"RBC" (space) message & send to 7575

رو میں ہے رخشِ عمر

کچھ معلوم نہیں ہم اس کیفیت کو کیا نام دیں۔ کیسی کیفیت سمجھیں۔ شاید ہماری عمر کا اس میں کوئی حصہ ہے کہ ہر سال عید آنے کی خبریں گرم ہوتے ہی ہمارا دل کسی اور دنیا میں کھو جاتا ہے۔ واپس اُسے وقتِ موجود میں لانے کے جتنے جتن کریں ایک کھوئے ہوئے انسان کی طرح ہاں کہہ کر پھر کہیں گم ہو جاتا ہے۔ کچھ پڑھ اور بہت سُن رکھا ہے کہ کامیاب اور خوش لوگ وقت کے دھارے کے ساتھ رہتے‘ سوچتے اور کام کرتے ہیں۔ نہ وہ ماضی کے اندھیروں میں رہ کر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں اور نہ مستقبل کے خواب وخیال میں اپنی طاقت زائل کرتے ہیں۔ وقت کا گھوڑا کبھی تھکا ہے نہ رکا ہے‘ مسلسل دوڑے چلا جا رہا ہے۔ جو اس پر سوار ہے وہ اس کی رفتار کے ساتھ زندگی کی منزلیں طے کرتا کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا۔ بات اس پر سوار ہونے والوں کی ہے کہ وہ تھک جاتے ہیں مگراس کی اگلی منزل کبھی آئی ہی نہیں۔ وہ ہمیشہ اگلی منزل کی طرف‘ ناک کی سیدھ میں چلتا رہتا ہے۔ ابدی وقت کے ساتھ‘ اس کی رو میں بہنے والے سب تحلیل ہو جاتے ہیں کہ انہیں ہمیشگی کی سند حاصل ہے اور نہ یہ خاکیوں کی ساخت اور فطرت میں ہے۔ مسافر بھلا کب تک سفر میں رہ سکتا ہے کہ جب منزل ہی سراب بن جائے۔ یہ اس لیے ہے کہ انسان کی خواہشات کا نہ کوئی ٹھکانہ ہے نہ کوئی حد۔ ایک زمانے میں اپنے گائوں میں کولہو‘ بیل اور تیل نکالنے والوں کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ درختوں کے جھنڈ میں سرسوں کے تیل میں لپٹے میلے کچیلے کپڑوں کے ساتھ وہ شخص روزانہ اس کا م میں مصروف رہتا۔ آوارہ گردی کے اولین دور میں حیرت اور تجسس کئی مرتبہ تیل نکالنے اور باقی ماندہ مواد سے مویشیوں کے لیے کھل تیار کرنے کے اس دیہاتی کارخانے کو دیکھنے لے جاتے۔ پھر وقت بہت آگے نکل گیا۔ نہ وہ تیل رہا‘ نہ بیل اور نہ کولہو۔
وہ سادہ سا زمانہ تھا۔ آبادی بہت کم تھی‘ ابھی دیہات میں فطری معصومیت کا عنصر نمایاں تھا۔ سب اس چھوٹے سے قصبہ نما گائوں میں ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ ناموں‘ کاموں اور سب کرداروں سے ایسی قربت جیسے اپنے ہی چھوٹے سے خاندان سے ہوا کرتی تھی۔ زمیندار‘ تاجر اور کچھ سرکاری نوکریوں میں اور پھر وہ جو مختلف دستکاریوں سے وابستہ تھے‘ سب میں روایتی فرق تو تھا مگر معیارِ زندگی تقریباً ایک جیسا تھا۔ ابھی گوشت خوری کی وبا‘ فارمی مرغیوں‘ فارمی مچھلیوں اور کڑاہی گوشت کی صورت نہیں پھیلی تھی۔ کبھی کبھار کوئی گائے اپنی زندگی کی سب منزلیں طے کرتی اور سب کاموں سے ریٹائر کر دی جاتی تو قصائی ذبح کرکے بیچتا یا پھر ہفتے میں ایک آدھ مرتبہ لنگڑی ہو جانے والی یا قریب المرگ کوئی بکری گوشت کے لیے ذبح کر لی جاتی۔ کسی کو تب آدھ کلو گوشت سے زیادہ لیتے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اکثریت ایک پائو کی گاہک ہوتی تھی۔ ہمارے گھر اور اکثر گھروں میں دال اور سبزی پکائی جاتی تھی اور وہ بھی صرف شام کے کھانے میں۔ کوئی مہمان آتا اور وہ بھی اگر کوئی اعلیٰ مرتبے کا‘ تو دوپہر ہو یا شام گھر میں ادھر اُدھر بھاگتی مرغیوں میں سے ایک کو پکڑنے کا ہم اپنا فرض منصبی پورا کرتے۔ پوری عمر گزرنے کے بعد پتا نہیں میں یہ کیا لکھ بیٹھا۔ آج بھی ان کھانوں کی خوشبو دل ودماغ کو معطر کر دیتی ہے۔
عید ایسا موقع تھاجب ہم پہلے لاہور اور پھر اسلام آباد سے ہر سال ٹرین پکڑ کر ہر صورت بزرگوں کے حضور حاضری دیتے۔ یہ سرکاری نوکری والی حاضری نہیں‘ محبت میں سموئی دل کی بیتاب دھڑکنیں ہوتی تھیں۔ انجن کی روانگی کی سیٹی سنتے ہی تڑپ کی لہریں اُٹھتیں کہ آگے گاؤں کا ریلوے سٹیشن آ جائے۔ بہت افسردگی کا زمانہ تھا۔ لاہور یا راولپنڈی سے سوار ہوتے اور گھر تک ریل میں سفر ہوتا۔ تب وقت کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ اب کسی کو اس سفر میں تقریباً 20 سے 24 گھنٹے رہنا پڑے تو کاروں اور جدید سڑکوں کے اس دور میں اسے دیوانگی سے تعبیر کرے۔ اگر ایسا بھی ہو تو بالکل درست ہے۔ ہم دیوانگی کی صورت میں اپنے دیہات کا رُخ کرتے۔ راستے میں اُونگھتے‘ آنکھ کھولتے اور سونے کے لیے برتھ مل جاتی تو خواب دیکھتے ابا‘ امی اور دوستوں کے جھرمٹ میں ہوتے۔ اپنے سٹیشن پر ٹرین رکتی تو جس طرح صبح سویرے پرندے بھوک کے مارے روشنی کی کرنیں پھوٹتے ہی پروں کو پھڑپھڑا کر اُڑ جاتے ہم بھی لمبے اور تیز قدموں کے ساتھ بیگ بغل میں دبائے برق رفتاری سے گھر کی راہ لیتے۔
اُس زمانے میں ہمارے علاقوں میں دور دور تک ایک بھی موٹر سائیکل نہیں تھی۔ سب لوگ اپنا اپنا سامان اُٹھائے پگڈنڈیوں سے کھیتوں کے درمیان گزرتے ہوئے جاتے۔ ہمارے بزرگ انتظار میں ہوتے کہ نہ ان کی ہمارے بغیر عید ہوتی اور نہ ہماری۔ گلے لگتے ہی اس لمبے سفر کی ساری تھکن‘ جس کا احساس یقین مانیں کبھی ہوا ہی نہیں تھا‘ محض ایک لمحے میں دور ہو جاتی۔ ''آج گھر میں کیا پکا ہے؟‘‘ یہ سوال نہ کسی کے دل میں آتا تھا نہ زبان پر‘ کہ شکم پرستی کا رواج نہ تھا۔ اس سوال میں ایک خواہش پوشیدہ ہوتی ہے کہ کھانا وہ ہو جس کی کسی کو اہمیت ہو‘ دل کو لبھائے اور لذت میسر آئے۔ ہم اور قسم کے لوگ تھے‘ جو بھی مل جاتا‘ شوق اور محبت سے کھاتے۔ اس کا لطف اور مزہ ہی کچھ اور تھا۔ اس درویش کو آج بھی ''آج کیا پکا ہے؟‘‘ کے سوال سے چِڑ ہے۔ کوئی پوچھ لے کہ ''کیا کھائیں گے؟‘‘ تو کہتے ہیں ''جو بھی ہو‘‘۔ مل بیٹھ کر ایک ساتھ کھانے کا رواج تھا۔ آج کے دور کی طرح نہیں کہ کوئی کچن میں‘ کوئی سکرینوں کے سامنے اور کوئی گھر کے کسی اور کونے میں۔ اکیلے کھانے کا رواج کہیں بھی نہ تھا۔ سب ایک وقت میں اکٹھے کھاتے۔ عید کے دن صبح کا انتظار بھی کسی کے انتظار سے کم نہ ہوتا۔ کپڑے کئی دنوں سے تیار ہوتے۔ بدلتے ہی سفید‘ ابلی ہوئی سویوں کی مہک ہر سُو پھیل جاتی۔ یہ سویاں بھی گھروں میں اپنی ہی گندم کے آٹے سے کئی ہفتے پہلے تیار کر کے سرکنڈے اور کھجور کے پتوں سے بنے گول صندوقچوں میں حفاظت سے رکھ دی جاتی تھیں۔ اب ہمارے پاس اُن وقتوں کی نشانیوں میں وہ صندوق ہی رہ گئے ہیں۔ نہ وہ سویّاں رہیں نہ بنانے والیاں۔ اُبلتی سویوں کو چاشنی سے گزار کر جب امی جستی تھال میں ڈال دیتیں تو ساتھ ہی سب کو حکم ہوتا کہ فوراً تازہ کھائو۔ گھر کا تازہ مکھن اوپر ڈالتیں تو ایک اور خوشبو کا اضافہ ہو جاتا۔ ساتھ پلیٹ میں شکر یا پسا ہوا گُڑ رکھ دیا جاتا۔ سفید چینی کا استعمال تب شہروں تک محدود تھا۔
اس زمانے میں ابھی چائے کی بیماری کسی کو نہیں لگی تھی۔ صرف سردیوں میں نزلہ زکام کی صورت میں‘ کبھی کبھار کچھ گھروں میں بطورِ جوشاندہ پی جاتی تھی۔ لسی کے دور سارا دن چلتے‘ بلکہ شام کے قریب تک۔ رات کے کھانے میں کبھی دال تو کبھی تازہ سبزی۔ یاد آیا کدو‘ پیٹھا اور بینگن ہمیشہ گھر میں ہی اُگاتے تھے۔ بیری اور کھجور کے درخت تقریباً ہر گھر میں ہوتے۔ عید کی صبح آج بھی سفید سویاں اگر کہیں دکان پر مل جائیں تو لے لیتا ہوں۔ مکھن کی ٹکی اور شکر تو سارا سال موجود ہوتی ہے۔ یہ نقل اصل تو نہیں ہو سکتی مگر کچھ دیر کے لیے کھوئی ہوئی دنیا میں کھو جانے کا موقع ضرور مل جاتا ہے۔ ہماری آج کے دورکی عید میں سب رنگ سویوں کی مہک کی طرح پھیل جاتے ہیں۔ وقت کا گھوڑا اپنی رفتار سے بھاگے جا رہا ہے‘ اور اس پر سواری کوئی اختیاری مضمون نہیں‘ لازمی ہے؛ چنانچہ ''کہاں دیکھیے تھمے‘‘۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں