امریکا کی 250ویں سالگرہ،فضائی نمائش اور شاندار آتش بازی

امریکا کی 250ویں سالگرہ،فضائی نمائش اور شاندار آتش بازی

واشنگٹن میں شدید گرمی ، یوم آزادی پریڈ منسوخ ،ملک میں سیاسی تقسیم نمایاں امریکی قومی شناخت کو اندرون ملک انتہا پسندوں سے نئے خطرات لاحق:ٹرمپ

واشنگٹن(اے ایف پی)امریکا نے ہفتے کو اپنی آزادی کی 250ویں سالگرہ پریڈ، فوجی فضائی مظاہروں اور شاندار آتش بازی کے ساتھ منائی، جبکہ صدر ٹرمپ نے ان تاریخی تقریبات کو اپنی سیاسی شناخت دینے کی کوشش کی جبکہ ملک میں شدید سیاسی تقسیم نمایاں ہے ۔واشنگٹن کے نیشنل مال پر تاریخ کی سب سے بڑی آتش بازی کا اہتمام کیا گیا۔واضح رہے 4 جولائی 1776 کو امریکی اعلانِ آزادی پر دستخط کی یاد میں ہر سال یومِ آزادی منایا جاتا ہے ۔ادھر امریکا شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور تقریباً 16 کروڑ افراد موسمی انتباہات کی زد میں ہیں۔ شدید گرمی کے باعث ملک کے مختلف شہروں میں پریڈز، عوامی تقریبات اور باربی کیو پروگرام متاثر ہوئے ، جبکہ واشنگٹن میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کے بعد یومِ آزادی کی مرکزی پریڈ منسوخ کر دی گئی۔صدر ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا میں واقع تاریخی یادگار ماؤنٹ رشمور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی قومی شناخت کو اندرونِ ملک انتہا پسندوں اور شدت پسند عناصر کی جانب سے نئے خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر ملک میں کمیونزم کے دوبارہ ابھرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ادھر نائب صدر جے ڈی وینس نے نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک کو صرف اس کی خامیوں سے نہیں بلکہ اس کی عظمت اور خوبیوں کے تناظر میں بھی دیکھیں۔یومِ آزادی کے موقع پر سیاسی تقسیم اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب کیپیٹل ہل کے قریب نقاب پوش افراد، جن میں بعض کنفیڈریٹ پرچم اٹھائے ہوئے تھے جبکہ کچھ سفید فام بالادستی کی حامی تنظیم ’’پیٹریاٹ فرنٹ‘‘کے نشانات پہنے ہوئے تھے ، امریکا واپس لو کے نعرے لگاتے رہے ۔دوسری جانب مختلف سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام آج بھی ملک کے مستقبل کے بارے میں منقسم ہیں۔کوئنی پیاک یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق 61 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ملک اب بھی اعلانِ آزادی میں بیان کردہ اصولوں پر مکمل طور پر پورا نہیں اتر رہا۔ ریپبلکن ووٹرز کی اکثریت اس سے اتفاق نہیں کرتی، جبکہ زیادہ تر ڈیموکریٹس اس رائے کی تائید کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں