بجلی کی قیمت‘ آئی ایم ایف اور ڈالر ذخائر

عید کے بعد گرمی کی شدت بڑھنا شروع ہو جائے گی اور بجلی کے بلوں پر عوامی غم وغصہ نظر آنے کے امکانات ہیں کیونکہ بجلی کے بل عام آدمی کیلئے ناقابلِ برداشت ہیں۔ پاکستان میں مہنگی بجلی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس وقت ڈالر ریٹ کنٹرول میں ہے‘ شرح سود نیچے آ چکی اور مہنگائی میں بھی کمی ہوئی ہے لیکن بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہیں آ سکی۔ حکومت نے بجلی کی قیمتیں کم کرنے کے بڑے دعوے کیے تھے مگر 15 مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کے بجائے دس روپے مزید لیوی عائد کر دی گئی اور اعلان کیا گیا کہ سرکار جلد ہی بجلی ریلیف کا اعلان کرے گی۔ تقریباً آٹھ روپے فی یونٹ کے دعوے کیے جا رہے تھے۔ عوام امید لگا کر بیٹھ گئے۔ پہلے کہا گیا کہ 23 مارچ کو بجلی پر ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا جائے گا لیکن اعلان نہیں ہو سکا۔ اب اعلان ہوا ہے تو صرف ایک روپیہ 71 پیسے فی یونٹ بجلی سستی کرنے کا‘ اور اس کی وجہ بھی کیپکو پاور پلانٹس کو بجلی کی پیداوار کیلئے سستی گیس کی فراہمی ہے۔ یعنی کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ حکومت اب بھی دعویٰ کر رہی ہے کہ بجلی صارفین کیلئے ریلیف پیکیج پر کام جاری ہے اور آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد اس پیکیج کا اعلان کیا جائے گا۔ عوام سرکار کی جانب دیکھ رہے ہیں اور سرکار آئی ایم ایف کی طرف۔ ان حالات میں سوال یہ ہے کہ کیا حکومت بجلی صارفین کو ریلیف دے سکتی ہے اور کیا بجلی مزید سستی ہو سکتی ہے؟ 200 یونٹس استعمال کرنے والوں پر ٹیکس تقریباً 22 فیصد ہے جو زیادہ یونٹس کے استعمال سے 35 سے 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس میں 18 فیصد سیلز ٹیکس‘ 9 فیصد تک انکم ٹیکس اور دیگر فکسڈ چارجز شامل ہیں۔ 8 روپے فی یونٹ کا ریلیف قلیل مدت میں تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس کے کیلئے دیرپا منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی دس روپے بڑھادی گئی ہے‘ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بنیاد پر بھی اگر بجلی ریٹ کم ہو سکتا تو وہ تقریباً 1.71 روپے فی کلوواٹ ہی ہے۔ اب سرکار کس بنیاد پر بجلی سستی کرنے کے دعوے کر رہی تھی‘ یہ وہی بہتر بتا سکتی ہے۔
مکمل پاور کپیسٹی کا 20 فیصد چائنیز آئی پی پیز کی ملکیت ہے۔ اگر ان کے ساتھ قرضوں کو ری شیڈول کر لیا جائے تو تقریباً پونے تین روپے فی یونٹ تک کمی ہوسکتی ہے۔ اگر بجلی کا استعمال پانچ فیصد تک بڑھ جائے تو ایک روپیہ17 پیسے فی کلو واٹ ریٹ کم ہو سکتا ہے۔ کیپٹو پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے۔ اگر کیپٹو پاور پلانٹس کے بجائے سستی گیس ایسے آئی پی پیز کو دی جائے جن کی پیداواری صلاحیت بہتر ہے تو تقریباً 3 روپے 35 پیسے فی کلو واٹ تک بجلی سستی کی جا سکتی ہے۔ بجلی چوری اور ریکوری کے نقصانات کا تخمینہ تقریبا 11.43 فیصد ہے۔ اگر اسے پانچ فیصد کم کرلیا جائے تو 1 روپیہ 90 پیسے فی کلو واٹ تک بجلی سستی ہو سکتی ہے۔ ڈسکوز کی نجکاری سے بھی بجلی کے نقصانات کم ہو سکتے ہیں اور بجلی کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔ اس طرح کی کئی تجاویز میں اپنے کالموں میں پیش کر چکا ہوں لیکن شاید حکومت کیلئے ان پر عمل کرنا مشکل ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے مجھے بتایا کہ وزیراعظم نے بذات خود ان سے 8 روپے فی یونٹ بجلی کم کرنے کا وعدہ کیا تھا‘ لیکن اب حکومت اس سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ بند فیکٹریوں کو فکسڈ چارجز کی مد میں بجلی کے بھاری بل بھیجے جا رہے ہیں‘ لیکن سرکار اور آئی ایم ایف کو اس سے فرق نہیں پڑ رہا۔ اگر آئی ایم ایف نہیں مان رہا تو بجلی کی قیمت کم کرنے کیلئے ٹیکسز کے بجائے آئی پی پیز کے کپیسٹی چارجز ختم کیے جا سکتے ہیں۔ تقریباً 1800 ارب روپے سالانہ کپیسٹی چارجز کی مد میں دیے جا رہے ہیں جو پانچ ارب روپے روزانہ بنتے ہیں۔ ان میں سے آدھے آئی پی پیز حکومت کی ملکیت ہیں۔ اس وقت تقریباً 17 روپے فی یونٹ کپیسٹی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔ اگر سرکاری آئی پی پیز کو ادائیگیاں بند ہو جائیں تو بجلی 8 روپے سستی ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی پر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریٹ کم کرنے کی درخواست کو تسلیم کرنا مشکل ہے کیونکہ ایف بی آر کو پہلے ہی نو ماہ کی وصولیوں میں 716 ارب روپے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے لیکن قرض کی قسط ابھی نہیں دی جا رہی اور اسے جون میں بجٹ کے بعد تک لٹکا دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کو شاید خدشہ ہے کہ حکومت بجٹ میں کسی بڑے ٹیکس ریلیف کا اعلان نہ کر دے۔ حکومت کو امید تھی کہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط فوراً مل جائے گی اور اسے ڈالر ذخائر مینج کرنے کیلئے مارکیٹ سے ڈالر نہیں خریدنے پڑیں گے لیکن صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ چینی بینک کے تقریباً ایک ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کی گئی ہے جسے چند ماہ بعد دوبارہ حاصل کر لیا جائے گا لیکن تب تک ملکی ذخائر ساڑھے دس ارب ڈالرتک گرنے سے کرنسی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ اوپن مارکیٹ سے ڈالرز خریدنے میں تیزی آ رہی ہے۔ جون سے دسمبر 2024ء تک سٹیٹ بینک نے تقریباً ساڑھے پانچ ارب ڈالرز مارکیٹ سے خریدے۔ موجودہ مالی سال کے اختتام پر یہ رقم آئی ایم ایف پیکیج سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ پچھلے مالی سال میں تقریباً 9ارب ڈالر اوپن مارکیٹ سے خریدے گئے تھے‘ یعنی آئی ایم ایف پروگرام حاصل کرنے کے باوجودحکومت ڈالرز ذخائر کا انتظام نہیں کر سکی اور اسے اوپن مارکیٹ سے خریداری کرنا پڑ رہی ہے۔ اگر اوپن مارکیٹ سے خریداری نہ کی جاتی تو اس وقت ملکی ذخائر تقریباً دو ارب ڈالر رہ جاتے اور ڈیفالٹ کی افواہیں پھیل چکی ہوتیں۔
اس وقت ڈالر ذخائر تقریباً 10 ارب 60 کروڑ ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال کے اختتام تک انہیں 13 ارب ڈالر ہونا چاہیے۔ اس دوران تقریباً دو ارب 70 کروڑ ڈالرز کے مزید چینی قرضے واپس کرنے ہیں۔ حکومت کیلئے جون سے پہلے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ سٹیٹ بینک کو امید ہے کہ عیدالاضحی سے قبل بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بہتری کے امکانات نہیں ہیں کیونکہ کنسٹرکشن پیکیج کی منظوری نہیں مل سکی۔ اس کے علاوہ کوئی اور ایسا سبب بھی نہیں ہے جس سے ترسیلاتِ زر میں غیر معمولی اضافے کی توقع کی جا سکے۔ شاید ایک مرتبہ پھر چین سے مزید قرض کی گزارش کی جائے۔ ابھی تک چین کے تقریباً 14 ارب 70 کروڑ ڈالرز رول اوور پر ہی چل رہے ہیں۔ مزید قرض ملنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں آذربائیجان نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کیش ڈپازٹ کی آفر کی ہے۔ وزیراعظم نے آذربائیجان کے حالیہ دورے پر ملک میں سرمایہ کاری کی درخواست کی تھی۔ بعد میں سکھر حیدرآباد موٹروے ایم 6 اور حیدرآباد کراچی موٹروے ایم 9 کی تعمیر کی درخواست کی گئی۔ آذربائیجان نے سرمایہ کاری کے بجائے کیش ڈپازٹ دینا بہتر سمجھا‘ وہ بھی صرف سکھر حیدرآباد موٹروے کیلئے۔ شاید وہ سوچتے ہوں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے واپس نکالنا مشکل ہے‘ اس لیے کیش قرض دیا جائے اور اس پر بھاری سود لیا جائے۔ جب ضرورت ہو تو قرض کیش فوری واپس لے لیا جائے۔ اطلاعات ہیں کہ ہماری افسر شاہی حسبِ روایت اس میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں پیش پیش ہے۔ ایک طرف سندھ کی سڑکوں کیلئے آذربیجان سے قرض مانگا جا رہا ہے اور دوسری طرف وفاقی حکومت اپنے بجٹ سے لاہور‘ ساہیوال بہاولنگر موٹروے تعمیر کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ دیگر مسائل کے علاوہ یہ بھی سندھ اور پنجاب میں تنازع کی ایک وجہ ہے اور بقول کسے‘ زیادہ اختلاف شاید کمیشن کے معاملے پر ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں