کرپشن کے خاتمے‘ منی لانڈرنگ کی روک تھام اور انصاف کی فراہمی سمیت کئی معاملات میں آئی ایم ایف کی جانب سے حکومتی اقدامات کی تعریف کی گئی ہے اور مشن کے حالیہ دورۂ پاکستان کو تسلی بخش قرار دیا جا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق حکومت پاکستان اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے‘ اس لیے آئی ایم ایف بھی بھرپور تعاون کے لیے تیار ہے۔ مشکل معاشی حالات میں آئی ایم ایف کا یہ بیان حوصلہ افزا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حکومت نے کسی ادارے کو سب سے زیادہ سنجیدہ لیا ہے تو وہ آئی ایم ایف ہے۔ اگرچہ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران ٹیکس اہداف حاصل نہیں ہو سکے اور نجکاری کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے‘ لیکن چاروں صوبوں اور وفاق کے پاس کیش اور وفاقی پرائمری بجٹ سرپلس ہے جبکہ زراعت پر ٹیکس کی شرط بھی پوری کر دی گئی ہے۔ گورننس کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف مطمئن ہے۔ گردشی قرضوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں گردشی قرضے دو کھرب 39 ارب روپے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں خسارہ تقریباً 226 ارب روپے تھا جو رواں مالی سال کے اسی دورانیے میں تقریباً 158 ارب روپے ہے۔ اس کی وجہ سرکاری اداروں میں آزاد بورڈز کی تعیناتی ہے البتہ سندھ کے دو اداروں‘ ہیسکو اور سیپکو میں پیپلز پارٹی نے اب تک آزاد بورڈ تعینات نہیں ہونے دیے۔ 158 ارب میں سے تقریباً 82 ارب کا نقصان انہی دو اداروں کا ہے۔ گردشی قرضوں میں اضافے کی بڑی وجہ بجلی چوری ہے۔مذکورہ دو اداروں کے خسارے کی قیمت پورے ملک کو ادا کرنا پڑرہی ہے۔ اصلاحات کے لیے سیاسی مصلحت کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سرکاری اداروں اور عوام کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔ امید ہے کہ آئی ایم ایف وفد کا اگلا دورہ بھی کامیاب ہو گا اور پاکستان کو قرض کی قسط مل جائے گی۔
ان حالات میں آئی ایم ایف سے کیا مطالبات کرنے ہیں‘ اس حوالے سے محتاط رویے کی ضرورت ہے۔ مالی سال 2023-24ء میں سرکاری اداروں کا خسارہ تقریباً 850 ارب روپے رہا اور قرض تقریباً نو کھرب سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ رقم ملک کو حاصل ہونے والے ٹیکس کے برابر ہے۔ رئیل اسٹیٹ انڈسٹری ان حالات میں وزیراعظم سے رئیل اسٹیٹ ایمنسٹی کا بار بار مطالبہ کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے جب آئی ایم ایف کو جواز بنا کر دبے لفظوں میں انکار کیا تو مطالبہ کیا گیا کہ آپ ہماری آئی ایم ایف سے ملاقات کرا دیں‘ ہم انہیں قائل کر لیں گے۔ اب اگلے مہینے رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز کی آئی ایم ایف سے ملاقات متوقع ہے جس سے زیادہ امیدیں نہیں لگائی جا سکتیں کیونکہ ابھی تک ٹیکس اہداف حاصل نہیں ہو سکے‘ لہٰذا ان حالات میں رئیل اسٹیٹ ایمنسٹی سے ٹیکس کا حصول مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
ٹیکس اہداف حاصل کرنے کے لیے معیشت کو ڈیجیٹل کرنے پر کام جاری ہے۔ سٹیٹ بینک نے 'راست‘ کے ذریعے ادائیگیوں کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے نئے اصول متعارف کرائے ہیں اور اسے ایف بی آر سے بھی منسلک کیا جا رہا ہے۔ اگر سنجیدگی سے کام ہوتا رہا تو بہت جلد کیش لیس اکانومی کا خواب پورا کیا جا سکتا اور ٹیکس اہداف کا حصول آسان ہو سکتا ہے۔ البتہ ایف بی آر کو فعال کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ابھی تک پچاس لاکھ لوگوں کے اثاثوں‘ بینک سٹیمنٹس اور آمدن کا جو ڈیٹا ایف بی آر کو نادرا کی مدد سے حاصل ہوا ہے‘ اس پر کام نہیں کیا جا سکا بلکہ تنخواہ دار طبقے کو بے بنیاد ٹیکس نوٹس بھیج کر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے کا بھی اسی طرح نوٹس لے جیسے وزیراعظم نے سمگلنگ میں ملوث 78 کسٹم افسران کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے 28 فروری تک رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں عام آدمی کو گھر کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بینکوں سے سستے قرض کی سکیم سامنے آ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف سے 236k اور 236c ٹیکس ریٹ کم کرنے‘ ایف ای ڈی کو ختم کرنے اور 7e کی شرائط میں نرمی کی درخواست بھی کی جا سکتی ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو اسی پر اکتفا کرنا بہتر ہو گا۔ کنسٹرکشن ایمنسٹی یا پہلا گھر خریدنے کے لیے ایک سے اڑھائی کروڑ تک ایمنسٹی کے امکانات کم ہیں۔2021ء میں جو رئیل اسٹیٹ ایمنسٹی دی گئی تھی وہ آئی ایم ایف کی مرضی کے خلاف دی گئی تھی۔ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی خلاف ورزی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے فوائد کے ساتھ نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر کی گروتھ لگ بھگ منفی دو فیصد رہی۔ پچھلے تقریباً تین سالوں سے اس کی گروتھ منفی ہے جس کے سبب بیروزگاری چھ فیصد سے بڑھ کر دس فیصد ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس ریلیف کے معاملے میں بھی آئی ایم ایف کا دہرا معیار سامنے آ رہا ہے۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے آئی سی سی‘ اس کے سٹاف اور بیرونِ ملک کھلاڑیوں کو حاصل ہونے والی آمدن کو ٹیکس فری قرار دیا گیا ہے اور آئی ایم ایف نے اس کی منظوری بھی دے دی ہے حالانکہ پاکستانی بزنس کمیونٹی کو بجلی کے بلوں میں دو روپے ریلیف دینے پر آئی ایم ایف سیخ پا ہو رہا تھا۔ ڈالروں میں منافع کمانے اور تنخواہیں لینے والے خوشحال اداروں‘ ملازمین اور کھلاڑیوں کو ٹیکس ریلیف دینے پر آئی ایم ایف کو کوئی اعتراض نہیں لیکن تنخواہ دار طبقے پر پچھلے سالوں کا اضافی ٹیکس بوجھ بھی ڈالا جا رہا۔ حکومت اگر پاکستانی عوام کا درد رکھتی ہے تو اس معاملے کو آئی ایم ایف کے سامنے رکھ کر متوسط طبقے کو تنخواہوں پر ٹیکس کم کر سکتی تھی۔ حکومت کو آئی ایم ایف اور آئی سی سی کا تو خیال ہے لیکن شاید وہ عوام کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔
دوسری جانب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور رمضان سے قبل ہی چکن‘ انڈوں‘ چینی اور پھلوں کے ریٹ آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں۔ سرکار نے کم ریٹ والی لسٹیں تو جاری کر دی ہیں‘ چینی کا ریٹ بھی 130 روپے رکھا گیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کہیں نہیں ہو رہا۔ ہفتہ وار مہنگائی میں بھی 1.21 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ رمضان پیکیج کے نام پر لوٹ مار کا جوسلسلہ پچھلے سالوں میں جاری تھا اس سال بھی اس کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ اول تو سرکاری ریٹ پر اشیا ملتی ہی نہیں اور اگر کہیں مل جائیں تو معیار اس قدر کمتر ہوتا ہے کہ لوگ مہنگی اشیا خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ غریب عوام کو شاید اب رمضان میں ہی فروٹ چاٹ کھانے کا موقع ملتا ہے۔ فروٹ چاٹ میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پھل کیلا ہے اور مارکیٹ میں اس وقت کیلے کی قیمت دُگنی ہو چکی ہے کیونکہ اسے سٹاک اور ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے جو اس کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ غیر مسلم ممالک میں رمضان المبارک سے قبل خصوصی ڈسکاؤنٹس دیے جاتے ہیں مگر ہمارے اسلامی جمہوریہ ملک میں منافع کی شرح ہی بڑھا دی جاتی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ ناجائز منافع خوروں کو پوچھنے اور روکنے والا سرکاری نظام غیر فعال ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دالوں اور چاول کی ایکسپورٹ پر پابندی لگائی ہے تاکہ ان کی قیمت کم ہو سکے۔ چاول اور دال کی قیمت میں کچھ فرق ضرور پڑا ہے لیکن یہ رمضان میں برقرار رہتا ہے یا نہیں‘ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔