نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کےدرمیان تحریری معاہدہ
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان،کارکنان گھروں کو روانہ
  • بریکنگ :- کراچی: آج کے اعلان کیے گئے دھرنے بھی ختم کر دیئے ہیں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آپ کو تاریخی جدوجہد کرنے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آپ نے ساڑھے تین کروڑ عوام ہی نہیں پورے ملک کو حیران کردیا،حافظ نعیم
  • بریکنگ :- ہم استقامت کے ساتھ 29 دن دھرنے پر بیٹھے رہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت اور جماعت اسلامی نے مل کر ایک مسودہ بنایا ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:2021 کا ترمیمی بل اب ختم ہو جائےگا،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آج میڈیا کے سامنے وزیر بلدیات نے ہمارے مطالبات تسلیم کیے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- ہم اس معاہدے پر عمل بھی کروائیں گے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:صوبائی فنانس کمیشن کے قیام پر رضامندہیں،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- میئر اور ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- سندھ حکومت تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کو واپس کرنے پر تیار،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سےبھی بلدیہ کراچی کو حصہ ملے گا،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: میئر کراچی واٹر بورڈ کے چیئرمین ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- بلدیہ کو خود مختار بنانے کیلئےمالی وسائل دینےپر سندھ حکومت تیار، ناصر حسین
Coronavirus Updates

محمد رفیع کا دوبارہ جی اٹھنا

محمد رفیع پینتیس سال بعد دوبارہ جی اٹھے ہیں۔ گانے والے کو خراج تحسین پیش کرنے کا جو سلسلہ گزشتہ سال ممبئی میں شروع ہوا تھا‘ وہ نئی دہلی اور لاہور سے ہوتا ہوا واشنگٹن پہنچ گیا ہے اور انجمن ادب اردو (Soul) کے بانی ابوالحسن نغمی نے اسے اردو زبان سے نتھی کر دیا ہے۔ وہ حفظانِ صحت اور حالات حاضرہ کو زبان و ادب سے جوڑنے کا خاصا تجربہ رکھتے ہیں۔ پچھلے مہینے انہوں نے دل کے امراض کو اردو شاعری کا تڑکا لگایا تھا اور اداکارہ ریما خان اور ان کے کارڈیالوجسٹ شوہر طارق شہاب کو سول کے اجلاس میں مدعو کیا تھا۔ میاں نے دل کی بیماریوں کے بارے میں سوالوں کے جواب دیئے اور بیوی نے شاعروں کے دل کی بیماریوں کی نشاندہی کی۔ اس مرتبہ انہوں نے ڈینٹسٹ فریدہ خٹک کو دعوت دی تھی‘ مگر وہ دانتوں کے امراض کے بارے میں حاضرین کے ڈھیر سارے سوالوں کا جواب دینے کی بجائے خود ناک کا آپریشن کرانے ہسپتال جا پہنچیں‘ اس لئے اردو کی ترویج و ترقی میں محمد رفیع کے حصے کا تذکرہ اور زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔ خوش قسمتی سے محمد رفیع مودی سرکار کے دور سے پہلے چل بسے ورنہ وہ بھی غلام علی کی طرح بھارت ورش سے نکالے جاتے‘ اور ان پر بھی پاکستان کے ایجنٹ ہونے کا الزام آتا جیسا کہ شیوسینا نے ہندوستانی اداکار شاہ رخ خان پر لگایا اور انہیں بیوی کے مشورے پر وطن چھوڑنے کے بارے میں سوچنا پڑا۔ اس صورت میں محمد رفیع کو بھی دوسرے بھارتی فنکاروں کی طرح اپنا ''پدما شری‘‘ (1965ء) اور دوسرے ایوارڈ واپس کرنے پڑتے۔ ان میں سے ایک تو وزیر اعظم نہرو نے بھارت کی پہلی سالگرہ پر انہیں پیش کیا تھا۔
حیرت ہے کہ ہمارے انتہا پسند‘ بھارت کے انتہا پسندوں کی کارروائیوں پر خاموش رہے ماسوا اس امرکے کہ انہوں نے شاہ رخ کو پاکستان میں خوش آمدید کہا‘ اور وہ کابل سے نئی دہلی واپس جاتے ہوئے لاہور میں وزیر اعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی میں نریندر مودی کی شرکت پر بھی نسبتاً چپ رہے ماسوا جماعت اسلامی کے امیر کے جنہوں نے پاکستان کو مودی کی ''خالہ جی کا گھر‘‘ قرار دیا۔ پاکستان اور ہندوستان کے لاکھوں لوگوں کی مہاجر یا شرنارتھی بن کر ایک دوسرے کے ہاں منتقلی برصغیر کی تاریخ کا جز ہے۔ نواز مرحوم بھی محمد رفیع کی طرح امرتسر کے مضافات میں پیدا ہوئے تھے اور گوالمنڈی (لاہور) کے چوک میں اس ہیر کٹنگ سیلون کی طرف اشارہ کیا کرتے تھے جہاں ''خان صاحب‘‘ کام کیا کرتے تھے مگر خان صاحب تو اپنے والد حاجی علی محمد کے ہمراہ 1944ء میں ممبئی چلے گئے تھے اور تین سال بعد آزاد بھارت اور پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد بھی وہ بھارتی شہری تھے۔ سوال یہ ہے کہ رفیع کے محمد رفیع بننے میں حاجی صاحب کی دوسری اقتصادی ہجرت شامل تھی یا ان کا جوہر قابل نکھارنے میں استاد بڑے غلام علی خان‘ استاد عبدالوحید خان‘ پنڈت جیون لال مٹو اور فیروز نظامی نے حصہ لیا۔ رفیع کی جنم بھومی کوٹلہ سلطان سنگھ‘ نواز کا آبائی گاؤں کتھو ننگل اور شریف صاحب کا ''لوہارا‘‘ جاتی امرا میں تھا جو پاس پاس تھے مگر۔ اب جاتی امرا رائے ونڈ کے نزدیک شریف خاندان کے محلات کا نام ہے۔ مہرالنسا کی مہندی کی رسم انہی محلات میں ادا کی گئی۔
دلیپ کمار سے محمد رفیع تک ہزاروں دانشوروں کا پاکستان سے تعلق بدیہی ہے۔ رفیع 1935ء سے 1944ء تک لاہور میں تھے۔ گویا وہ بیس سال کے پیٹے میں تھے اور لاہور کی فلمی صنعت سے بخوبی واقف تھے۔ اس وقت تک وہ شیام سندر کی پنجابی فلم ''گل بلوچ‘‘ کے گانے گا چکے تھے اور اپنی کزن بشیراں سے ان کی شادی بھی ہو چکی تھی۔ اس لئے باور کیا جا سکتا ہے کی حاجی صاحب نے دوسری ہجرت بیٹے کے لئے کی تھی۔ اس کے لئے انہوں نے لاہور اور ممبئی کے اساتذہ کی خدمات بھی حاصل کیں۔ محمد رفیع پر ایک ضخیم کتاب '' آوازِ عشق‘‘ کے مصنف قیصر اقبال اس محفل میں موجود تھے۔وہ رفیع کی غریب نوازی کو بڑاھاوا دیتے رہے جب کہ ممبئی میں پانچ بڑے بھائیوں اور ماں باپ سمیت ایک کنبے کے کفیل شروع میں خود غریب تھے۔ ''عظمت کردار‘‘ کے عنوان سے انہوں نے اپنے مضمون میں کہا: ''رفیع صاحب کے سنگیت سے میری دلی وابستگی میری تحریروں سے عیاں ہے‘‘۔
قیصر اقبال اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی تصنیف تنقیدی نہیں تقریظی ہے۔ اگرچہ وہ بھی اندرون لاہور کے رہنے والے ہیں مگر انہوں نے رفیع صاحب کو کبھی نہیں د یکھا۔ ''سنا ہے کہ وہ اور ان کا کنبہ محلہ چومالہ میں رہتے تھے جہاں ان کا گھر اور دکان‘ تھے‘‘۔ ممبئی جانے کے بعد وہ لاہور واپس نہیں آئے۔ وہاں طلعت محمود‘ کشور کمار اور لتا منگیشکر سے ان کی کاروباری رقابتیں بھی چلا کیں مگر ان میں سے زیادہ شہرت لتا سے ان کے مناقشے نے پائی۔''میں لتا منگیشکر کے گانے پر ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتا مگر یہ بات سب کے علم میں ہے کہ خاتون متکبر تھیں اور اسی لئے بہن آشا بھونسلے کے ساتھ بھی ان کی نہ بن پائی۔ اس مناقشے کے بارے میں کئی کہانیاں سنائی دیتی ہیں۔ ڈاکٹر معظم صدیقی، جو اس مجلس کے صدر تھے،نے کہا کہ لتا کا جھگڑا رفیع کے اس ریمارک پر تھا کہ آشا نے لتا سے زیادہ گیت گائے ہیں اس لئے گنیز بک میں لتا کی بجائے آشا کا نام جانا چا ہیے۔
گلوکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے وقت نغمہ ساز کا نام تو ہماری یادداشت میں رہتا ہے مگر نغمہ نگار (شاعر) کو ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔ مثلاً ''جگنو‘‘ میں نے رتن سنما میں دیکھی۔ اس میں نور جہاں اور دلیپ کمار تھے ''یہاں بدلا وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘‘ مجھے اب تک یاد ہے کہ یہ دوگانا محمد رفیع اور ملکہ ترنم نے مل کر گایا تھا مگر اس کے شاعر کا نام یاد نہیں۔ چند سال بعد ''بیجو باورا‘‘ بھی لاہور میں دیکھی۔ اس غنائیہ کے سبھی گانے عمدہ تھے جو محمد رفیع نے گائے تھے۔ ''من تڑپت پیا درشن کو آج‘‘ مجھے بطور خاص یاد ہے مگر شاعر کا نام بھول گیا ہوں۔ دوسری کامیاب فلموں کی طرح اس کی موسیقی بھی نوشاد علی نے ترتیب دی تھی۔ اس محفل میں نوشاد کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں لاس اینجلس کے صحافی عبدالرحمن صدیقی بھی تھے جنہوں نے نو گھنٹے تک ممبئی کے دھان پان موسیقار سے انٹرویو کیا۔ نوشاد اپنی بیٹی اور نواسوں کو دیکھنے کے لئے تقریباً ہر سال امریکہ آیا کرتے تھے۔ نوشاد اور رفیع کی جوڑی نے 149 فلمیں پیش کیں۔
نغمی صاحب نے اپنے ابتدائی کلمات میں اردو کی ترویج و اشاعت میں محمد رفیع کے بالواسطہ حصے پر روشنی ڈالنے کے علاوہ ان شخصیتوں کے نام بھی لئے جن میں مولوی عبدالحق اور ان کے جانشین سید عبداللہ کو کوئی جاذبیت دکھائی نہ دی۔ مثلاً شاعر اکبر وارثی جن کی ''میلاد اکبر‘‘ نے ساری دنیا میں دھوم مچائے رکھی‘ عالم دین اشرف علی تھانوی جن کی تصنیف ''بہشتی زیور‘‘ آج بھی لڑکیوں کو جہیز میں دی جاتی ہے اور سنگیت کار امراؤ ضیا بیگم کا ریکارڈ ''یثرب کو جانے والے میرا سلام لے جا‘‘ جو تقریباً ایک صدی سے بج رہا ہے۔ اردو کی ترقی کا کام اردو شاعر‘ ادیب اور نقاد کر رہے ہیں اور ایک بار پھر پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے مگر جیسا کہ نور نغمی اور مدیحہ انور نے اپنے مقالات میں اشارہ کیا اس میں فلموں کے احیا اور نجی شعبے میں ٹیلی وژن کے ظہور کا بھی کچھ حصہ ہے۔ عورتیں معاشی اعتبار سے خود کفیل ہو رہی ہیں اور مرد اپنے اپنے نیٹ ورک کے مائک سنبھالے اپنے اپنے لہجے میں خیبر پختون خوا‘ سندھ‘ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے علاوہ مشرق وسطیٰ‘ یورپ اور امریکہ سے چوبیس گھنٹے خبریں دے رہے ہیں۔ اردو میں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں