نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)کے4 سینیٹرزاجلاس میں شریک نہیں تھے
  • بریکنگ :- سینیٹ اجلاس،اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور
  • بریکنگ :- ترمیمی بل شوکت ترین نےایوان میں پیش کیا
  • بریکنگ :- حکومت ایک ووٹ سےبل منظورکرانےمیں کامیاب
  • بریکنگ :- حکومتی بنچزنے43،اپوزیشن نے42 ووٹ حاصل کیے
  • بریکنگ :- چیئرمین سینیٹ نےبھی بل کےحق میں ووٹ دیا
  • بریکنگ :- سینیٹردلاورخان گروپ کابھی بل کےحق میں ووٹ
  • بریکنگ :- سینیٹ میں اپوزیشن لیڈریوسف رضاگیلانی غیرحاضر
  • بریکنگ :- یوسف رضا گیلانی نےترمیمی بل پرووٹنگ میں حصہ نہیں لیا
  • بریکنگ :- مشاہدحسین علالت کےباعث اجلاس میں شریک نہیں ہوئے
  • بریکنگ :- سینیٹرنزہت صادق کی کینیڈاموجودگی کےباعث عدم شرکت
  • بریکنگ :- اےاین پی کےعمرفاروق بھی اٹھ کرچلےگئے
  • بریکنگ :- سینیٹرہلال الرحمان کوروناکےباعث شریک نہ ہوسکے
  • بریکنگ :- فاٹاسےسینیٹرہدایت اللہ بھی ایوان سےغیرحاضررہے
  • بریکنگ :- بی این پی مینگل کے2 سینیٹرزبھی ایوان سےغیرحاضرتھے
  • بریکنگ :- اسلام آباد:سینیٹ کااجلاس پیرتک ملتوی
Coronavirus Updates

معاشی سکیورٹی اور ٹیکس کلچر

دنیا کی ہر ریاست کی ترجیحات میں جغرافیائی سا لمیت، سیاسی خود مختاری، معاشی استحکام، سماجی انصاف، سرحدوں کا دفاع اور داخلی سلامتی سرفہرست ہوا کرتے ہیں۔ ہر ملک اپنے جغرافیائی خدوخال اور علاقائی حالات کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرتا ہے اور اپنے وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی ترتیب دیتا ہے جس میں ملک کے باشندوں کی تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانے کی حکمتِ عملی بھی وضع کی جاتی ہے۔ ترقی کے یکساں مواقع فراہم کر کے ان میں چھپے صلاحیتوں کے جوہر کو نکھارنے کے پروگرامز اور منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جاتا ہے تا کہ اقوامِ عالم میں نہ صرف قومی تشخیص کو اجاگر کیا جا سکے بلکہ سیاسی و معاشی تعلقات مضبوط کر کے باہمی احترام پر مبنی دوطرفہ تجارت کے ذریعے ملکی معیشت کو خود انحصاری، خود مختاری اور خوشحالی کی طرف گامزن کیا جا سکے۔ ہر ملک عالمی منڈی میں اپنی تجارت بڑھانے کے درپے رہتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک سے مختلف مصنوعات تیار کر کے قیمتی زرِ مبادلہ کما کر اپنے شہریوں کی زندگی بہتر بنائے اور انسانی زندگی کے معیار میں مزید بہتری لائے تا کہ معاشی مساوات کا دور دورہ ہو‘ داخلی استحکام رہے اور سیاسی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بطریقِ احسن کی جا سکے۔ اس تناظر میں ملک کے معروضی حالات، تاریخی حقائق اور موجود ہ معاشی و سماجی ترجیحات کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ وطنِ عزیز مالکِ کائنات کے انعامات میں سے ایک بیش بہا نعمت ہے۔ اس کے شمالی علاقہ جات قدرتی حسن سے مالا مال ہیں، پُر فضا مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی آغوشِ الفت میں سما لینے کی طاقت رکھتے ہیں اور سال بھر یہاں ملکی و غیر ملکی مہمانوں کے بسیرے ہوتے ہیں۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر مبنی پہاڑی سلسلے ہیں اور برف پوش مناظر اپنی فطری دلکشی کے باعث آنے والے سیاحوں کا من موہ لیتے ہیں، یہاں تازہ پھل بھی ہیں اور خشک میوہ جات کے خزانے بھی، متعدد اقسام کی جنگلی حیات ہیں اور نادر و نایاب پرندے بھی۔ ہمارے میدانی علاقہ جات میں دریائوں سے نکلنے والا دنیا کا ایک خوبصورت نہری نظام موجود ہے جو لاکھوں ایکڑ رقبے کو سیراب کرتا ہے اور زرعی اجناس کی پیداواری صلاحیت میں گراں قدر اضافے کا سبب بنتا ہے۔ آج ہمارے ملک میں اکثریت دیہی علاقوں میں آباد ہے اور زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ نہ صرف ہمارے محنت کش کسان بلکہ ملک کی 65فیصد دیہی آبادی ملک کی زرعی اجناس کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہیں بلکہ شہروں میں موجود انسانی آبادی کی خوراک اور ملکی صنعت کیلئے خام مال بھی فراہم کرنے کیلئے اپنا خون پسینہ ایک کیے ہوئے ہے۔ بلاشبہ ہماری زرخیز زمین سونا اگلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں انتظامی خلفشار، سیاسی عدم استحکام اور معاشی نا انصافیوں کے باوجود معمولاتِ زندگی کا پہیہ اپنی ڈگر پر رواں رہا۔ اس ضمن میں ملکی تاریخ پر نظر ڈالنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ آزادی کے فوراً بعد 1950اور 60 کی دہائیوں میں اشرافیہ نے ملکی وسائل پر اپنا قبضہ جما کر دولت کا ارتکاز چند خاندانوں تک کر لیا۔ اس وقت کی سیاسی قیادت اور معیشت کے ماہرین نے قوم کو یہ راگنی سنائی کہ معیشت کا پہیہ رواں رکھنے کے لیے سرمایہ داروں کو خاطر خواہ سہولتیں اور مراعات دینا ضروری ہے اس کے باعث صنعتی ترقی کا سنہرا دور شروع ہو گا‘ عام لوگوں پر روزگار کے دروازے کھلیں گے اور یوں ملک کے طول و عرض میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔اسی منصوبہ بندی کے تحت اشرافیہ نے ملکی وسائل پر اپنا تسلط مضبوط کر لیا اور اپنے نسلوں تک کیلئے نہ صرف اقتدار کی راہیں ہموار کر لیں بلکہ ذاتی معاملات کے حصول کو بھی یقینی بنا لیا گیا جس کے باعث عام آدمی غریب سے غریب تر ہو تا چلا گیا۔ پھر 1970ء کی دہائی میں روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند ہوا۔ بڑی صنعتیں اور کارخانے قومیا لیے گئے اور مزدور یونین اور زرعی اصلاحات کے ذریعے عام آدمی کی خوشحالی کے دعوے کیے گئے جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کی نمائندگی بدستور برقرار رہی۔ 1980اور 1990کی دہائیوں میں اشرافیہ پوری طاقت کے ساتھ واپس آئی اور اپنے سرمایے کو استعمال میں لا کر صنعتکاری اور کاروباری معاملات کو تیزی سے آگے بڑھا کر اور سیاسی آقائوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ایک طرف اپنے لیے دولت کے انبار لگائے تو دوسری طرف ملکی معیشت کو اندرونی اور بیرونی قرضوں کے دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ آج ہم قرضوں کے حصول کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے ہمیں مزید قرض دینے کیلئے کڑی ترین شرائط عائد کر رہے ہیں اور ہماری معیشت کو اپنے مکمل کنٹرول میں لے چکے ہیں جبکہ ہم بے بسی کی تصویر بنے ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں۔ ماضی کی ناقص منصوبہ بندی، اشرافیہ کے تباہ کن گٹھ جوڑ اور اقتدار پر اس کے قبضے کے باعث آج ہم اس معاشی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ریونیو کے ادارے جو کچھ سال بھر ٹیکسوں کی مد میں جمع کرتے ہیں‘ ان کا نصف تو قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ رقم سے ملکی ضروریات، درآمدات، دفاعی سازو سامان، اشیائے خورو نوش، پٹرولیم مصنوعات کی خریداری اور سرکاری اداروں کی تنخواہوں اور پنشن کیلئے فنڈز مہیانہیں کیے جا سکتے۔ مزید برآں ملک میں جاری ترقیاتی منصوبے اور نئے پروجیکٹس کا اجرا بھی اس رقم سے نہیں کیا جا سکتا جس کیلئے ہمیں دوبارہ عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے پر گھٹنے ٹیکنا پڑتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک طرف ڈالر اونچی اڑان بھرتا ہے تو دوسری طرف مہنگائی کا طوفان غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ ایسے میں اس کاروباری طبقے کی چاندی ہے جو ڈالر کی اڑان کی آڑ میں چیزوں کو کئی گنا مہنگا کر کے بیچنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔
اس معاشی ابتری کا واحد اور دیر پا حل ملک میں معاشی سکیورٹی کا بیانیہ عام کرنے میں ہے۔ جب تک اشرافیہ، کاروباری طبقہ اور سرمایہ دار اپنی آمدن اور حیثیت کے مطابق ٹیکس ادا کر کے قومی خزانے میں اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے‘ ملک میں معاشی استحکام یقینی نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی سماجی انصاف کے خواب کی تعبیر ممکن ہے۔ ملک میں اشرافیہ کا لائف سٹائل، لگژری گاڑیوں کی ریل پیل، بڑے بڑے محلات، ملکی اور غیر ملکی دورے اور مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بچے ان کی بے پناہ دولت کی گواہی دے رہے ہیں مگر ان کے ٹیکس گوشوارے ان حقائق کے برعکس حالات کی نقشہ کشی کرتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ 22 کروڑ نفوس کی آبادی میں سے صرف تیس لاکھ افراد انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کراتے ہیں جن میں سے صرف گیارہ لاکھ ٹیکس گزار اپنی آمدن قابلِ ٹیکس آمدن سے کم ظاہر کرتے ہیںاور نو لاکھ ٹیکس گزار محض 1سے 5 ہزار تک ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ صرف تنخواہ دار طبقہ اور وہ کاروباری حضرات‘ جن کا ٹیکس تجارتی یا کاروباری لین دین کے موقع پر ہی کٹ جاتا ہے‘ قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ دوسری طرف زرعی اجناس کی پیداواری صلاحیت بڑھنے، گاڑیوں کی فروخت میں گراں قدر اضافے اور ٹریکٹروں کی صنعت میں فروغ سے ملکی معیشت میں مثبت اشاریے تو ملتے ہیں مگر ٹیکس اس تناسب سے جمع نہیں ہوتا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق وطنِ عزیز کے ریٹیل سیکٹر کا حجم اٹھارہ سے بیس ٹریلین روپے ہے مگر ٹیکس نیٹ میں محض تین سے چار ٹریلین روپے کا کاروبار ہے۔ ہماری معیشت کیش کے لین دین اور غیر رسمی خطوط پر چل رہی ہے جسے دستاویزی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
وقت آن پہنچا ہے کہ ٹیکس چوری روکنے، سمگلنگ کی روک تھام اور ٹیکس کلچر کے فروغ کیلئے قومی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کیا جائے اور معاشی سلامتی کو مقدم رکھا جائے۔ ہر شخص کی قابلِ ٹیکس آمدن پر واجب الادا ٹیکس قومی خزانے میں شفاف انداز سے منتقل ہو تاکہ ملک کو اندرونی و بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نجات دلا کر خوشحالی کی طرف گامزن کیا جا سکے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں