نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: ثمین گل اورعثمان قادر کی 2،2 وکٹیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکا پشاورزلمی کو 191 رنز کاہدف
  • بریکنگ :- کوئٹہ گلیڈی ایٹرزنےمقررہ اوورزمیں 4 وکٹوں پر 190 رنز بنائے
  • بریکنگ :- کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکےول سمیڈکی 97 رنزکی شانداراننگز
  • بریکنگ :- کراچی:احسن علی نے 73 رنزبنائے
Coronavirus Updates

ٹیکس چوری اور ایمنسٹی اسکیم

پاکستان کا شمار دنیا کے اُن چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں ٹیکس چوری کو جرم نہیں سمجھا جاتا، اور ریاستی سطح پر اس کے مرتکب افرادد کو قانونی تحفظ حاصل ہے ۔ یہ انتہائی شرمناک اور قابل ِ افسوس عمل ہے ۔ ایسے معاشرے میں کبھی حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہوسکتی۔ ٹیکس چور اور بدعنوان لوگ قانونی تحفظ ہونے کی وجہ سے انتخابی عمل کو پیسے کے ذریعے من پسند افراد کے تابع کرنے میں کوئی مشکل محسوس نہیں کرتے۔ اگر جرائم پیشہ افراد سیاسی جماعتوں کو پیسہ فراہم کریں تو عوام پر اصل حکمرانی مافیا کی ہوتی ہے ۔ 
حقیقی جمہوری معاشرے میں عوام سے وصول کردہ ٹیکس کو تمام معاشرے کے اجتماعی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور ہائوسنگ کی ذمہ داری مقامی حکومتوںکے سپرد ہوتی ہے ، اور اُنہیں وسائل فراہم کرنا تمام شہریوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ مرکزی حکومت ایک فیڈریشن کے اندر دفاع، خارجہ امور، کرنسی اور مواصلات کو دیکھتی ہے ، جبکہ صوبائی حکومتیں دیگر تمام امور کی ذمہ دارہوتی ہیں۔ صوبائی خودمختاری کا مقصد یہی ہے کہ صوبے اپنے وسائل سے اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کرسکیں۔ مرکزی حکومت آئین کے تحت اشیا کی درآمد یا تیاری پر سیلز ٹیکس لگانے کی مجاز ہے ۔ خدمات پر سیلز ٹیکس لگانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے ۔ امریکہ اور کینیڈا میں سیلز ٹیکس لگانے کا کلّی اختیار صوبائی سطح پر ہے ۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے صوبوں کو اس اختیار سے محروم رکھا گیا ہے۔ 
مرکزی حکومت این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کو محصولات سے اُن کا حصہ دینے کی پابند ہے ۔ مرکزی حکومت بہت ہی کم سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس اکٹھا کرپاتی ہے ، چنانچہ صوبوں کو بھی کم رقم پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ آمدنی ، اور زرعی آمدنی پر بھی ٹیکس لگانے کا اختیار مرکز کے پاس ہے ۔ مرکز نے 2015-16 ء میں محض 3.1 ٹریلین روپے اکٹھے کیے ، اور صوبوں کو اُن کا حصہ دینے اور قرضوں پر سود ادا کرنے کے بعد اس کو اپنے اخراجات کے لیے بڑے مالیاتی خسارے کا سامنارہا۔ یہ صورت ِحال ہر سال ہی درپیش آسکتی ہے ۔ خدشہ ہے کہ مستقبل میں اس کے تبدیل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ 
مرکز نہ تو امیر لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور نہ ہی ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کرنے کا اُس کوئی ارادہ ہے ۔ اس غفلت کا نقصان ریاست کے تمام عناصر کو ہوتا ہے ، جس میں ادارے اور عوام بھی شامل ہیں۔ موجودہ حکومت نے اپنے ساڑھے تین سال میں تین ایمنسٹی سکیمز کا اعلان کیا اور سب کی سب ناکام ہوئیں۔تاجروں نے کھلے عام ایمنسٹی کو رد کیا۔اس سے پہلے ناہندگان نے کلی طور پر دیے جانے والی مراعات کو نظر انداز کیا۔تین فیصد پر ریئل اسٹیٹ کو دی گئی ایمنسٹی سے بھی ٹیکس چوروں کی زیادہ فائدہ ہو رہا ہے اور حکومت کو بہت ہی کم ٹیکس مل رہا ہے۔ایک نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم جو بیرون ممالک حاصل کی گئی جائیداد اور رقوم کو تحفظ دینے کے لئے تیار کی گئی جلد ہی پارلیمنٹ سے منظورکروانے کا ارادہ ہے ۔یہ ہماری حکومت کا رویہ ٹیکس چوروں کے خلاف ہے۔اسی رویہ کے باعث ہمارے ہاں متوازی معیشت کا حجم بہت ہی خوفناک ہے۔
حکومت ہر سال اربوں کے قرضہ جات لینے پر تیار مگر ٹیکس وصول کرنے سے گریزاں ۔امیر ٹیکس ادا نہ کرنے اور دوسری بدعنوانیوں کے باعث امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں اور غریب غریب سے غریب تر۔انڈونیشیا اور بھارت کی مثال دی جارہی ہے کہ وہاں ایمنسٹی سکیمز کا اجرا کیا گیا ہے۔وہاں ٹیکس چوروں سے بھاری رقم کا وصول ہو نا اس خوف کے باعث ممکن ہوا کہ ٹیکس چوری سے بنائے گئے تمام اثاثے بحق سرکار ضبط کر لیے جائیں گے اور دس سال کی جیل بھی ہو گی۔ یہاں پانچ سے دس فیصد پر بیرونی اثاثوں کو قانونی تحفظ دینے کا پروگرام ہے ۔اگر کوئی نہ بتائے توحکومت کیا کرے گی،اس بارے میں کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ۔بار بار ایمنسٹی دینے سے خوف بالکل ختم ہو جاتا ہے۔سنہری سمجھتے ہوئے ایک دو موقع اور ضرور ملے 
گا۔اگر ایسا ہی ہو تا رہا تو آنے والی ایمنسٹی سکیم کا بھی وہی حشر ہو گا جو پچھلی سکیموں کا ہو ا۔اگر کسی ایمنسٹی سکیم کو کامیاب بنا نا ہے تو سب سے پہلے ایک قانون بنانا ہو گا کہ جو لوگ اس کے ختم ہونے کے بعدپکڑے گئے ان کے اثاثے ضبط ہوں گے اور ان کو جیل بھی جانا ہو گا۔اس کے علاوہ ڈبل ٹیکسز کے معاہدات کا تحت دوسرے ممالک سے معلومات حاصل کرنا ہوں گی ۔او ای سی ڈی کے تحت کیے جانے والے معاہدے کا اطلاق جولائی 2018ء سے ہو گااور 140ممالک سے معلومات کا تبادلہ ہو سکے گا۔اس سے پہلے بی یو آئی سے دوسری معاہدہ برائے تبادلہ ہو نا چاہیے جیسا کہ دوسرے ممالک نے کیا تھا مگر ہمارے وزیر خزانہ کو اس کا خیال تک نہیںآیا۔یو ای اے کا ساتھ مگر وہاں پاکستانیوں کے 900ارب روپے کی سر مایہ کاری کا بارے میں معلومات حاصل کیوں نہیں کی گئیں۔یہ معلومات ایک ٹی وی چینل پر دکھائی گئیں مگرایف بی آر خاموش ہے ۔یہ ظاہر کر تا ہے کہ ہمارے ہاں مسئلہ قانون سے زیادہ اس کے اطلاق کا ہے جس کے لئے حکومتیں بالکل تیار نہیں ۔سیاسی لوگ یا تو خود کاروبار میں ملوث ہیں یا ٹیکس چوروں کے تحفظ میں مصروف رہتے ہیں ۔یہ ہے پاکستان کا اصل بحران۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں