"RBC" (space) message & send to 7575

وہ زمانہ گیا

ایک وقت تھا جب حکومتوں کے خلاف تحریکیں چلا کرتی تھیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں اتحاد بنتے‘ مشترک لائحہ عمل طے پاتا اور سب نظریاتی‘ سیاسی اور ذاتی اختلافات ختم کر کے تحریک کا حصہ بن جاتے۔ یہ سطور لکھتے وقت میرے ذہن میں ایسی پہلی تحریک تو ایوب خان کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی ہے۔ ہم بھی اُس زمانۂ طالب علمی میں ہڑتالیں کرتے‘ کلاسیں بند کراتے اور سڑکوں پر جلوس نکالتے تھے۔ سب جماعتیں تب بھی اکٹھی نہیں تھیں‘ سوائے چند اہم سیاسی جماعتوں کے‘ جن کی قیادت نوابزادہ نصر اللہ خان کے ہاتھ میں تھی۔ ان کی کوشش تھی کہ سیاسی معاملات ایوب خان کے ساتھ گول میز کانفرنس میں بیٹھ کر حل کیے جائیں تاکہ پُرامن اقتدار کی منتقلی ممکن ہو سکے۔ ایوب خان بھی یہی چاہتے تھے۔ ایک کانفرنس ایسی ہوئی بھی جس میں شیخ مجیب الرحمان کی رہائی کا مطالبہ مان کر انہیں بھی شریک کیا گیا۔ ان سب کے برعکس ذوالفقار علی بھٹو کسی کانفرنس کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔ وہ الگ رہ کر شہر بہ شہر جلسے جلوس کی سیاست کو ترجیح دیتے رہے۔ سب کا ایک بڑے اتحاد کا حصہ بننا اس وقت کی سیاست میں ناممکن تھا مگر ہر جماعت‘ گروہ اور سماجی تنظیم کا مقصد ایک تھا کہ ایوب خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔
آج اور اُس وقت کی تحریک میں کئی بنیادی فرق ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایوب مخالف تحریک سیاسی جماعتوں نے نہیں‘ طلبہ نے شروع کی تھی۔ اس میں دائیں‘ بائیں قسم کی سب تنظیمیں شامل تھیں۔ وہ پوری دنیا میں شعور‘ آگہی‘ نظریاتی بیداری اور انقلابی خوابوں کا دور تھا۔ یہ سب کچھ عالمی سطح پر ہو رہا تھا‘ مغرب اور مشرق میں اس کی کوئی تخصیص نہ تھی۔ طلبہ تنظیموں نے ہی ایوب خان کے دور کا طلسم توڑا تھا اور سیاسی جماعتوں کو‘ جو دبک کر بیٹھ رہی تھیں‘ حوصلہ ملا اور ہموار کیے ہوئے راستے پر وہ چل پڑیں۔ اس وقت مزدور تنظیمیں بھی متحرک تھیں۔ ہر شہر میں ہڑتالیں کرتیں‘ جلسے منعقد ہوتے اور کئی رنگ کے جھنڈوں کی بہار میں جلوس نکلتے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر طرف‘ ہر چھوٹے بڑے شہر میں لوگوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ ایسی عوامی تحریکوں کو چلانے میں عوام کے مختلف طبقات کا شامل ہونا ہی انہیں عوامی بناتا ہے۔ یہ کہنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا کہ سیاسی جماعتوں نے‘ جنہوں نے بعد میں بنگلہ دیش اور پاکستان میں حکومتیں بنائیں‘ ہماری وہ فصل کاٹی جو نوجوانوں نے سروں پر لاٹھیاں اور سینوں پر گولیاں کھا کر اُگائی تھی۔ ایوب خان پر بداعتمادی اتنی بڑھ چکی تھی کہ ان کے آئندہ کے انتخابات سے علیحدہ ہونے کے اعلان کے باوجود اکثریت انہیں گرانے پر تلی ہوئی تھی۔ اس میں نادیدہ قوتیں بھی شامل تھیں‘ جو مارشل لاء کے نفاذ کے ساتھ سامنے آ گئیں۔ ان کے جانشین بھی کرسیٔ صدارت کی برکتوں سے مستفید ہونے کی ہوس میں سب حدیں پار کرنے کے لیے تیار تھے۔ اب اس سیاہ باب کے بارے میں کیا لکھیں کہ اندھیروں سے نہ نکل سکے اور آدھا ملک گنوا بیٹھے۔
اوپر کی سطور میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جب عوامی تحریکیں چلتی ہیں تو کوئی کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہوبگڑے حالات اور نتائج کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ یہی کچھ بھٹو مخالف تحریک میں دیکھا۔ ایک فرق ضرور تھا کہ حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں میں پاکستان قومی اتحاد کی صورت منشوری ہم آہنگی تھی۔ سب نے ایک اتحاد اور ایک انتخابی نشان پر الیکشن لڑا تھا۔ کھلم کھلا انتخابی دھاندلی کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہو گئیں۔ بھٹو صاحب بہت طاقتور وزیراعظم تھے۔ مطلق العنان مگر نرگسیت کا شکار۔ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے‘ بات آگے بڑھی بھی۔ مذاکرات کے کچھ گواہ کہتے ہیں کہ سب کچھ طے پا گیا تھا۔ اگر ایسا ہی تھا تو پھر معاہدہ کیوں نہ ہوا؟ کوئی دن ہی مقرر کر لیتے۔ کچھ اور باتیں ہیں جو ہمارے علم میں ہیں مگر ابھی لکھنے کا وقت نہیں آیا‘ اور آج کی فضا میں تو ہم ہر نوع کی سیاسی اور غیر سیاسی انتہا پسندی سے جان بچانے کی فکر میں ہیں۔ اس کے بعد جو ہوا‘ وہ کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ ہماری تاریخ کا دوسرا تاریک دور ہے جس کے نتائج میں سب شہید زندہ ہیں اور سیاست آج بھی ہر جانب دو مخالف اور متحارب شہیدوں کے وارثوں میں بٹی ہوئی ہے۔ فی الحال جو تیسرے آدمی کے خطرے کے پیش نظر اور بظاہر ملکی مفاد میں‘ اکٹھے ہیں۔ وہی نکتہ دہرانا چاہتا ہوں‘ تحریکیں چلیں‘ حکومت مفلوج بھی ہو جائے‘ لیکن حالات کا گھوڑا سرپٹ بھاگتا جب شور وغل اور گرد وغبار کے بادل سے نمودار ہوتا ہے تو اس پر کوئی اور سوار ہوتا ہے‘ اور پھر شہریوں کا یقین تحریکیں چلانے والوں پر سے اٹھ جاتا ہے۔
اس طرح مشرف کے خلاف تحریک تو وکلا نے شروع کی‘ ان کے اقتدار کی چولیں کالے کوٹوں نے ڈھیلی کیں‘ اور جب برقی ذرائع ابلاغ نے ناقابلِ یقین جوش وجذبہ دکھایا تو گھوڑے اصطبل سے نکل کر بہت دور جا چکے تھے۔ انہیں بند کرنا اب ممکن نہ رہا تھا۔ اب کیا کریں کہ پردے کے پیچھے کچھ اور بھی ہو رہا تھا۔ مشرف صاحب آخری سانسوں تک پچھتاتے رہے کہ راولپنڈی کے ریس کورس گرائونڈ میں جادو کی چھڑی کیوں تھمائی تھی۔ شاید وقت نہیں آیا کہ وہ سب راز‘ راز نہ رہیں۔ منصوبہ کامیاب رہا۔ پھر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت کامیاب ہو گئی۔ ایک سال تک اعلیٰ عدلیہ کے جج گھروں میں بند رہے تھے۔ یہاں میاں نواز شریف کے حصے میں صرف پنجاب آیا تھا۔ مرکز ان کے پاس ہوتا تو عدلیہ آزاد کرو مارچ اور اس کے بعد ایک سیاسی بندوبست ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ نہ ہوتے۔
چونکہ ابھی اگلی مجوزہ تحریک کے غبارے میں ہوا بھرنے اور عید کے بعد اُسے اڑانے کی تیاریاں کئی ماہ سے جاری ہیں‘ سوچا کہ ماضی کی تحریکوں کا حوالہ شاید ہماری آئندہ کی سیاست کے نقوش کو پڑھنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔ آج حالات بظاہر تو مختلف نظر آتے ہیں‘ پردوں کے پیچھے دیکھنے کی ہمیں ہمت نہیں۔ سیاسی جماعتوں کا ایک بڑا اتحاد بندوبستی نظام کا حصہ ہے۔ مال پانی کی کوئی کمی نہیں‘ سب کے ترقیاتی کام ہو رہے اور موروثی خاندانوں کی اڑان میں آسمان ہی آخری حد ہے۔ سب خوش ہیں‘ اور لوگ تو ہر حالت میں خوش رہتے ہیں۔ موجودہ بندوبستی نظام ماضی کے ادوار کی طرح مضبوط ہاتھوں میں ہے تو فکر کس بات کی۔ آپس کی بات ہے‘ لوگوں کے ہر طبقے میں عدم وابستگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ سیاسی تحریکوں پر اعتماد ہے اور نہ سیاسی شعبدہ بازوں پر۔ سب آزمائے جا چکے ہیں۔ عوام کی بے حسی کے پیچھے کئی دھوکا بازیاں‘ اندر کھاتے سمجھوتے اور اقتدار کی بندر بانٹ کی اَن گنت کہانیاں ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ تحریک انصاف بھی اب ہمارے قومی ہیرو حضرت مولانا صاحب کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ قدم بڑھائیں تو شاید حالات کا رخ بدلے۔ بات اگر حضرت صاحب پر ہی آن رکی ہے تو ہمارا مشورہ ہے کہ انتظار فرمائیں‘ حضرت صاحب پرانے کھلاڑی ہیں اور وہ کھیل کو انصافیوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ تحریک انصاف والوں نے اپنا سیاسی سرمایہ کافی حد تک گنوا دیا ہے۔ کوئی کرشمہ ہی ان کی کھوئی دولت لوٹا سکتا ہے۔ لیکن پھر ہمارے تاریخی ورثے میں جو آپ کچھ زیادہ دیکھ سکتے ہیں‘ کرشمے ہی تو ہیں۔ آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ انتخاب والے دن سب سے بڑا اشتہار ''وزیراعظم نواز شریف‘‘ تھا‘ جوآج کل خاموش ہیں۔ انتخابات سے پہلے بھی جب کہا جاتا تھا کہ اگلے صدر آصف زرداری ہوں گے‘ تو یقین نہیں آتا تھا۔ اب وہ جلوہ افروز ہیں۔ کسی نے اگلے وزیراعظم کا بھی بتا دیا ہے‘ نہ چاہتے ہوئے بھی یقین کرنا پڑ رہا ہے۔ ابھی تک توازن بندوبست کے حق میں ہے۔ جب ذرا بگڑے گا تو حضرت آگے آگے‘ تحریک انصاف پیچھے پیچھے‘ اور دیگر اپنے جھنڈوں کے ساتھ قدم بقدم چلیں گے۔ ماضی کی تحریکوں کا ایک سبق تو یاد ہے کہ حالات خراب ہو جائیں تو 'آگے کیا ہو گا‘ کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں‘ پردوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ اب یہ بات بھی پردے میں نہیں رہی۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں