جولائی تا دسمبر2025:23سرکاری اداروں کا خسارہ342 ارب80 کروڑ،54 کا منافع423 ارب

جولائی تا دسمبر2025:23سرکاری اداروں کا خسارہ342 ارب80 کروڑ،54 کا منافع423 ارب

سرکاری اداروں کو مالی معاونت 31فیصد بڑھ کر 804ارب ہوئی، ایکویٹی انجیکشن 190فیصد اور حکومتی قرضوں میں 79فیصد اضافہ گردشی قرض میں 143ارب اضافہ ہوا ، اداروں کی کمزور کارکردگی ملکی مالیاتی استحکام کیلئے خطرہ :وزارت خزانہ

 اسلام آباد (مدثر علی رانا) وزارت خزانہ کی جانب سے جاری سرکاری اداروں کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران 23 خسارہ کرنے والے سرکاری اداروں کا مجموعی خسارہ 342 ارب 80 کروڑ روپے رہا جبکہ ان کے مجموعی جمع شدہنقصانات 6 کھرب 52 ارب 34 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ۔ دوسری جانب 54 منافع بخش سرکاری اداروں نے اسی عرصے میں مجموعی طور پر 423 ارب 30کروڑ روپے کا منافع کمایا۔رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی سب سے زیادہ خسارہ کرنے والا ادارہ رہاجس کا جولائی سے دسمبر 2025 کا خسارہ 124 ارب 685 کروڑ روپے رہا، جبکہ اس کے مجموعی جمع شدہ نقصانات 2 کھرب 17 ارب 13 کروڑ 53 لاکھ روپے تک پہنچ گئے ۔خسارہ کرنے والے اداروں میں دوسرے نمبر پر کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی رہی، جس کا ششماہی خسارہ 35 ارب 332 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اس کے جمع شدہ نقصانات 843 ارب 645 کروڑ روپے ہیں۔ سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کا خسارہ 34 ارب 867 کروڑ روپے رہا اور اس کے جمع شدہ نقصانات 553 ارب 627 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ۔پاکستان ریلوے نے جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران 29 ارب 353 کروڑ روپے کا خسارہ رپورٹ کیا۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کا خسارہ 23 ارب 664 کروڑ روپے ، پی آئی اے ہولڈنگ کا 21 ارب 554 کروڑ روپے اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کا 18 ارب 16 کروڑ روپے رہا۔نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کا خسارہ 14 ارب 457 کروڑ روپے ، پاکستان سٹیل ملز کا 12 ارب 992 کروڑ روپے ، پاکستان پوسٹ کا 7 ارب 6 کروڑ روپے ، پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن کا 4 ارب 421 کروڑ روپے اور قبائلی الیکٹرک سپلائی کمپنی کا خسارہ 3 ارب روپے رہا۔

یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کا خسارہ 2 ارب 38 لاکھ روپے جبکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی 5 کروڑ 70 لاکھ روپے نقصان میں رہی۔رپورٹ کے مطابق 54 سرکاری اداروں نے جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران مجموعی طور پر 423 ارب 268 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔ منافع کمانے والے اداروں میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ 73 ارب 20 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ سرفہرست رہی۔ نیشنل بینک آف پاکستان نے تقریباً 43 ارب روپے ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے 40 ارب روپے ، پاک عرب ریفائنری کمپنی نے 31 ارب روپے ، واپڈا نے 21 ارب روپے ، نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ نے 19 ارب روپے اور پاکستان اسٹیٹ آئل نے 16 ارب روپے منافع کمایا۔منافع بخش اداروں میں او جی ڈی سی ایل، پارکو، پی ایس او، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز، نیشنل بینک آف پاکستان، پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی، پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، نیشنل گرڈ کمپنی، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، اسٹیٹ لائف انشورنس، نیشنل انشورنس کمپنی اور نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن بھی شامل ہیں۔وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں کے مجموعی منافع میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو 457 ارب 20 کروڑ روپے سے کم ہوکر 423 ارب 30 کروڑ روپے رہ گیا۔ خالص ایڈجسٹڈ منافع میں 30 فیصد کمی ہوئی اور یہ 80 ارب 50 کروڑ روپے رہ گیا جبکہ 23 سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 342 ارب 80 کروڑ روپے خسارے کا سامنا رہا۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں کو مالی معاونت میں 31 فیصد اضافہ ہوا اور 804 ارب روپے جاری کیے گئے ۔ ایکویٹی انجیکشن میں 190 فیصد جبکہ حکومتی قرضوں میں 79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اداروں نے قومی خزانے میں 839 ارب روپے جمع کرائے تاہم نان ٹیکس آمدن 35 فیصد کمی کے بعد 399 ارب 60 کروڑ روپے رہ گئی۔بجلی کے شعبے میں ڈسکوز کی ناقص کارکردگی کے باعث چھ ماہ میں گردشی قرضے کے بہاؤ میں 143 ارب روپے اضافہ ہوا۔ دیگر شعبوں کی کارکردگی میں آئل اینڈ گیس 75 فیصد سکور کے ساتھ سرفہرست، مالیاتی شعبہ 66 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جبکہ پاور سیکٹر 46 فیصد سکور کے ساتھ سب سے کمزور شعبہ قرار پایا۔فنانس ڈویژن نے رپورٹ میں سرکاری اداروں کی کمزور کارکردگی کو ملکی مالیاتی استحکام کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...