دنیا بھر میں عید الفطر بڑے جوش وخروش سے منائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنے اہلِ خانہ اور دوست احباب کے ہمراہ عید کی نماز کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلتی اور عید گاہوں کا رخ کرتی ہے۔ عید کے موقع پر بالعموم نئے کپڑوں اور جوتوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور نمازِ عید کی ادائیگی کے بعد دنیا بھر کے مسلمان اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے لیے اور اپنے اعزہ واقارب کے لیے اچھے پکوان کا اہتمام و انتظام کرتے ہیں۔ عید کے موقع پر دوست احباب اور رشتہ دار ایک دوسرے سے ملاقات کرتے‘ ایک دوسرے کو عید مبارک کہتے‘ گھر والوں اور بچوں کو تحائف اور عیدی دیتے ہیں۔ اسی طرح بزرگ رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے ان کے گھروں میں جایا جاتا ہے۔ بزرگ رشتہ دار بھی چھوٹے بچوں سے اس موقع پر پیار اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ عید منانے والوں میں دو طرح کے لوگ نظر آتے ہیں۔ بعض ایسے لوگ جنہوں نے رمضان المبارک میں اپنے وقت کو اپنے ذاتی اور معاشی کاموں میں صرف کر دیا ان لوگوں نے عبادات اور حصولِ تقویٰ کے لیے اپنی صلاحیتوں‘ توانائیوں اور وقت کو بالکل بھی وقف نہیں کیا‘ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے صحت وتندرستی کے باوجود روزے بھی نہیں رکھے ہوتے اور کچھ روزوں کو اگر رکھا بھی تو ان کے ساتھ نمازِ پنجگانہ اور نمازِ تراویح کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ نفس کی اکساہٹ‘ طبیعت کی سستی‘ اور خواہشات کے ہجوم نے ان کو اس طرح گھیرے رکھا کہ وہ اس ماہِ مقدس کی برکات سے محروم رہے۔ رمضان ان کے لیے اسی طرح تھا جس طرح سال کا کوئی دوسرا مہینہ۔ جبکہ ان کے مدمقابل بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے رمضان المبارک میں ان تمام اعمال کو بجا لانے کی کوشش کی‘ جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی قربت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے روزے رکھے اور اس نیت کے ساتھ رکھے کہ اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر تقویٰ والی زندگی گزارنے کی تیاری کی جائے۔ یقینا تقویٰ عبادات کی ادائیگی کے دوران خصوصی اہمیت کا حامل ہے‘ جو شخص تقویٰ کے حصول کے لیے عبادات کو بجا لاتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو بہت سی عظیم کامیابیوں کے ساتھ نوازتے ہیں۔ سورۂ طلاق میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ تقویٰ اختیار کرنے والے کی تنگیوں کو وہ دور کر دیتے ہیں اور اس کو رزق وہاں سے دیتے ہیں جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے معاملات کو آسان بنا دیتے‘ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتے اور اس کے اجر کو دوچند بنا دیتے ہیں۔ سورۂ حجرات میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کی نظروں میں سب سے زیادہ محترم وہ ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ سورۃ الاعراف میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر بستیوں کے رہنے والے لوگ ایمان وتقویٰ کو اختیار کر لیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے لیے آسمان اور زمین سے برکات کے دروازوں کو کھول دے گا۔ اس کے برعکس جب لوگ تقویٰ سے انحراف کرتے ہیں تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی پکڑ میں آ جاتے اور اس کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔
جن لوگوں نے رمضان کو تقویٰ کے حصول کا موقع جانا‘ وہ لوگ نمازِ پنجگانہ اور قیام اللیل کا بھی اہتمام کرتے رہے اور انہوں نے قرآن مجید کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بنانے کی کاوش بھی جاری رکھی۔ انفاق فی سبیل اللہ حتی المقدور کرنے کے لیے بھی یہ لوگ آمادہ وتیار رہے۔ ان میں سے بعض خوش نصیب ایسے بھی تھے جنہوں نے رمضان کے دوران عمرے کی سعادت حاصل کر کے‘ حدیث پاک کے مطابق‘ حج کا ثواب حاصل کیا اور ایک اور حدیث کے مطابق نبی کریمﷺ کی معیت میں کیے جانے والے حج کا ثواب حاصل کیا۔ بہت سے لوگوں نے اعتکاف بھی کیا اور لیلۃ القدر کے حصول کی جستجو کی۔ یہ تمام لوگ یقینا عید کے دن ظاہری خوشی سے بڑھ کر باطنی اور اندرونی خوشی حاصل کرتے ہیں۔
اس دفعہ پاکستان میں رمضان کچھ اس انداز سے گزرا کہ اس دوران بہت سے جید علما کو شہید کر دیا گیا اور ملک بھر میں خوف وہراس کی سی کیفیت رہی۔ عید کے موقع پر جہاں آج پاکستان کے عوام خوشیاں منا رہے ہوں گے‘ وہیں ان جید علماء کرام کے اہلِ خانہ اور معتقدین اپنے سرپرستوں اور عظیم رہنماؤں کی یاد میں ڈوبے ہوئے دکھ‘ کرب اور پریشانی کا شکار ہوں گے اور وہ امید کر رہے ہوں گے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے شہدا کے قاتلوں کو جلد ازجلد کیفرِ کردار تک پہنچائے گی۔ ملک میں قیامِ امن یقینا حکومت کی اہم ترین ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے ہر دورِ حکومت میں ہی بہت سی غفلت اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس حوالے سے حکومتِ وقت کو اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے نبھانا چاہیے اور شہید ہونے والے علماکے پسماندگان اور معتقدین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیوں اور وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے۔
دنیا کے بہت سے مقامات پر مسلمان کچھ اس انداز سے بھی عید کو منا رہے ہیں کہ ان کے قریبی اعزہ واقارب مسلسل ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ القدس کے علاقے میں رہنے والے مسلمان‘ اسی طرح کشمیر اور برما (میانمار) میں بسنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد کئی عشروں سے ظلم اور تشدد کا شکار ہے۔ نوجوان کثیر تعداد میں شہید ہو چکے ہیں‘ بچے یتیم ہو چکے ہیں اور عورتوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے امت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایک طرف اپنے مظلوم ومقہور بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریں اور دوسری طرف حکمرانوں سے اس بات کا بھی مطالبہ کریں کہ ان مظلوم مسلمانوں کی اشک شوئی کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ مسلمان ظلم کی قید سے آزاد ہو سکیں۔
عید الفطر کے بعد جب ہم دوبارہ اپنی زندگی کے معمولات کی طرف لوٹیں گے تو رمضان المبارک کے دروس کو یاد رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ گو اب روزے کی فرضیت باقی نہیں رہی لیکن رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے والے شخص کو سال بھر کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔ ہر مہینے میں چاند کی 13‘ 14 اور 15 تاریخ (ایام بیض) اور اسی طرح ہر ہفتے میں پیر وجمعرات کے روزے رکھنا بھی مسنون عمل اور یقینا بہت بڑا فضیلت کا کام ہے۔ نمازِ تراویح میں جس قیام اللیل کی مشق کی گئی اس کو سال بھر جاری رکھنا اور نماز تہجد کو بھرپور طریقے سے ادا کرنا یقینا رمضان کے دروس میں سے ایک اہم درس ہے۔ رمضان المبارک میں انفاق فی سبیل اللہ کا جو سبق حاصل ہوا اس کو سال بھر جاری وساری رکھنا اور غربا‘ یتامیٰ‘ مساکین اور فقرا کی مالی معاونت کی کوشش کرنا بھی ایک عظیم کام ہے‘ جس کی طرف سال بھر مسلمانوں کو متوجہ رہنا چاہیے۔
بہت سے لوگ عید کی نماز پڑھنے کے بعد یوں سمجھتے ہیں کہ رمضان المبارک میں کیے گئے اعمال کا تعلق فقط رمضان ہی کے ساتھ تھا اور اب ان کو اس حوالے سے رخصت حاصل ہو گئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رمضان المبارک میں کیے جانے والے خیر کے کاموں کو سال بھر جاری رکھنا اور تقویٰ کے راستے پر چلنے کی بھرپور انداز میں کوشش کرنا ہی اس ماہِ مقدس کا اصل مقصد اور ایک مومن کی حقیقی کامیابی ہے۔ اگر ان نکات کو ذہن میں رکھ کر نمازِ عید کو ادا کیا جائے اور اس طرح عید کے دن کو بسر کیا جائے تو یقینا عید کی خوشیاں دوبالا ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگرعید کو فقط ایک رسم سمجھ کر منایا جائے اور رمضان المبارک کے اسباق کو فراموش کر دیا جائے تو یقینا ہم نے وہ درس حاصل نہیں کیا جس کی ہمیں ضرورت تھی۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں فہم و شعور اور حکمت وبصیرت عطا فرمائے تاکہ رمضان کے بعد جہاں ہم عید کی خوشیوں کو حاصل کر سکیں وہیں رمضان کے اسباق کو بھی زندگی میں جاری و ساری رکھ سکیں‘ آمین!