نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- ہم استقامت کے ساتھ 29 دن دھرنے پر بیٹھے رہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت اور جماعت اسلامی نے مل کر ایک مسودہ بنایا ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:2021 کا ترمیمی بل اب ختم ہو جائےگا،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آج میڈیا کے سامنے وزیر بلدیات نے ہمارے مطالبات تسلیم کیے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- ہم اس معاہدے پر عمل بھی کروائیں گے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:صوبائی فنانس کمیشن کے قیام پر رضامندہیں،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- میئر اور ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- سندھ حکومت تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کو واپس کرنے پر تیار،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سےبھی بلدیہ کراچی کو حصہ ملے گا،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: میئر کراچی واٹر بورڈ کے چیئرمین ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- بلدیہ کو خود مختار بنانے کیلئےمالی وسائل دینےپر سندھ حکومت تیار، ناصر حسین
  • بریکنگ :- سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کےدرمیان تحریری معاہدہ
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان،کارکنان گھروں کو روانہ
  • بریکنگ :- کراچی: آج کے اعلان کیے گئے دھرنے بھی ختم کر دیئے ہیں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آپ کو تاریخی جدوجہد کرنے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آپ نے ساڑھے تین کروڑ عوام ہی نہیں پورے ملک کو حیران کردیا،حافظ نعیم
Coronavirus Updates

واپس نہیں آئیں گے!

چند سال میں انسان وہ کام کرنے والا ہے جو اب تک کسی جاندار نے نہیں کیا ۔وہ مریخ پر جائے گا اور واپس نہیں آئے گا۔ یہ قدم خود کشی سے بڑھ کر ہوگا جسے وہ اپنے کنبے سے صلاح مشورے کے بعد اٹھائے گا۔اگر وہ شادی شدہ نہیں ہے تو لامحالہ اپنے والدین اور دوستوں سے پوچھے گا اور وہ بچشم نم اسے سرخ سیارے کے یک طرفہ سفر کی اجازت دیں گے۔ مارس ون کے منتظمین کہتے ہیں کہ ون وے ان کے لئے کم خرچ ثابت ہو گا اور وہ اولاد پیدا کرنے کے معاملے میں سیارے پر آباد ہونے والوں کی حوصلہ شکنی کریں گے ۔ وہ سب رضا کار ہوں گے اور منتظمین کی بات توجہ سے سنیں گے۔ وہ اس دنیا سے تمام رشتے توڑ کر خلائے بسیط کا طویل سفر اختیار کریں گے ۔بعض نقادوں کے نزدیک یہ لوگ دیوانے ہیں۔ کوئی اس سفر کا مالی اور جسمانی اعتبار سے متحمل نہیں ہو سکتا ۔منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ پراجیکٹ کے اخراجات تخلیقی حقوق بیچ کر یا نشر کاری کا استحقاق فروخت کرکے پورے کریں گے ۔اکتالیس ملکوں کے 204 583 شہریوں کی اس منصوبے میں شرکت کی درخواست تشویشناک ہے ۔ حال ہی میں انتخاب کا ایک اور دور ہو ا تو پچاس مردوں اور پچاس عورتوں کو معلوم ہوا کہ وہ آخری راؤنڈ میں پہنچ گئے ہیں ۔ان میں سے تینتیس امریکی ہیں۔ سال کے آخر میں انہیں چار چار کی ٹولیوں میں بانٹ دیا جائے گا اور 2024ء میں پہلی ٹولی 442ملین میل کا‘ سات آٹھ ماہ کا سفر شروع کرے گی۔ ان میں سے چار تو آس پاس کے لوگ ہیں جو اپنے ارادے کو پوری انسانیت کے لئے مفید سمجھتے ہیں اور تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کے منتظر ہیں‘ وہ کہتے ہیں کہ مریخ کا یک طرفہ ٹکٹ زمین پر آب و ہوا کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے خلاف ایک انشورنس پالیسی ہے۔ (بحر منجمد شمالی کے گلیشیئر پگھل رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں سطح سمندر اس قدر بلند ہوجائے گی کہ کراچی اور ممبئی جیسے ساحلی شہروں کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔)
باون سالہ ڈینئل کیری ایک بیوی کے شوہر اور دو جوان بچوں کے با پ ہیں ۔اگر وہ مارس ون کے مشن کے لئے چنے گئے تو انہیں زمین پر چھوڑے ہوئے انسانوں اور چیزوں کا غم ہو گا اور ان میں مستقبل کے پوتے پوتیاں بھی شامل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے مسلح افواج میں دور افتادہ مقامات پر کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کا خیال آئے گا۔ وہ بھی تو ایک اعلیٰ نصب العین کے خاطر اپنے کنبے اور آسا ئشوں سے دور ہوتے ہیں ۔وہ مریخ پر کیا لے کر جائیں گے؟ ''میں اپنی گٹار ساتھ لے جائوں گا‘ نئی طرزیں سیکھوں گا‘ پرانی طرزوں کو بہتر بناؤں گا‘ آخر کسی کو تو مریخ کی لوک موسیقی بھی بنانی ہے‘‘۔ انتیس سالہ ٹیلر ہیننگر محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی چھوٹی ٹھیکیدار ہیں۔ وہ ہر شے چھوڑ کر منی وین کی جسامت کے ایک سپیس کرافٹ میں لمبا سفر کرنے کے لئے بیتاب ہیں ۔وہ زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئی کہہ سکیں گی: ''یہ ہے وہ سیارہ جس پر میں پیدا ہوئی تھی‘‘۔ وہ ایک آئل پینٹنگ ساتھ لے جائیں گی جو ان کی دادی نے بنائی تھی ۔تینتیس سالہ کافی جوزف افریقی امریکی ہیں ۔وہ سلسلے وارفلم سٹار ٹریک کی پرستار ہیں ۔جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے میں پہنچ گئی ہیں تو انہوں نے اپنے عزیز و اقارب کو یہ الیکٹرانی خط لکھا: ''مجھے پاگل کہو کہ مجھے نئی دنیا کی تلاش میں نکلنے والے مہم جوئوں اور چاند پر اترنے والے خلا نوردوں کی صف میں شامل ہونا ہے‘‘۔ خا تون کو امید ہے کہ پڑھنے کے لئے ان کے پاس کافی وقت ہو گا جس میں وہ کلاسیکی ادب کا‘ جو ہماری تہذیب کی اصل ہے‘ مطالعہ کر سکیں گی۔ چھتیس سالہ سونیا وان میتر ایک اپوزیشن ریسرچ گروپ میں سیاسی مشیر ہیں۔ جب وہ دنیا کو چھوڑنے کا سوچتی ہیں تو انہیں ازدواجی بندھن کا وہ عہد نامہ یاد آتا ہے جو انہوں نے اپنے پیارے شوہر جے سن سے کیا تھا۔ زیادہ تر خاوند یہ مفروضہ سوال پوچھتے ہیں۔ اگر میں نے آپ سے دھوکہ کیا تو کیا آپ مجھے معاف کر دیں گی ؟اگر میں اپاہج ہو گیا تو کیا آپ میرے ساتھ رہیں گی؟ اگر میرا ذہن ماؤف ہو گیا تو کیا آپ بجلی کاسوئچ آف کریں گی؟ مگر اب تک کسی بیوی نے اپنے شوہر سے یہ نہیں کہا کہ میں باقی زندگی کے لئے مریخ پر جا رہی ہوں۔ میں ازدواجی زیورات ساتھ لے کر اس دنیا سے رخصت لوں گی۔آتشیں اسلحہ اور منشیات ساتھ لے جانے کو کسی نے نہیں کہا۔
سرکاری وفاقی ادارے ناسا نے 2030ء کی دہائی سے پہلے ایک انسان کو مریخ پر لے جانے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ اس وقت پانچ خلائی جہاز مریخ کے مدار پر چکر لگا رہے ہیں۔ ان میں سے تین امریکی‘ ایک یورپی اور ایک بھارتی ہے۔ بھارت نے منگھلان سیارہ چھان بین کے لئے چھوڑا ہے ۔ یہ سب انسان کے بغیر ہیں اور ان میں سے ایک‘ جو ناسا کی ملکیت تھا‘ سیارے پر اتر بھی چکا ہے ۔انسان یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ مریخ پر جمی برف اور اس پر پائی جانے والی کاربن ڈائی آکسائڈ کہاں گئے ؟ ڈچ فرم مارس ون کی جانب سے اب تک سائنسدان نور برٹ کرافٹ سامنے آئے ہیں جو ویڈیو کے ذریعے امیدواروں سے انٹرویو کر چکے ہیں اور ان کی چھانٹی میں مصروف رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ امیدوار کو زندہ رہنے کی تدبیریں اور حساب کی مہارتیں دکھانی پڑیں گی۔ پروجیکٹ ان کی تربیت کا انتظام کرے گا جس میں سے کچھ بحر منجمد جنوبی میں ہوگی۔ سیارہ انہیں خلا میں لے جائے گا‘ مریخ پر اتا رے گا‘ طبعی زندگی ختم ہونے تک انہیں زندہ رکھنے کی کوشش کرے گا مگر واپس نہیں لائے گا ۔جوں جوں ان کی تعداد بڑھے گی ان کی بستی کو وسیع کیا جائے گا ۔
اگر چہ سارے نظام شمسی میں مریخ کے ماحول کو روئیدگی کے لئے موزوں ترین سمجھا گیا ہے مگر کئی نقاد کہتے ہیں کہ سرخ سیارے پر زندگی کرنے کی ٹیکنالوجی ابھی مکمل نہیں ہوئی اور یہ کہ مارس ون والے اپنے رضا کاروں کی جانیں خطرے میں ڈالیں گے۔ پراجیکٹ والوں کا کہنا ہے کہ انہیں عام لوگ درکار ہیں۔افتتاحی پرواز کے لئے چار اور بعد ازاں ہر دو سال کے وقفے سے چار افراد لے جائے جائیں گے‘ جو اپنی باقی ماندہ زندگی نفسیاتی اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ گزار سکیں‘ ایک ایسے سیارے پر جو انسان کے قدموں کا منتظر ہے ۔جب تک اوپر تین ہزار لٹر پانی اور ایک سو بیس کلو گرام آکسیجن نہیں ہو گی لوگ سفر اختیار نہیں کریں گے ۔وہاں ہوا کا دبا ؤ زندگی کو سہارا دینے کے قابل ہونا چاہیے۔ انسانوں کے لئے مریخ کی ہوا میں خاطر خواہ آکسیجن نہیں ہے اور اس کا دباؤ بہت کم ہے۔ 2024ء میں مارس ون کا پہلا عملہ مریخ کی طرف روانہ ہو گا۔ایک عارضی رہائش گاہ میں منتقل ہونے کے لئے جو ان کا لینڈر (راکٹ) بھی ہوگا۔ وہ زمین کے حصار میں ''پٹ سٹاپ‘‘ لیں گے اور نہایت تنگ جگہ پر اپنی نشستیں سنبھال کر لمبے سفر پر چل دیں گے جب کہ ان کے پاس کھانے کو ڈبہ بند یا منجمد خوراک ہی ہو گی۔ اگر سب کام منصوبے کے مطابق ہوتے ہیں تو 2025ء میں یا اس سے پہلے‘ پہلی بار انسان کے قدم مریخ پر پڑیں گے‘ جہاں اوسطاً درجہ حرارت منفی اکاسی ڈگری فارن ہائٹ ہے اور کشش ثقل زمین سے اڑتیس فیصد رہ جاتی ہے ۔ایک روور( گاڑی) انہیں اٹھائے گی اور ان کی بستی تک پہنچائے گی جس کے بعد وہ غسل کر سکیں گے ۔شاید آپ انہیں پاگل سمجھیں۔ درخواست گزاروں میں تریسٹھ پی ایچ ڈی اور بارہ فزیشن ہیں ۔وہ ساری دنیا سے امریکہ آئے تھے ۔ ان میں چار سو اٹھارہ مرد اور دو سو ستاسی عورتیں تھیں۔ نوے ابھی زیر تعلیم تھے اور اکیاون بے روزگار مگر پانچ سو چونسٹھ بر سر روزگار تھے ۔چھ بلین ڈالر کے اس منصوبے کا خرچ ان کے تجربات نشر کر کے پورا کیا جائے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں