حماس کی غزہ حکومت سے دستبرداری لچک کی علامت

حماس کی غزہ حکومت سے دستبرداری لچک کی علامت

اسرائیل کو بھی 1967 سے پہلے کی سر حدوں پرجانے پر مجبور کریں

(تجزیہ:سلمان غنی)

 حماس کا غزہ میں اپنی انتظامیہ تحلیل کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ غزہ امن بورڈ کیلئے طے شدہ عمل پر کارفرما ہے اور وہ غزہ کی حکمرانی کے بارے میں ایک نئے سیاسی بندوبست پر بات کرنے کو تیار ہے ،لیکن کسی بھی سیاسی عمل کی کامیابی کا انحصار صرف فلسطینی فیصلوں پر نہیں بلکہ اسرائیل کی رضامندی، امریکا کے کردار اور عرب ممالک  کی ضمانتوں پر ہو گا۔ عالمی ماہرین تو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ غزہ پرحکمرانی کے مستقبل پر واضح اتفاق کئے بغیر پائیدار امن کیلئے آگے بڑھنا مشکل ہو گا۔ کیونکہ معاہدے کے باوجود اسرائیل اور حماس کے درمیان اعتماد کی شدید ترین کمی ہے اور فلسطینی اسرائیل کی کسی یقین دہانی پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔

حماس کا یہ اعلان جنگ بندی ،یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد سے متعلق مذاکرات کے ساتھ آیا ہے تو اسے مذاکرات میں لچک کی علامت سمجھا جا سکتا ہے اور اس سے فلسطین اتھارٹی یا کسی مشترکہ ٹیکنو کریٹ حکومت کیلئے راستہ کھل سکتا ہے جس کا مطالبہ پاکستان سمیت عرب ممالک کرتے آ رہے ہیں، قطر ،سعودی عرب ،مصر اور دیگر ممالک طویل عرصہ سے ایسی انتظامی تبدیلیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں تاکہ غزہ کی تعمیر نو اور امداد آسان ہو سکے ، اب سیاسی عمل شروع ہے مگر اس کا انحصار مستقل جنگ بندی پر ہو گا،حماس کے اعلان کے بعد کی صورتحال بظا ہر اسرائیل اور نیتن یا ہو کیلئے جواز ختم کر دے گی کہ وہ ابھی تک غزہ کا غیر انسانی محا صرہ اور اس فلسطینی آبادی کو آئیسو لیشن میں رکھ سکے ۔

اسرائیل اور غزہ ایشو پر سرگرم مسلم ممالک خصو صاً قطر، مصر ،سعودی عرب سمیت مسلم ممالک کو اپنا سفارتی دبا ؤ واشنگٹن پر اس ضمن میں بڑھا نا پڑے گا کہ نیا منظر نامہ خالصتاً غزہ اور فلسطینی عوام کے مستقبل، دیرپا امن اور حتمی دو ریاستی حل کی جانب بڑھے ۔ ہو شیار رہنا پڑے گا کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈکشنر، ایوانکا ٹرمپ اور سٹیو وٹکوف کے مشرق وسطٰی میں ذاتی معاشی منصو بے غزہ کی قیمت پر پورے نہ کئے جا ئیں ، کیونکہ ایوانکا ٹرمپ کہہ چکی ہیں کہ غزہ سمندر کے کنارے ایک شاندار سیاحتی ریزارٹ بن جا ئے تو خطے میں معاشی تبدیلی آ سکتی ہے ۔امریکا اور صدر ٹرمپ اگر خود کو انصاف اور آزادی کا عالمی چیمپئن سمجھتے ہیں تو پھر اسرائیل اور نیتن یا ہو کو ہر عالمی فورم پر مجبور کرنا پڑے گا کہ وہ 1967 سے پہلے کی سر حدوں پر واپس چلا جا ئے اور دو ریاستی حل کو یقینی بنائے ، وگرنہ یکطرفہ اور جانبدارانہ اقدامات سے فلسطین جیسے تصفیہ طلب تنازعے حل کی بجا ئے مزید بگڑ جا ئیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں