ہر حکومت کے ہر کام کی مخالفت‘ کیا حق گوئی کی علامت ہے؟ کیا صحافت کا منتہائے کمال یہ ہے کہ ہمیشہ حکومت مخالف دکھائی دیا جائے؟ کیا تقویٰ کی معراج یہ ہے کہ حکمرانوں کے درباروں سے دور رہا جائے اور اگر وہ دروازے پہ آئیں تو انہیں دھتکار دیا جائے؟ کیا عالم کا منصب یہ ہے کہ حکومت کے خلاف ہر وقت لاٹھی اٹھائے رکھے؟
عمومی خیال تو یہی ہے۔ مزاحمت کو انسانی عزت وشرف کا استعارہ مانا گیا ہے اور یہ بات کسی فرد کے فضائل میں بیان ہوتی ہے کہ اس نے وقت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کی اور 'ہمیشہ اپنے عہد کے فرعونوں کو للکارا‘۔ میرا خیال ہے یہ مقدمہ نظر ثانی کا محتاج ہے۔ یہ ایک جدید تصور ہے جو انیسویں صدی کے بعد مقبول ہونا شروع ہوا۔ اس سے پہلے بھی لوگ مسندِ اقتدار پر بیٹھے 'فرعونوں‘ کو للکارتے رہے ہیں مگر اس کا زیادہ تر تعلق اقتدار کی جنگ سے تھا۔ ایک گروہ اگر صاحبانِ اقتدار کے درپے تھا تو اس لیے کہ وہ انہیں ہٹا کر ان کی جگہ لے۔ حق گوئی کا اس کشمکش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انبیاء اور صالحین کا استثنا ہے کہ وہ کبھی اقتدار کے لیے نہیں لڑتے۔ اگر یہ مقدمہ درست ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ حکمرانوں کی تائید کی جائے؟ کیا ناانصافی اور ظلم پر آواز نہ اٹھائی جائے؟ اس باب میں درست طرزِ عمل کیا ہے؟
میں اگر اسلامی تعلیمات اور مسلم تاریخ کی روشنی میں دیکھوں تو مجھے دو باتیں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک یہ کہ حکمرانوں کے ساتھ رشتہ خیر خواہی کا ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہمارے دین میں سماجی وسیاسی استحکام کو بہت اہم جانا گیا ہے۔ ہر ایسے اقدام کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا جس کے نتیجے میں عوام کے جان و مال کو خطرات لاحق ہو جائیں۔ اگر سماجی امن ہے تو حکمرانوں کی ایسی باتوں کو بھی گوارا کیا جائے جو ناپسندیدہ ہیں۔ حکمرانوں کے خلاف روز مرہ کی محاذ آرائی سماجی اضطراب کو جنم دیتی ہے جو ہمارے دین کو گوارا نہیں۔ دین کا عمومی رجحان یہی ہے کہ دو برائیوں میں سے ایک کا انتخاب ناگزیر ہو تو کم تر برائی کو اختیار کر لیا جائے۔
دوسری بات جو ان تعلیمات سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ مسلم سماج میں ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہیے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے۔ اس سے مراد انذار ہے۔ سماج میں اگر کسی فرد یا گروہ کی طرف سے ناانصافی ہوتی یا حق سے انحراف ہوتا ہے تو وہ انہیں متنبہ کرے۔ ایسے لوگ محلے سے لے کر ریاستی سطح تک موجود ہونے چاہئیں۔ حکمران طبقہ اگر عوام کے ساتھ ظلم کرے یا حدود سے تجاوز کرے تو ایسے افراد موجود ہوں جو انہیں اس سے باز رہنے کی تلقین کریں۔ یہ کام وہ خیر خواہی اور اصلاح کی نیت سے کریں۔ اگر نیت یہ ہو گی تو پھر اسلوبِ کلام بھی اسی کی نسبت سے ہو گا۔ اس کے لیے 'للکارنا‘ شاید کوئی موزوں انداز نہ ہو۔ اس راستے میں اگر حکمران طبقے کی طرف سے کوئی ظلم روا رکھا جائے تو یہ طبقہ اس کے باوصف حق گوئی کی ذمہ داری ادا کرے اور صبر سے کام لے۔
میں جب مسلمانوں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ان دونوں باتوں کے مظاہر بکثرت دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمیشہ ایسا موجود رہا ہے جس نے حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا اور اگر جواب میں ظلم ہوا تو اسے صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ اس کے ساتھ اگر امورِ مملکت کے چلانے کے لیے ان سے تعاون مانگا گیا تو انہوں نے اس سے انکار نہیں کیا۔ تاہم وہ خود کبھی اس کے امیدوار نہ بنے۔ ان لوگوں نے جو فقہ مرتب کی‘ اس میں بھی ان امور کا خاص خیال رکھا گیا کہ سماج کسی بدامنی کا شکار نہ ہو۔ حکمرانوں کے خلاف اقدام کے باب میں جو کچھ لکھا گیا‘ وہ ہمارے دینی ادب کا حصہ ہے۔ اس میں یہی روح کارفرما ہے کہ مسلم سماج کو فساد سے محفوظ رکھا جائے اور عوام کے جان ومال کو کسی خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
میں اس طبقے کا ذکر نہیں کر رہا جو اقتدار کی کشمکش میں فریق تھا۔ جیسے بنو امیہ اور بنو عباس میں ہونے والی معرکہ آرائی اور ان کے حلیف۔ یہ ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو اس کشمکش کا حصہ نہیں۔ ان کو اقتدار کے اس کھیل سے بس اتنی دلچسپی ہے کہ جو صاحبِ اقتدار ہو‘ وہ اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں متنبہ رہے۔ وہ صرف اہلِ اقتدار ہی کو تنبیہ نہیں کرتے‘ سماج کے دوسرے طبقات کو بھی خبردار کرتے ہیں۔ مسلم ورلڈ ویو میں ہر کام کی اساس خدا کے ہاں جواب دہی کا احساس ہے۔ اسی لیے یہ طبقہ اسی جذبے کے تحت اپنا یہ فریضہ ادا کرتا ہے۔
جدید دور میں علما کے ساتھ اہلِ صحافت کا یہ کام ہے کہ وہ اربابِ اقتدار کو ان کے فرائض کے بارے میں بتاتے رہیں اور یہ نشاندہی کرتے رہیں کہ کہاں کہاں وہ غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ علما کا کام بھی یہی ہے کہ وہ اقتدار کی کشمکش میں فریق بنے بغیر انذار کا فریضہ ادا کریں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہماے سماج میں ایسے لوگ موجود ہیں۔ وہ حکمرانوں کی غلط روش پہ انہیں ٹوکتے ہیں اور یہ کام خیر خواہی کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔ ایک طبقہ البتہ اب ایسا بھی پیدا ہو گیا ہے جس کا خیال ہے کہ ہر وقت حکمرانوں کے خلاف لاٹھی اٹھائے رکھنا ہی صحافت ہے۔ ان کے خلاف سچ جھوٹ کو کسی تحقیق کے بغیر پھیلاتا رہے۔ ان کے کسی کام تحسین نہ کرے۔ اپنی دانست میں انہیں للکارتا رہے کہ یہی بہادری ہے اور یہی صحافت ہے۔
اس میں خیر خواہی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اس تنقید میں سماجی اصلاح کی خواہش تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔ اس صحافت کو دیکھ اور سن کر‘ جو زیادہ تر سوشل میڈیا پر پائی جاتی ہے‘ یہی احساس ہوتا ہے کہ ایک ہنگامہ برپا کرنا مقصود ہے۔ لوگ مستقل حالتِ اضطراب میں رہیں اور ان کے پروگرام دیکھتے رہیں۔ عوام کو مسلسل بے چین رکھا جائے کہ اس ملک میں کچھ اچھا نہیں ہو رہا۔ جس خبر سے خیر نکل سکتا ہے‘ اس سے بھی شر برآمد کریں۔ معیشت اگر بہتر ہو رہی ہے تو بتایا جائے یہ محض بلبلہ ہے۔ اس تاثر کے پس منظر میں معلومات ہیں نہ معیشت کا علم۔ اس سے سیاسی وسماجی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ یہی کام دہشت گرد بھی کرتے ہیں۔
مجھے اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں اہلِ صحافت اسی طرح 'انکشاف‘ کرتے ہیں۔ یہ رویہ لیکن تنقید کا ہدف بھی بنتا ہے اور اسے غیر سنجیدہ سمجھا جاتا ہے۔ ہماے ہاں صورتِ حال کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ترجمان یہ چاہتے ہیں کہ انہیں صحافی مانا جائے۔ سیاسی وابستگی کی وجہ سے اگر وہ زیرِ عتا ب آئیں تو اسے صحافت پر حملہ سمجھا جائے۔ انہیں بطلِ حریت تسلیم کیا جائے۔ عوام کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ صحافت اور سیاست میں فرق کرنا ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔ میرا خیال ہے اگر اس ملک کی دانش اور صحافت اسلام کی تعلیم کے مطابق خیر خواہی کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری ادا کریں تو حکمران طبقے کا احتساب ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ سماج کو بھی اضطراب اور عدم استحکام سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔