"RBC" (space) message & send to 7575

مشینیں اور مشینی زندگی

وقت‘ فرصت اور ٹھہرائو اور خود کے ساتھ باتوں کے لمحات کا دورِ جدید میں میسر آنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہم مشینی زندگی گزارنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں‘ اور جو اس سے باہر نکل کر اپنی دنیا علیحدہ بسانے کے خواہش مند ہیں‘ ہم ان کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں۔ صنعتی معیشت کا جادو ہی ایسا ہے جو تمام معاشروں اور ریاستوں کو اپنے سحر میں لیے ہوئے ہے۔ انقلاب در انقلاب کا لامتناہی سلسلہ گزشتہ تین صدیوں میں نہ تھما ہے‘ نہ کبھی اپنے افسانے کو ایک خوبصورت موڑ دے کر مشین اور اس کی زرِ دولت کا جدید غلام کہہ سکے گا کہ بس اب بہت ہو گیا‘ مزید کی خواہش نہیں۔ دراصل صنعتی نظام کی روح ہی انسانوں میں مزید کی خواہش پیدا کرنا ہے۔ سائنسی تخلیق سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ایک ایسا طاقتور ہتھیار ہے جو صارف معاشرے کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور سرمایہ کاری سے بھرپور مالی اضافہ کرنے کے لیے ہمیشہ بروئے کار آیا ہے۔ گزشتہ ایک سو سال میں ہم نے ہر دس پندرہ سال بعد صنعتی ممالک کو ایک نئے دور میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔ گزشتہ ایک سال‘ صرف ایک سال سے ہم مصنوعی ذہانت کا سن رہے ہیں‘ اور جو اس وقت مفت میں آپ کے فون اور کمپیوٹر پر حاصل ہے‘ اگر آپ میں اسے استعمال کرنے کی صلاحیت ہے تو آپ ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ صدیوں کا علم‘ تجربہ‘ ذہانت اور اربوں انسانوں کی ہر نوع کی تخلیق نے ایک ایسا سرمایہ پیدا کر دیا ہے جو آپ اپنی انگلی کے اشارے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک ایسی کمپنی جو گزشتہ ایک دو سال میں قائم ہوئی‘ اس کی بولی ایک سو ارب ڈالر لگی ہے۔ باقی ملکوں کو چھوڑیں‘ امریکی حکومت اس شعبے میں پانچ سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کر چکی ہے‘ جو نجی کمپنیوں کی شراکت سے ہو گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر اس میں کون سی ایسی بات ہے کہ جس طرح ایک زمانے میں ''گولڈ رش‘‘ ہوا اور لوگ سونے کی تلاش میں نکل پڑے‘ اور پھر زمین کے سینے سے تیل اور گیس نکالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ جس نے صنعتی معیشت کو ایک نئے دور میں داخل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس پر انحصار اب بھی جاری ہے‘ مگر متبادل سبز ذرائع نے توانائی کے حصول کا ایک نیا میدان کھول دیا ہے۔
بھاپ کا انجن ایجاد ہوا تو دنیا میں طاقت کا توازن ہی بگڑ گیا۔ انسانی تاریخ میں یہ کل کی بات لگتی ہے۔ ہر چند سالوں بعد جب کبھی برطانیہ (اب زیادہ) یا امریکہ (بہت کم) جانے کا اتفاق ہوتا ہے تو پارکوں اور جنگلوں میں کچھ وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے مالوں کی رونق دیکھنے کی کشش بھی دل کو وہاں لے جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا کا سامان ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک ایک چھت کے نیچے سلیقے سے رکھ دیا گیا ہے۔ صارفین کی سہولت کے لیے ان مالوں میں ہر طرح کی اشیا دستیاب ہیں۔ صرف آپ کا کارڈ فعال اور بینک میں سرمایہ ہونا لازمی ہے۔ خیر اس کی بھی ضرورت نہیں‘ اس نظام میں گھر‘ گاڑی اور گھر کا سامان‘ جو آپ چاہیں‘ ادھار پر لے کر سکھ کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ یہ سکھ مگر اس وقت تک میسر ہو گا جب تک آپ کا باقاعدہ روزگار کا انتظام ہے‘ اور آپ قرض کی ادائیگی اور اقساط وقت پر ادا کر رہے ہیں۔ صنعتی معاشروں میں ترغیب ہی ادھار لینے کی ہے کہ اسی پر مشینی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ ایک اور تماشا دیکھیں‘ ہر ایک دو سال بعد فون‘ ٹیلی ویژن سیٹ‘ فیشن‘ گاڑیاں اور کمپیوٹر‘ ڈیزائن‘ ماڈل اور سافٹ ویئر اپنی جاذبیت اور افادیت کھو دیتے ہیں‘ اور ا ن کی جگہ نئے آ جاتے ہیں۔ اگلے دس بیس سالوں میں جو نئی ٹیکنالوجی ایسی کمپنیوں اور صنعتوں میں متعارف کرانی ہے‘ اس کی منصوبہ بندی پہلے سے کی جا چکی ہے۔ ہر سال کچھ نیا لے آنا عالمی منڈی کی مسابقت میں کارپوریشنز کی مالی بقا کے لیے ضروری ہے۔ ایسا نہ کریں تو ان کی صورت حال وہی ہو گی جو کیمرے میں ڈالی جانے والی فلم بنانے والے ادارے 'کوڈک‘ کی ہوئی‘ یا پھر انٹرنیشنل بزنس مشینز (آئی بی ایم )‘ جنہوں نے سب سے پہلے کمپیوٹر اور اس سے قبل ٹائپ رائٹر بنانے میں اپنا نام کمایا تھا۔ اب ان کا کوئی نام ونشان تک نہیں رہا۔ نئی نسل کو اب ان کے بارے میں شاید کچھ علم بھی نہ ہو۔
طب‘ ادویات‘ تشخیص اور شفا خانوں کا معاملہ ہو یا پیغام رسانی کے ذرائع یا تعلیم اور تفریح کے شعبے ہوں‘ سب میں ہم انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتے دیکھتے آئے ہیں۔ انسانوں کی اوسط عمر ہر ملک میں بڑھی ہے‘ اور مزید کچھ بڑھنے کے امکانات ہیں۔ ایسی بیماریاں جو وائرس کی صورت پھیل کر تباہی مچاتی تھیں‘ اب ان کے واقعات بہت کم ہیں اور ان پر قابو پانے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ مغربی صنعتی ممالک میں جو معیارِ زندگی‘ خوشحالی اور امن وسکون دیکھنے میں آتا ہے‘ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہر نیا دور ایک نئے عہد کے دروازے کھول رہا ہے۔ ایسا معاشرہ قائم کرنے کے لیے آزادی‘ جمہوریت‘ انصاف‘ قانون کی حکمرانی اور سرکاری شعبے میں یکساں تعلیم سب کے لیے اہم اور ضروری ہے۔ مغربی سیاست دانوں‘ صنعت کاروں‘ دانشوروں اور شہریوں نے اس کا راز پا لیا ہے۔ یہ پرانے حکیموں والا ایسا نسخہ ہے جسے کوئی بھی استعمال کرے‘ اپنے آپ اور معاشرے کو شفایاب کر سکتا ہے۔ نظم وضبط‘ متحرک فرد‘ ذمہ دار حکومت‘ فعال اور جوابدہ ریاستی اداروں کے بغیر یہ خواب تو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوتے‘ مگر ہماری جیسی ریاستوں کے اکابرین نعرہ بازی سے کام چلا کر‘ اپنا وقت گزار کر‘ امن وسکون کی تلاش میں مغربی ممالک میں جا کر قیام کرتے ہیں۔ یہ ان کا پکا ڈیرہ ہے‘ ہمارے ہاں تو فصلی کمائی کے لیے تشریف لاتے ہیں‘ اور وہ جو اُن کے راستے پر چل نکلتے ہیں‘ بہت کچھ اکٹھا کرکے ادھر بحفاظت رکھ کر عیش وآرام کی زندگی گزارکر رخصت ہو جاتے ہیں۔
لندن‘ نیویارک‘ پیرس‘ دنیا کے ان تین شہروں میں آپ تیسری دنیا‘ عرب اور افریقی ممالک‘ مغربی ایشیا اور ہاں یاد آیا‘ ہمارے وطن عزیز کے سیاست کے میدان کے نامور کھلاڑیوں اور ریفریوں‘ سب کے ٹھکانے ادھر ہی ہیں۔ کبھی کبھار ہمیں یہ خیال ضرور آتا ہے‘ بس یوں کہیں کہ یہ خیال ساری عمر ستاتا رہا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو یہاں رہ کر یہ معلوم ہوا تو ہو گا کہ یہ ممالک کیسے یہاں تک پہنچے ہیں‘ تو پھر حکیم کا پرانا نسخہ ہمارے ہاں کیوں استعمال نہیں کیا جاتا؟ یہ اب تو کوئی معمہ بھی نہیں‘ سب کو معلوم ہے کہ اگر ہماری اشرافیہ بھی یہاں کے لوگوں کی طرح تیز رفتار‘ سخت محنت‘ جانفشانی کی زندگی گزارتی تو پھر یہاں کرائے کے مکان میں بھی رہنا ان کی مالی استعداد سے باہر ہوتا۔ کہاں یہ محلات‘ یہ قیمتی فارمز اور اپارٹمنٹس جن کی قیمت اربوں روپوں میں ہے۔ جن مغربی ممالک کی طرف اشارہ کر رہا ہوں‘ ان کو بنانے میں متوسط طبقے کا بہت بڑا ہاتھ ہے‘ اور صدیوں سے جمہوری ڈنڈا اس طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ ہر ناکام ٹولے اور پارٹی کو اس سے ہانک کر کسی نئی یا متبادل جماعت کو اقتدار میں لاتے ہیں۔ اس طبقے کے لوگ ہمارے ہاں بے بس ہیں‘ اور جہاںتک عوام کا تعلق ہے تو وہ رمضان پیکیج پر گزارہ کرتے رہیں گے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں