسی کا تسلسل فراہم کیا جا سکے۔
، \"مزید ٹیکس\" کے بجائے \"مزید ٹیکس دہندگان\" کی جانب یہ سٹر ٹیجک تبدیلی دستاویزی معیشت کو فروغ دینے اور پائیدار مالیاتی استحکام کا باعث بنے گی ، نئے ٹیکسوں سے بچنے کا وزیرِ خزانہ کا یہ عزم میکرو اکنامک بہتری کی طرف ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے ،ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر پوری توجہ مرکوز کرنے سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ڈاکیومنٹڈ سیکٹرز کا تحفظ ہو، جبکہ قومی خزانے کو مجموعی ریو نیو گروتھ سے فائدہ پہنچے ۔ دریں اثنا نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا بجٹ میں ٹیکس بڑھانے کے بجائے انفورسمنٹ اور کمپلائنس پر زور ہو گا،حکومت مہنگائی میں کمی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے ، عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا جا رہا ہے اور حکومت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہے ۔ سیاسی جماعتیں تنقید برائے تنقید کے بجائے معاشی استحکام کے لئے مل کر کام کریں۔ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی سے گندم کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے ، کچھ کاشتکاروں نے گندم کی پیداوار 60 سے 70 من فی ایکڑ تک پہنچا دی ہے ، پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھی تو ایکسپورٹ پوٹینشل میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے ۔وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا وزیرِ اعظم شہباز شریف زرعی شعبے کے مسائل سے مکمل آگاہ ہیں۔