نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 30 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 192 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 68 ہزار 624 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر1353مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 11.92 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید8 ہزار 183 کیس رپورٹ،این سی اوسی
Coronavirus Updates

تیل کی قیمتیں اور ظالمانہ ٹیکس

پٹرولیم کی مصنوعات پر غیر معمولی حد تک زیادہ ٹیکسز‘شہریوں کو تیل کی مارکیٹ پرائس میں کمی سے پہنچنے والے فوائد سے محروم کر دیتے ہیں۔ یہ اُن کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف اورحکمرانوں کی بے حسی اور عوام کے مفاد سے بے اعتنائی کااظہار ہے۔ اس طریقے سے ٹیکسز کی وصولی کبھی بھی مالیاتی خسارے کو پورا نہیں کرپاتی، بلکہ اس کی وجہ سے معاشی ترقی کی رفتارسست ہوجاتی ہے۔ سیلز ٹیکس ایکٹ1990ء کے سیکشن 3(2)(b) کے تحت ایگزیکٹو آرڈرکے ذریعے ٹیکس میں اضافہ کرنا آئین کے آرٹیکل77 کی خلاف ورزی ہے۔ بدقسمتی سے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ نے ابھی تک ریاست کے سپریم آئین کے خلاف بنائے جانے والے اس قانون کا نوٹس نہیں لیا۔ اس سے حکومت کا یہ دعویٰ بھی بے نقاب ہوجاتا ہے کہ ایس آر اوز کے ذریعے ٹیکس لگانے یا گرانٹ سے چھوٹ دینے کا اختیار اب ایگزیکٹو برانچ کو حاصل نہیں ہے۔ 
سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 ء کا سیکشن 3(2)(b) کی جگہ پہلے فنانس(ترمیمی) آرڈیننس2015 ء لایا گیا۔ اسے فنانس بل 2015 ء کی شکل میں پارلیمنٹ نے منظور کرلیا ۔ یہ منظوری آئین کے آرٹیکل 162 کی صریحاً خلاف ورزی تھی کیونکہ ایسا کوئی بل صدر ِ مملکت کی پیشگی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ کے سامنے نہیں رکھا جاسکتا۔ ایسا کرتے ہوئے، بلکہ اس سے پہلے بھی، وفاقی حکومت سیلز ٹیکس کے نرخوں کو ایس آر اوز کے ذریعے طے کررہی تھی، حالانکہ اس دوران آئی ایم ایف کو یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ حکومت ان تبدیلیوں کا اختیار نہیں رکھتی۔ اس معاملے پر بظاہر بہت جاندار دکھائی دینے والا میڈیا بھی خاموش ہے حالانکہ اس کی نظروں کے سامنے آئین کی پامالی کی جا رہی ہے۔ اس سے میڈیا کے ''واچ ڈاگ‘‘ ہونے اور ہر بات پر نظر رکھنے کے دعوے کی بھی قلعی کھل جاتی ہے۔ 
درحقیقت سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے سیکشن 3(2)(b) کے تحت وفاقی حکومت سیلز ٹیکس کے نرخوں کو تبدیل کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر حاصل کردہ اختیار رکھتی ہے۔ اکتیس اکتوبر 2015 کو ایس آر او1070(I)/2015 کے ذریعے پٹرولیم کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس کے بلند نرخ عائد کردئیے گئے۔سیلزٹیکس کامعیاری نرخ سترہ فیصد ہے، لیکن ہائی سپیڈ ڈیزل پر 47.5فیصد، کیروسین آئل پر 22 فیصد ، لائٹ ڈیزل پر 24 فیصد اور پٹرو ل(HOBC کے علاوہ) پر 22 فیصد۔ چونکہ زیادہ تر پاور پلانٹس فرنس آئل اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر چلتے ہیں اور ملک میں پیدا ہونے والی بجلی کا پچاس فیصد انہی پلانٹس سے حاصل ہوتا ہے،چناچہ ان فیولز پرسیلز ٹیکس کی بلند شرح عوام کو نہ صرف سستی بجلی سے محروم کردیتی ہے بلکہ برآمدات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ مہنگی بجلی سے اشیاکی پیدا واری لاگت میں ہونے والا اضافہ برآمدکنندگان کے لیے عالمی منڈی میں مسابقت کرناکم وبیش ناممکن بنا دیتا ہے۔ 
حکومت عالمی منڈی میں تیل کی کم ہوتی قیمتوں کی وجہ سے کئی بلین ڈالربچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے، لیکن آئی ایم ایف کو یہ دکھانے کے لیے کہ ہمارے سیلز ٹیکس کا حجم بڑھ رہا ہے، حکومت، یہ احساس کیے بغیر کہ اس کا ملکی معیشت پر کیا اثر ہوگا، پٹرولیم کی مصنوعات پر بھاری سیلز ٹیکس عائد کردیتی ہے۔ محترم فنانس منسٹر کو چاہیے کہ وہ ان ممالک،جہاں مالیاتی استحکام پایا جاتا ہے اور جو پٹرولیم کی مصنوعات پر ٹیکس وصول کرتے ہیں ، کے نظام کاجائزہ لیں۔ ہمارے ہاںتیل کی قیمت میں اضافے سے چند ایک آئل کمپنیوں اور ایف بی آر کو فائدہ پہنچتا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے تسلیم کیا ہے کہ ''ملک میں سیلز ٹیکس کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ پٹرولیم ہے ۔‘‘پٹرولیم سے حاصل ہونے والا سیلز ٹیکس کل سیلز ٹیکس کا 43 فیصد ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں ہونے والا37.6 فیصد اضافہ ہے۔ 
ایف بی آر کی طرف سے محصولات کے حجم میں ''غیر معمولی اضافے‘‘ ، جس پر وزیر ِا عظم نوا زشریف اور ان کے مالیاتی امور کے ماہر، فنانس منسٹر اسحاق ڈارکو بہت ناز ہے، کے پیچھے اصل کہانی یہی ہے۔ ان رہنمائوں کو مطلق احساس نہیں کہ ایسے ظالمانہ ٹیکسوں کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی خط ِ غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ معیشت کی تباہی کی وجہ سے بے روزگاری شہریوں کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ سپریم کورٹ رانا بھگوان داس مرحوم کی پیش کردہ ایک رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 2002 ء سے لے کر 2009 ء تک حکومت نے صرف پٹرولیم کی مصنوعات پر 10.23 ٹریلین روپے حاصل کیے۔ کتنی افسوسناک بات ہے کہ گزشتہ 68 برسوں میں ہمارے حکمران لاہور اور کراچی کے درمیان ماس ٹرانزٹ کی سہولت اور ہر شہر اور قصبے میں سفر کی سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہے، حالانکہ اُنھوں نے ان بالواسطہ ٹیکسوںکے ذریعے عوام پر بے پناہ بوجھ ڈالا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی کسی حکومت کی ترجیح دکھائی نہیں دی، چنانچہ عام شہری، جو نجی ٹرانسپورٹ افورڈ نہیںکرسکتا، کو بے حد پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں کاروں سے بھر گئیں ۔ اس کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی اور ٹریفک جام جیسے مسائل پیدا ہونے لگے، تو دوسری طرف ہماری شاپنگ لسٹ پر پٹرولیم کی خریداری کا بل ہوشربا حد تک بڑھنے لگا۔ تیل خریدنے کے لیے ہم مالیاتی اداروں کے دست نگر بن گئے۔ چنانچہ وسائل سے بھر پور ملک ناقص پالیسیوں کی وجہ سے مسائل کی آماجگاہ بنتا چلا گیا۔ 
درآمدی بل کم کرنے کے لیے ہمیں بہتر اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ اور گرین انرجی چاہیے تاکہ یہ مسائل حل ہوسکیں۔ اس کا علاج مزید سڑکیں بنانا نہیں کیونکہ آپ جتنی سڑکیں ، پل، انڈرپاسز بنائیں، اتنی ہی مزید گاڑیاںسڑکوں پر آجائیں گی۔2009ء میں ایک بیان میںامریکی صدر نے کہا تھا۔۔۔''وہ قوم جو صاف ستھری اور قابل تجدید (Renewable)توانائی کے ذرائع تلاش کرنے میں کامیاب ہوگی، وہی اکیسویں صدی پر حکمرانی کرے گی۔ آج ہم اربوں ڈالر کا تیل درآمد کرکے بجلی کی ضروریات بمشکل پوری کرپاتے ہیں۔ درآمدی تیل پرضرورت سے زیادہ انحصار نے ہماری معیشت کے علاوہ ہمارے ماحول اور سکیورٹی کو بھی خطرے سے دوچار کررکھا ہے۔ ہمیں کلین انرجی میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی ۔ اس کی وجہ سے ملازمتوں کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور ہم پورے اعتماد سے معاشی سکیورٹی کی بنیاد رکھ سکیں گے ۔
ہمارے حکمران زیادہ تر معاملات میں، خاص طور پر جب اُن کا اپنا مفاد ہوتا ہے، امریکہ کی پیروی کرتے ہیں، لیکن جب عوامی مفادکا معاملہ ہو تو اُنہیں قومی غیرت ستانے لگتی ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ نے کلین انرجی کی طرف بہت زیادہ پیش قدمی کی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی خواب ِ غفلت سے جاگناہوگا کیونکہ ہماری آبادی امریکی آبادی سے کچھ ہی کم ہے۔ درحقیقت موجودہ دور میں کلین انرجی میں کی جانے والی سرمایہ کاری ہی مستقبل میں توانائی کے ذرائع مہیا کرسکے گی۔ یہ ایک طویل المدت منصوبہ بندی ہے۔ ہم اپنے ریلوے سسٹم کو نہایت کامیابی سے تباہ کرچکے، جبکہ دیگر ممالک ریلوے کے نظام کو ترقی دینے اور جدید کاروں کی بیٹریاں تیارکرنے کے لیے بھرپور وسائل استعمال کررہے ہیں۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ حکومت پٹرولیم کی مصنوعات پر بھاری بھرکم ٹیکس تووصول کرتی ہے لیکن اس کے عام آدمی اور معیشت پر مثبت اثرات نہیں پڑتے۔ ہمارا ٹیکس کا نظام غریب افراد کونقصان پہنچا کر دولت مند افراد کو فائدہ پہنچاتا ہے۔حکومت دولت مند افراد پر براہ ِ راست ٹیکس لگاکر معاشی ہمواری پیدا کرنے کی بجائے پٹرولیم کی مصنوعات پر بھاری سیلز ٹیکس لگا کرعام آدمی کو معاشی مسائل سے دوچار کررہی ہے۔ تیل کی درآمدکا بوجھ بھی عوام کی جیب پر ہی پڑتا ہے اور اس سے بنائی جانے والی مہنگی بجلی بھی انہیں ہی خریدنی پڑتی ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں