''پپاز‘ آلو... تین سو کے پانچ کلو‘‘۔
زیادہ پرانی بات نہیں‘ میں نے پیاز کو سونے کے بھاؤ بکتے دیکھا ہے۔ یہ چھبیسواں یا ستائیسواں روزہ تھا جب گلی سے گزرتے ہوئے‘ ایک ریڑھی والے کی آواز نے مجھے متوجہ کیا۔ ان ایام میں تو دھنیا اس نرخ پہ نہیں ملتا تھا پیاز کیسے مل رہے ہیں؟ رمضان کے آخری دنوں میں سبزی اورپھل نایاب ہو جاتے۔ ملتے بھی تو قیمتیں آسمان کو چھوتی ہوئیں۔ لوگ اس مہینے میں خدا کو کم یاد کرتے‘ حکومت کو زیادہ کوستے‘ جو اشیائے صرف کی قیمتوں پر قابو نہ رکھ سکتی تھی۔ رمضان میں تاجروں کی اخلاقی حس ویسے ہی کمزور ہو جاتی ہے۔ ان دنوں ان کی ایک ہی حس‘ حسِ شامہ کام کرتی ہے‘ وہ بھی صرف نوٹوں کی خوشبو سونگھنے کے لیے۔ آخر رمضان کے بعد انہیں عمرے پہ جانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا انتظام رمضان ہی میں ہو سکتا ہے۔
اس سال مگر ایسا نہیں ہوا۔ ایک مدت کے بعد ایک ایسا رمضان گزرا جب مہنگائی کے شیطان کو بھی زنجیریں پہنا دی گئیں۔ دیگر صوبوں کا مجھے اندازہ نہیں‘ میں اس وقت پنجاب کی بات کر رہا ہوں۔ میں راولپنڈی میں رہتا ہوں۔ میں نے خود سبزی پھل خریدے۔ ان کی قیمت وہی تھی جو شعبان میں تھی۔ بازار میں اس پہلو سے کہیں اضطراب نہیں دیکھا۔ ہمارے سماج میں صرف منافع خورتاجر ہی نہیں‘ خوفِ خدا رکھنے والے صاحبانِ خیر بھی موجود ہیں جو اس مہینے میں اپنا دستر خوان دراز کرتے اور سینکڑوں لوگوں کے لیے افطار اورکھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہ بھی اپنے کام سے غافل نہیں رہے۔
اس کا کریڈٹ کس کو دینا چاہیے؟ ظاہر ہے اسی کو‘ جسے مہنگائی کی صورت میں الزام دیا جاتا ہے۔ صوبائی حکومت ہی اس کی ذمہ دار ہے کہ بازاروں پر پہرہ دے تاکہ عام آدمی ناجائز منافع خوری کا شکار نہ ہو۔ ان دنوں پنجاب میں مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے۔ یہ کریڈٹ بھی انہی کو دینا چاہیے۔ اس کا کیا کیجیے کہ حکومت کی تعریف کا ہمارے ہاں رواج نہیں رہا۔ یہاں بطلِ حریت کہلوانے کے لیے لازم ہے کہ ہر وقت حکومت کے خلاف شمشیرِ برہنہ بنے رہیں۔ یہ برہنگی جب شرف کی واحد وجہ بن جائے تو شرفا‘ تعریف کی خلعت پہننے سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ یہ برہنہ تلوار کسی وقت ان کا دامن بھی چاک کر سکتی ہے۔ اس لیے کریڈٹ کی بات کو یہیں چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔
پاکستان کی بنیادی ضرویات دو ہیں: امن اور استحکام۔ ان کی فراہمی حکومت کا کام ہے۔ اگر یہاں فساد نہ ہو اور معاملات میں ٹھیراؤ ہو تو زندگی فطری روش پہ آگے بڑھ سکتی ہے۔ صوبائی حکومتیں اگر اس کے لیے یکسو ہو جائیں تو مجھے اس میں شبہ نہیں کہ کوئی پاکستان سے جانے کا نام نہ لے۔ زندگی حرکت کا نام ہے۔ جمود مردہ ہونے کی دلیل۔ اگر کوئی وجود زندہ ہے تو ممکن نہیں ہے کہ وہ متحرک نہ ہو۔ چند دنوں کا بچہ بھی کھیلتا ہے تو ہوا میں ہاتھ پاؤں چلاتا ہے۔ وہ بھی فطرت کے ہاتھوں میں مجبور ہے کہ جامد نہیں رہ سکتا۔ جہاں سماج امن اور استحکام کی ضمانت دیتا ہو‘ لوگ اپنی معیشت کو خود ہی بہتر بنا لیتے ہیں۔ جدید معیشت اس اصول پر کھڑی ہے کہ منڈی کی قوتیں خودکار ہوتی ہیں۔ انہیں ان کے حال پہ چھوڑ دینا چاہیے‘ صرف اس بات کا اہتما م کرتے ہوئے کہ کوئی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ حد سے تجاوز ظلم کہلاتا ہے۔ ظلم ہو تو امن نہیں ہو سکتا۔ حکومت کا کام بس اتنا ہے کہ لوگ اپنی حد میں رہیں۔ معیشت کا اسلامی تصور بھی یہی ہے۔
امن اور استحکام کے لیے ایک کردار سماجی قوتوں کا بھی ہیں۔ وہ قوتیں جو سماج کو کسی نظامِ اقدار کا پابند بناتی ہیں۔ خاندان‘ مسجد‘ مکتب‘ محلہ‘ برادری‘ یہ سب سماجی طاقتیں ہیں جو ا قدار کی حفاظت کرتی ہیں۔ مسجد سے انتہا پسندی اور مسلک پسندی کی آوازبلند ہو گی تو اس سے انتشار پیدا ہوگا۔ گھر میں اگر والدین بچوں کو تہذیب نہیں سکھائیں گے تو وہ گلی بازار میں دنگا فساد کریں گے۔ مکتب ومدرسہ اگر پیشہ ورانہ تعلیم تک محدود رہتے ہوئے‘ اخلاقی تربیت سے بے نیاز ہو جائیں گے تو بے حس اور منافع خور ڈاکٹر اور انجینئر جنم لیں گے جو سماج کو اضطراب میں مبتلا کر کے ظلم کو فروغ دیں گے جو امن کاسب سے بڑا دشمن ہے۔
ملک چلانے کے لیے صرف قانون کفایت نہیں کرتا‘ اسے اخلاقی قوت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مذہب اس حس کو بیدار کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ رمضان سے اگر اس مقصد کے حصول کے لیے استفادہ کیا جائے تو بہت اچھے نتائج نکل سکتے ہیں۔ عید کے اجتماعات سے بھی یہ کام لیا جانا چاہیے۔ میں نے زیادہ تر یہ دیکھاہے کہ عید کے خطبات میں صرف فضائل بیان کیے جاتے ہیں۔ اس بات کی طرف کم ہی متوجہ کیا جاتا ہے کہ رمضان تو یاددہانی ہے۔ رمضان کی روح کو سال بھر زندہ رہنا چاہیے۔ ماہِ صیام گویا زنگ اتارنے کا مہینہ ہے۔ زنگ اترنے کے بعد تو انسانی وجود کی کارکردگی بہتر ہو جانی چاہیے۔ عید کے خطبات میں تو پیغام بلند آہنگ ہونا چاہیے۔
عید کے ایام بھی اگرچہ کلچرل تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں مگر دو باتیں ایسی ہیں جو اِن کو روایت سے ہمیشہ جوڑے رکھیں گی۔ ایک یہ کہ ان کا تعلق روزوں اور قربانی سے ہے۔ دوسرا یہ کہ عید کے دن کی اصل سرگرمی نماز ہے۔ نماز‘ روزہ‘ قربانی‘ سب مذہبی تصورات ہیں۔ یہ اعمال انسان کو اپنے پروردگار سے جوڑے رکھتے ہیں۔ عید کے ثقافتی رنگ تبدیل ہو جائیں تو بھی عید کا رشتہ ان مسالک اور اعمال سے کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ یہ ا خلاقی حس کو بیدار رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نمازِ عید کے لیے آنے والوں کو اس کی یاددہانی کرائی جا ئے۔ انہیں بتایا جائے کہ زندگی مسلسل آزمائش ہے اور اس میں وہی کامیاب ہو گا جو اپنے اخلاقی وجود کا تزکیہ کرے گا۔
رمضان کے مہینے میں اہلِ اقتدار کی عبادت یہی ہے کہ وہ عوام کو ناجائز منافع خوری اور فساد سے بچائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انفرادی فرائض سے غافل ہوں۔ ان کے اہتمام کے ساتھ‘ ان کو اپنے اُس فرض کے بارے میں بھی حساس ہونا چاہیے جو ریاست نے ان کو سونپا ہے۔ اگر وہ اپنی راتیں اس بندوبست کے لیے بسر کریں کہ عوام مساجد اور گھروں میں محفوظ رہیں تو ان کا اجر اس شب بیدار سے کم نہیں ہوگا جس نے اپنی رات مصلے پر گزاری۔ اگر وہ بازار کے نرخ کو مقرر حدود کا پابند بنانے میں مصروف رہے تو ان کا یہ کام بھی عبادت اور خدا کے حضور میں اجر کا مستحق ہے۔
اس رمضان میں اگر مہنگائی کو بڑھنے نہیں دیا گیا تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکام چاہیں تو بازار کی قوتیں بے مہار نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے اس کا اہتمام سارا سال ہونا چاہیے کہ عوام ناجائز منافع خوری سے محفوظ رہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومت دیگر مہینوں میں بھی قیمتوں کو اسی طرح قابو میں رکھے گی اور اس کے حکام اسی طرح متحرک رہیں گے۔ اگر دیگر صوبوں میں بھی یہی معاملہ رہا ہے تو اس تحسین کا دائرہ ان تک بڑھاتے ہوئے‘ ان سے بھی یہی درخواست ہے کہ وہ اس باب میں اپنے فرائض سے غافل نہ ہوں۔ اس سال میرے نزدیک وہ حکام سب سے زیادہ اجر اور ہماری مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنے فرائض ایمان داری سے ادا کیے اور عوام کو مہنگائی کے عذاب سے محفوظ رکھا۔