پی ٹی آئی دہشتگردی کیخلاف ساتھ دیکربانی سے مل لے :اختیار ولی
مذاکرات سے پہلے بیرسٹر گوہر سے کہا تھا آپ بانی سے مل لیں انہوں نے انکار کر دیا ایمرجنسی سے حالات بدتر ہوجائینگے :سلمان اکرم ،’’دنیا مہربخاری کیساتھ‘‘ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ ابھی اعلان کردیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے ساتھ کھڑے ہیں، دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے ساتھ دیں گے ،جو لوگ دہشت گردی میں جانیں دے رہے ہیں ان کو ریسکیو کرنے میں ہمارا ساتھ دیں، ہم فورا ً ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرادینگے ،دنیا نیوز کے پروگرام’’دنیا مہربخاری کیساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جو ہماری دسترس میں تھا ہم نے اپوزیشن کو دیا،ان کی ساری باتوں کو مانا، بدلے میں ہم نے صرف اتنا مانگا کہ کے پی اس وقت جھلس رہا ہے ،آپ ہمارا ساتھ دیں،دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہوجائیں،یہ واک آئوٹ کر گئے ،بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا چاہتے تھے کہ نیشنل ایکشن پلان پرعمل ہو، تحریک انصاف ریاست کے ساتھ کھڑی ہو، لیکن سہیل آفریدی نے پشاور سے بیٹھ کر ویٹو کردیا، ہم نے دس دن پہلے بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ بانی سے مل لیں،پھر مذاکرات شروع کریں گے ،انہوں نے انکار کردیا کہ میں سوشل میڈیا کا سامنا نہیں کرسکوں گا، تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے مذاکرات ختم ہوجانے کے بعد شکوک پیدا ہو گئے ہیں کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی کیا کبھی خواہش تھی کہ معاملات کو سدھارا جائے ، مذاکرات کے دوران ایسے مواقع ضرور آئے جب ہمیں لگا شاید حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے ، طے پایا کہ اگر معاہدہ ہوا تو تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا، معمر اور خواتین کی رہائی پر بھی بات مثبت انداز میں بڑھ رہی تھی ، ہمیں کہا گیا منگل کے روز وکلا کی ملاقاتیں ہوجائیں گی،ایک سوال پر کہا کہ محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف 7 نکات سامنے رکھے ، پانچ اضلاع میں ایمرجنسی لگا کر ایکشن کی بات کی گئی، ہم نے کہا اس حوالے سے متفقہ لائحہ عمل بنایا جائے لیکن متفقہ لائحہ عمل کی بات کو نہیں مانا گیا، اگر یہ ایمرجنسی لگاتے ہیں تو حالات مزید بدتر ہوجائیں گے ، سہیل آفریدی کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ غلط ہے ، ہماری کمیٹی بالکل بااختیار تھی، اپوزیشن کے بااختیار نہ ہونے کے حوالے سے غلط بیانیہ بنایا گیا ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments