برطانوی میڈیا کے مودی کو مختلف ممالک سے ملنے والے غیرملکی اعزازات پر سوالات

برطانوی میڈیا کے مودی کو مختلف ممالک سے ملنے والے غیرملکی اعزازات پر سوالات

کئی ایوارڈزدورے سے چند روز قبل تخلیق کیے گئے ،مودی پہلے اور تاحال واحد وصول کنندہ ہیں :دی گارڈین کا دعویٰ اے آئی سے تیارسرٹیفکیٹ میں الفاظ غلط:رپورٹ ،کوئی بھی ایوارڈ دیں، مودی دوڑے چلے آئیں گے :بھارتی اپوزیشن

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی اخبار دی گارڈین نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مختلف غیر ملکی دوروں کے دوران ملنے والے اعزازات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے متعدد ایوارڈز ایسے ہیں جو یا تو ان کے دورے سے چند روز قبل تخلیق کیے گئے یا پھر ان کے وہ پہلے اور تاحال واحد وصول کنندہ ہیں۔دی گارڈین کے مطابق مودی کو سیشلز میں دیا گیا گارڈین آف بلیو ہورائزن ایوارڈ ان کی آمد سے صرف 3 روز قبل متعارف کرایا گیا۔ مودی اس نئے اعزاز کے پہلے اور اب تک واحد وصول کنندہ ہیں۔ برطانوی اخبار نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ اس ایوارڈ کے سرٹیفکیٹ میں Republic اور Seychelles جیسے الفاظ بھی غلط لکھے گئے تھے جبکہ سرٹیفکیٹ کے بارے میں یہ خدشات بھی سامنے آئے کہ اسے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔

مودی کو ملنے والے اس اعزاز پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی بھی ایوارڈ دیں، وہ دوڑے چلے آئیں گے ۔دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے مودی کو سیشلز کا اعزاز ملنے کو بھارت کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز انہیں ماحولیاتی قیادت اور ماحول دوست اقدامات کے اعتراف میں دیا گیا۔دی گارڈین کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مودی کو اسرائیل کے دورے سے قبل تخلیق کیے گئے ماڈل آف دا کنیسٹ کا بھی پہلا اعزاز دیا گیا تھا۔اخبار کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کا یہ میڈل بھی ان کے دورے سے چند روز قبل ہی بنایا گیا اور مودی اب تک اس کے واحد وصول کنندہ ہیں۔رپورٹ میں 2019 کے فلپ کوٹلر صدارتی ایوارڈ کا بھی حوالہ دیا گیا جس کے پہلے وصول کنندہ بھی مودی تھے ۔

دی گارڈین کے مطابق یہ اعزاز ہر سال کسی قومی رہنما کو دیا جانا تھا، تاہم مودی کے بعد اب تک کسی اور شخصیت کو یہ ایوارڈ نہیں دیا گیا۔دی گارڈین کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران نریندر مودی کو ایتھوپیا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کی جانب سے بھی اعلیٰ اعزازات دیئے گئے ۔رپورٹ کے مطابق ناقدین اب مودی کے بیرونی اعزازات پر پہلے سے زیادہ کھل کر سوال اٹھا رہے ہیں۔دی گارڈین کے مطابق مودی کے عالمی اعزازات کو ایک جانب بھارت کی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب انہیں سیاسی تشہیر اور داخلی امیج بلڈنگ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے ۔بھارتی اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی حکومت بیرون ملک ملنے والے اعزازات کو داخلی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے جبکہ بی جے پی ان تمام اعزازات کو مودی کی عالمی حیثیت کے اعتراف کا ثبوت قرار دے رہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں