"ABC" (space) message & send to 7575

کھلواڑ

سردار عبدالقیوم جتوئی خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان لوٹ آئے ہیں۔ موصوف وہی وزیر ہیں جنہوں نے 8-13 کی حکومت میں باضابطہ مطالبہ کر ڈالا تھا کہ پیپلز پارٹی کو کرپشن کی اجازت دی جائے۔ قیوم جتوئی وزیر تو تھے لیکن انہیں ایسی وزارت سونپی گئی کہ ان کو اور ان کی وزارت کو ملا کر دیکھنے اور سننے والے دم بخود رہ جائیں۔ وفاقی وزیر دفاعی پیداوار ہوتے ہوئے خود عبدالقیوم جتوئی کی اپنی جان اٹکی رہتی تھی۔ معلوم نہیں کہ یہ سابق صدر آصف علی زرداری کی خصوصی محبت تھی یا کوئی سابقہ حساب کتاب کہ سردار عبدالقیوم جتوئی جیسی شخصیت کو سینئر فوجیوں غیر ملکی وفود اور سفارتکاروں کے سامنے جا پھینکا۔ بیسیوں سیدھی سادھی وزارتیں چھوڑ کر بوٹوں اور سلوٹوں کے گھمر گھیر میں جا پھنسایا اور پھر تھوڑا عرصہ بعد ہی وفاقی وزیر دفاعی پیداوار اپنی تقریروں کے نکات اپنے نزدیک بیٹھے ہر دوسرے تیسرے آدمی کو چیک کراتے نظر آئے۔ سابق صدر آصف زرداری دوست منش انسان مشہور ہیں۔ نوازشات میں انہوں نے کئی ریکارڈ توڑے لیکن اس کے برعکس بھی متعدد ریکارڈ ٹوٹے ہیں۔ سردار عبدالقیوم جتوئی اپنی وزارت کے تمام عرصے میں کھوئے کھوئے اورپریشان رہے۔ میڈیا کے تندوتیز سوالات نے انہیں کئی مرتبہ بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا۔ وہ سیدھے سادھے آدمی اپنی وزارت سے میچ نہیں کھاتے تھے اور بالآخر بلوچستان میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنے بھولپن میں کمال ہی کر دیا جب دنیا بھر میں انہیں براہ راست یہ کہتے دیکھا اور سنا گیا کہ ''جب سب کرپشن کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی کو بھی کرپشن کا حق ہے اور انہیں اس حق کا آزادانہ استعمال کرنے دیا جائے‘‘ وفاقی وزیر کی اس گفتگو نے نہ صرف پوری قوم کو نادم کیا بلکہ پیپلز پارٹی کے ذمہ وضاحتوں کی فہرست میں ایک اور کا اضافہ بھی ہو گیا۔ بہت لے دے ہوئی۔ بالآخر سردار عبدالقیوم جتوئی کو اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سابقہ دورِ حکومت میں اپنے اندازِ حکومت سے ہی نہیں بلکہ اندازِ خطابت سے بھی بہت کچھ اپنے کھاتے لکھوایا اور کرپشن کرپشن کا ایسا شور بلند ہوا کہ اس کی وضاحت اور دفاع کی بجائے عجیب جملے سننے کو ملے۔ خود سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے جب کرپشن کے سوالات ہوتے تو وہ فرماتے کہ ''کرپشن تو سب کر رہے ہیں صرف ہم موردِ الزام کیوں؟‘‘ اور پھر اسی شور میں سردار عبدالقیوم جتوئی کے فقروں نے آخری کیل اور وہ بھی مضبوط کیل ٹھونک دیا اسی طرح کے کیل ٹھکتے رہے اور بالآخر وہی ہوا جو نوشتہ دیوار تھا۔
عبدالقیوم جتوئی پیپلز پارٹی کے پرانے ساتھیوں میں سے ہیں نئی صدی کے آغاز میں جب جنرل مشرف نے پاکستانی قوم سے جمہوریت چھین کر آمریت کی نئی شکل کا تحفہ دیا تھا اس وقت بھی یہی سردار عبدالقیوم جتوئی تھے جو مظفرگڑھ کے ضلع سے واحد ضلعی ناظم منتخب ہو گئے تھے۔ ان دنوں مسلم لیگ (ق) کے سارے عتابوں کا رخ اس ضلع اور یہاں کے ناظم کی طرف ہوتا تھا لیکن عبدالقیوم جتوئی نے بطور ضلعی ناظم اپنے ایک یونین ناظم معروف جمشید دستی کے ہمراہ کمال جواں مردی سے حالات کا مقابلہ کیا ضلعی اسمبلی کو تالے لگا دئیے گئے لیکن قیوم جتوئی نے اپنے ساتھیوں سمیت سڑک پر ضلعی اسمبلی کے اجلاس منعقد کئے اور ناتواں کندھوں پر آئے بوجھ کو ایسے اٹھایا کہ پورے ملک میں مثال قائم کر دی۔ 2008ء کے انتخابات میں اس ضلع کے عوام نے قیوم جتوئی کی جدوجہد کو ایسی سلامی دی کہ ضلع کی پانچوں قومی اسمبلی کی نشستیں پیپلز پارٹی نے جیت لیں اور ان کے ساتھ یونین ناظم کے طور پر بھاگ دوڑ کرنے والے جمشید دستی بھی رکن قومی اسمبلی بن گئے۔ ان دنوں یہ دونوں اپنے خلاف جھوٹے سچے مقدمات کا سامنا کرتے عدالتوں کے برآمدوں میں وقت گزارتے نظر آئے لیکن پھر وفاقی وزارت ان کیلئے تمغہ بننے کی بجائے ان کی جڑوں میں بیٹھ گئی۔ وزارت سے ہٹے تو جمشید دستی ان کا سیاسی ورثہ چھین کر مظفرگڑھ کی سیاست پر چھا گئے اور سردار عبدالقیوم جتوئی لندن جا بیٹھے۔
ہمارے ہاں رائج خودساختہ جلاوطنی کے کئی برس گزارنے کے بعد وہ پھر واپس آ گئے ہیں۔ اس عرصہ میں وہ پیپلز پارٹی سے دور دور رہے۔ نالاں رہے اور اس کا وقتاً فوقتاً اظہار بھی کرتے رہے لیکن واپس آتے ہی دوبارہ پیپلز پارٹی میں گھل مل گئے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری جب سابق وزیر حامد سعید کاظمی کو رہائی پر مبارکباد دینے کیلئے ان کے گھر پہنچے تو عبدالقیوم جتوئی بھی وہاں موجود تھے۔ دونوں سابق وزیروں نے پیپلز پارٹی کی وجہ سے سزائیں بھگتیں یا پھر ان دونوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے سزا بھگتی اس کا ذکر پھر کبھی لیکن سردار عبدالقیوم جتوئی کی جلاوطنی ایک سوال ہے کہ وہ آخر ملک سے کیوں بھاگے۔ وہ گھبرا کر خود بھاگے یا انہیں زبردستی باہر بھیجا گیا۔ وہ خود تو یہی کہتے ہیں کہ انہیں جلاوطنی پر مجبور کیا گیا اور وہ جلد ان رازوں پر سے پردہ اٹھائیں گے لیکن بادی النظر میں لگتا ہے کہ وہ سیاسی طور پر ایسی ناکامی سے دوچار ہوئے کہ انہیں گوشۂ عافیت ڈھونڈنا پڑا۔ دوسرے پہلو میں بیٹھے حامد سعید کاظمی بھی کہتے پائے گئے کہ انہیں وزارت کا تجربہ نہیں تھا اس لئے وہ امور حج کے معاملات سمجھ نہیں پائے اور ان سے کوتاہیاں کرا لی گئیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر اہم وزارتوں کیلئے موزوں شخصیت دستیاب نہیں ہوتیں تو بھلا ان وزارتوں اور ان میں بٹھائے جانے والے لوگوں سے ایسا کھلواڑ کیوں کیا جاتا ہے؟۔ پی پی دور میں کئی وزارتوں اور اہم اداروں کی سربراہی میں یہی ہوا اور یہ سلسلہ کچھ کمی بیشی کے ساتھ موجودہ حکومت میں بھی جاری ہے۔ کئی لوگ اہم وزارتوں اور اہم عہدوں پر مس فٹ ہیں جو نہ صرف اپنے لئے گڑھے کھودتے ہیں بلکہ اپنے اداروں کا بھٹا بٹھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کئی علاقوں میں اداروں کے سربراہ مقرر کرنے میں حد کر دی گئی ہے اور اگلے پچھلے ریکارڈ توڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دراصل یہ اداروں سے ہی نہیں قوم سے بھی کھلواڑ ہے جس کی سزا صرف سیاسی جماعتیں ہی نہیں عوام بھی بھگتتے ہیں۔ نہ جانے سیاسی قیادتوں کی یہ مہربانیاں کب تلک جاری رہیں گی اور عوام کے نصیب میں کب تک یہ بھگتنا رہے گا؟

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں