موسمیاتی تبدیلی غذائی سلامتی کیلئے بڑا چیلنج،گندم،چاول کی پیداوار میں کمی کا خدشہ
چکوال ، فیصل آباد، شیخوپورہ، حیدرآباد، بدین، بہاولپور، ملتان ، دیگر علاقوں میں گندم پیداوار 16 فیصد تک کمی ہوسکتی گرمی میں فصلوں کیلئے پانی کی ضرورت بڑھ رہی ،موسمیاتی موافق زراعت اپنانا ہوگی،ترجمان موسمیاتی تبدیلی
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، آن لائن )موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور پانی کی قلت کے باعث گندم اور چاول سمیت اہم زرعی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے ۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے فصلوں کی پانی کی ضرورت بڑھ رہی ہے جبکہ دستیاب آبی وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان اور موسمیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی غذائی سلامتی کا اہم چیلنج بن چکی ہے ۔ ان کے مطابق گرمی کی شدید لہریں، سیلاب اور خشک سالی زرعی پیداوار اور آبی وسائل پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر موسمیاتی موافق زراعت اپنانا ہوگی جس میں موسمیاتی اثرات برداشت کرنے والی فصلوں کی نئی اقسام، جدید آبپاشی نظام، سائنسی تحقیق اور بہتر زرعی طریقہ کار شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافہ کسانوں، خوراک کی فراہمی اور ملکی معیشت کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے ۔وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تحقیقی ادارے گلوبل چینج امپیکٹ سٹڈیز سینٹر کے مطابق صدی کے اختتام تک پاکستان میں اوسط درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ بڑھنے کا امکان ہے ۔ تحقیقی ماڈلز کے مطابق فیصل آباد، شیخوپورہ، حیدرآباد، بدین، بہاولپور، ملتان اور دیگر زرعی علاقوں میں گندم کی پیداوار میں 3 سے 16 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے ، جبکہ پوٹھوہار کے بارانی علاقوں، خصوصاً چکوال میں یہ کمی تقریباً 16 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے ۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ چاول کی پیداوار بھی شدید خطرات سے دوچار ہے اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث ملک کے بڑے چاول پیدا کرنے والے علاقوں میں صدی کے اختتام تک پیداوار میں 12 سے 22 فیصد تک کمی متوقع ہے ۔ سلیم شیخ نے زور دیا کہ حکومت، سائنسی ادارے ، کسان اور دیگر متعلقہ فریق مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments