رضا ڈار پر فراڈ کا الزام، ثابت کرنا ناممکن : نجم سیٹھی
صرف رشتہ داری کی بنیاد پر استعفے کا قانونی یا آئینی جوازنہیں بنتا خواتین نے واپس نہیں آنا،ضمانتیں ہونگی،آج کی بات سیٹھی کیساتھ
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ بعض حلقے اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن صرف رشتہ داری کی بنیاد پر استعفے کا قانونی یا آئینی جواز واضح نہیں بنتا۔ اگر تحقیقات آزادانہ اور شفاف انداز میں آگے بڑھتی ہیں تو ذمہ داری بھی انہی افراد پر عائد ہوگی جن کے خلاف شواہد موجود ہوں۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ علی ڈار نے رضا ڈار کو خود پولیس کے سامنے پیش ہونے اور فرار نہ ہونے کا مشورہ دیا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ قانون کا سامنا کرنے کی ہدایت دی گئی، نہ کہ بچنے کی،رضا ڈار کے اوپر زیادتی کا الزام نہیں، فراڈ کا ہے جو ثابت کرنا ناممکن ہے ، خواتین نے واپس نہیں آنا، دو تین دن چلے گی اور پھر ضمانتیں ہونی ہیں اور سٹوری کولڈ سٹوریج میں چلی جائے گی۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا اگر کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے تو کسی مرحلے پر متاثرہ خواتین کی گواہی اور شہادت ناگزیر ہوگی،صرف ایف آئی آر یا دفعہ 164 کے بیانات کافی نہیں ہوتے ، خصوصاً جب ملزمان کے نام واضح طور پر درج نہ کیے گئے ہوں۔ ایف آئی آرمیں انہوں نے کسی کانام نہیں لیا،ریپ کا انہوں نے نامعلوم ملزمان پر الزام لگایا ہے ،یہ کیس بننا مجھے مشکل لگ رہا ہے ، ڈی این اے اور فرانزک شواہد یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ جرم ہوا، مگر یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جرم کس نے کیا، متاثرہ خاتون کی گواہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔اگر وہ گواہی دیتی ہے ،پھر یہ ان کا حق ہے کہ آپ کراس ایگزامن کریں، لیکن کراس ایگزامینیشن کیسے ہوگی،کچھ لوگ کہتے ہیں ویڈیو لنک سے بیان ریکارڈٖ کروایا جاسکتا ہے ،اگرچہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی مثالیں موجود ہیں، لیکن صرف آن لائن گواہی پر پورا مقدمہ چلانا اور اسے منطقی انجام تک پہنچانا ایک مشکل قانونی مرحلہ ہو سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ جیسے ہی ایک متاثرہ خاتون کے والد نے ڈچ سفارت خانے سے رابطہ کر کے اطلاع دی کہ ان کی بیٹی لاپتا ہے ، معاملہ فوری طور پر پنجاب پولیس تک پہنچا۔ آئی جی پنجاب نے وزیرِ اعلیٰ کو آگاہ کیا، جس پر فوری ہدایت دی گئی کہ خواتین کو بازیاب کیا جائے ، ایف آئی آر درج کی جائے اور تمام الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔اسی ہدایت کے تحت ایس ایچ او نے رات گئے میڈیکل معائنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن طریقئہ کار پر مجسٹریٹ نے اعتراض کیا اور بعد میں ایس ایچ او کے خلاف شکایت بھی کی۔ بعد ازاں اسے عہدے سے ہٹایا گیا، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ کارروائی کسی مبینہ انکشاف کی وجہ سے نہیں، بلکہ مجسٹریٹ کی شکایت اور عدالتی اعتراض کے بعد کی گئی۔اس تمام صورتحال سے کم از کم یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ پنجاب حکومت نے ابتدائی مرحلے میں فوری کارروائی اور مکمل تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔