پنجاب کا 5 ہزار 131 ارب کا بجٹ آج پیش ، ترقیاتی اخراجات 47 فیصد کم

 پنجاب کا 5 ہزار 131 ارب کا بجٹ آج پیش ، ترقیاتی اخراجات 47 فیصد کم

تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ ، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، نوجوانوں کیلئے بڑے پیکیجز ہونگے وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ پروگرام کیلئے 15 ارب 69 کروڑ روپے ،طلبہ کیلئے الیکٹرک سکوٹیز، سائیکل سکیمیں شامل لاہور میں نواز شریف ،ڈی جی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال ،ہر ڈویژنل سطح پر مریم نواز آٹزم سکول قائم ہوگا

لاہور(محمد حسن رضا سے ) پنجاب کا 5 ہزار 131 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا،جس میں ترقیاتی پروگرام کیلئے 752 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق بجٹ میں ایک طرف ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، نوجوانوں، صنعت اور سماجی تحفظ کیلئے بڑے پیکیجز شامل کیے گئے ہیں ،ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت وفاق کو 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دے چکی ہے ، جس کے باعث صوبے کا ترقیاتی بجٹ تقریباً 47 فیصد کم ہو کر 1 ہزار 450 ارب روپے سے کم ہو کر 752 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے ، آئندہ مالی سال میں پنجاب کو قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے تحت قابل تقسیم محاصل سے 3 ہزار 793 ارب 70 کروڑ روپے موصول ہونے کا تخمینہ ہے ، جبکہ صوبائی محصولات کی مد میں ایک ہزار 330 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں پنجاب فنانس کمیشن کے تحت ضلعی حکومتوں کے لیے 800 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ مجموعی صوبائی اخراجات کا تخمینہ 3 ہزار 569 ارب 60 کروڑ روپے رکھا گیا ہے ، جبکہ اخراجات کے بعد صوبے کے پاس تقریباً 1 ہزار 562 ارب روپے سے زائد کی مالی و ترقیاتی گنجائش دستیاب ہوگی۔ تنخواہوں کی مد میں 650 ارب روپے اور پنشن کی مد میں 505 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔

آپریشنل اخراجات کے لیے 580 ارب 20 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 680 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے ۔ مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 100 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے ، کینسر اور فالج (سٹروک) کے مریضوں کے علاج و ادویات کے لیے بھی خصوصی فنڈ مختص کیا جائے گا، لاہور میں نواز شریف کینسر ہسپتال کے لیے آئندہ مالی سال میں 20 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ، جبکہ ڈی جی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جس کی مجموعی لاگت 15 ارب روپے ہوگی اور ابتدائی مرحلے میں 80 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے ، اسی طرح 169 ارب روپے کی لاگت سے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ لاہور کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے ،تعلیم کے شعبے کے لیے 900 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ ہے ، ہونہار سکالرشپ پروگرام کے لیے 20 ارب روپے سے زائد، یونیورسٹی گرانٹس کے لیے 18 ارب روپے جبکہ وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے 15 ارب 69 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ بجٹ میں طلبہ کے لیے الیکٹرک سکوٹیز، سائیکل سکیمیں اور دیگر سہولتیں بھی شامل کی گئی ہیں،نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کرنے کے لیے 2 ارب روپے کا  معاشی تبدیلی کے لیے ہنر مندی کا پروگرام بھی تجویز کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے جاری منصوبوں کی تکمیل کو پہلی ترجیح دی گئی ہے اور ان منصوبوں کے لیے 200 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ زرعی شعبے میں کسان کارڈ کے لیے 2 ارب 47 کروڑ روپے جبکہ کسان کارڈ فیز ٹو کے لیے 6 ارب 75 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے ،رمضان پیکیج کے لیے 35 ارب روپے ، سبسڈی کی مختلف سکیموں کے لیے 80 ارب روپے سے زائد جبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 150 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے ، وزیراعلیٰ پرواز کارڈ برائے انٹرنیشنل پلیسمنٹ پروگرام کے لیے 30 کروڑ روپے ، مریم نواز ہیلتھ کلینکس کے لیے 61 کروڑ روپے اور وزیراعلیٰ مریم نواز خود مختار پروگرام کے لیے 5 کروڑ 90 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ مریم نواز آٹزم سکول ہر ڈویژنل سطح پر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جس کی مجموعی لاگت تقریباً ساڑھے 4 ارب روپے ہوگی اور آئندہ مالی سال میں ایک ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

مریم نواز سینٹر آف اکیڈمک لیڈرشپ کے قیام کے لیے 96 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ لاہور میں 50 ارب روپے لاگت کے مریم نواز سپورٹس سٹی منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 11 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ قصور میں میاں نواز شریف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قیام، مختلف شہروں میں سپورٹس کمپلیکس، پارکس، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور دیگر مقامی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی بجٹ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ لاہور کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 8 ارب 23 کروڑ 88 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ، کینسر اور فالج کے مریضوں کیلئے مفت ادویات کی فراہمی کو بجٹ ترجیحات میں شامل کیا ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں