نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: ثمین گل اورعثمان قادر کی 2،2 وکٹیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکا پشاورزلمی کو 191 رنز کاہدف
  • بریکنگ :- کوئٹہ گلیڈی ایٹرزنےمقررہ اوورزمیں 4 وکٹوں پر 190 رنز بنائے
  • بریکنگ :- کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکےول سمیڈکی 97 رنزکی شانداراننگز
  • بریکنگ :- کراچی:احسن علی نے 73 رنزبنائے
Coronavirus Updates

ایف بی آر کی مایوس کن کارکردگی

پاکستان میں محصولات کی وصولی دوسرے ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے ۔ اس بات کا اعادہ آئی ایم ایف نے اپنی جنوری 2016 ء کی رپورٹ ( Unlocking Pakistan's Potential Revenue)میں کیا ہے ۔ مالی سال 2015-16ء میں ایف بی آرکے دعوے کے مطابق3130ارب روپے سے زائد کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، جبکہ ہدف 3104 ارب روپے تھا۔اس دعوے کو سینیٹ کی کمیٹی برائے مالیاتی امور نے شک کی نظر سے دیکھا ۔ اس کے علاوہ کئی ماہرین نے واضح کیا کہ دراصل 250 ارب روپے کے ریفنڈز ادا نہ کیے گئے ، اور کئی اداروں سے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کرکے ہدف سے زیادہ وصولی کا دعویٰ کیا گیا۔ اخبارات میں مضامین اور اداریوں میں بار ہا اس بات کا اظہار کیا گیا کہ ایف بی آر کو اس جعل سازی کا حکم ''اُوپر ‘‘ سے دیا گیا تھا ۔ ہارون ترین، جو گریڈ اکیس کے سینئر افسر تھے، اور حالیہ ایف دنوں ایف بی آر سے ریٹائر ہوئے ، نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ ایف بی آر نے اعدادوشمار کی تصدیق اسٹیٹ بنک آف پاکستان سے نہیں کروائی کیونکہ ایسا کرنے سے چالیس ارب روپے کا فرق نمایاں ہوجاتا۔ اُنھوںنے یہ الزام بھی لگایا کہ 280 ارب روپے کے غیر ادا شدہ ریفنڈز تھے ، جبکہ مالی سال 2014-15 ء میں ان کا حجم محض 180 ارب روپے تھا۔ جناب ہارون ترین نے دعویٰ کیا کہ 150 ارپ روپے کے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیے گئے تاکہ وصولی کے ہدف میں مبالغہ آرائی ممکن ہوسکے ۔اُن کے خیال کے مطابق سابق چیئرمین، ایف بی آر طارق باجوہ صاحب کو اُن کے عہدے سے اس لیے ہٹایا گیا تھا کیونکہ وہ اعدادوشمار میں اس طرح کی ہیراپھیری کے مخالف تھے ۔ چونکہ اُنھوںنے اس کی مزاحمت کی تھی، اس لیے اُنہیں اس عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ 
ان تمام الزامات کی تصدیق یا تردید کے لیے ایف بی آر کا آڈٹ ایک آزاد فرم سے کرایا جانا چاہیے ، کیونکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے ۔ اعدادوشمارمیں ہیراپھیری اور مبالغہ آرائی اس سطح پر حکومت کے لیے باعث ِ تشویش ہونی چاہیے ۔ایف بی آر مسلسل کاروباری ماحول اور ترقی کوتباہ کررہا ہے ۔ جہاں سے محصولات حاصل کرنے چاہئیں، وہاں تو کام نہیں ہورہا اور ان لوگوں کا استیصال کیا جارہا ہے جو گوشوارے جمع کروارہے ہیں۔ جو گوشوارے داخل نہیں کراتے ، اُن کا محاسبہ کرنے کی بجائے اُن سے معمولی سا زیادہ ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرلیا جاتا ہے ۔ وہ بھی خوش اور ایف بی آر بھی راضی۔ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی والامعاملہ ہوتا توپھر بھی درست تھا، مگر اس کا بوجھ تو گوشوارے داخل کرانے والوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ اُن کے خلاف جھوٹے کیس بنا کر مزید رقم بٹورنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہ اگر ریفنڈ کی بات کریں تو اُن کو ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جیسا کہ مزید آڈٹ اور مزید نوٹس۔ عدالتوں میں انصاف نہ ہونے کے برابر۔ اس صورت ِحال میں عدالت کے باہر مصلحت کیسے ممکن ہے ؟ عبوری حکم نامے کی مذمت اور اس کاروبار کابندہونا بجا، مگر جہاں واضح طور پر ٹیکس حکام زیادتی کے مرتکب ہوںوہاں اُن کی سزا کا نظام کو ن بنائے گا؟ کیا پریشان ٹیکس گزار اپنے بنیادی حقوق کے لیے آئین کا سہارا نہ لیں اور محض ظالم کے ساتھ مصالحت کے لیے تیار رہیں؟کیا ظالم کے ساتھ محض اس لیے مصالحت کرلی جائے کہ وہ طاقتور ہے ؟ کیا ہائی کورٹ نے کبھی ٹیکس آفیسروں کو غلط ٹیکس لگانے اور جھوٹی اپیلیں داخل کرنے پر جرمانہ کیا ہے ؟ہمارے ہمسایہ ملک میں ہائی کورٹس نے یہ کام کئی مرتبہ کیا ہے ۔ اگر ٹیکس حکام ظالمانہ اقدامات سے باز نہیں رہتے اور محض اہداف کو پورا کرنے کے لیے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے رہیں تو کیا مصالحتی عمل عدالت کے باہر کامیاب ہوسکتا ہے ؟یہ ایک اہم سوال ہے ۔ اس پر بحث ہونی چاہیے۔ اگر کوئی بھی ٹیکس آفیسر اختیارات کے استعمال سے تجاوز کرے تو اُس کی تنخواہ سے ٹیکس گزار کو ہرجانہ ملنا چاہیے ۔ 
یہ بات سب جانتے ہیں ،اور اس کا تذکرہ کئی جگہ ہوچکا ہے کہ پاکستان میں نااہلی اور بدعنوانی کے باعث ٹیکس کی وصولی اصل صلاحیت سے کہیں کم ہے ۔ ایف بی آر کو نئے ٹیکس گزاروں کی تعداد بڑھانی چاہیے ۔ اس وقت 70 سے زیادہ ود ہولڈنگ ٹیکسز ہیں جو سب کے لیے درد ِ سر کا باعث ہیں۔ پاکستان میں موبائل صارفین 14 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کررہے ہیں۔ ان کی تعداد کسی طور پر ساٹھ ملین سے کم نہیں ۔ دوسری طرف اس سال گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد نولاکھ کے لگ بھگ رہی ۔ یہ تعداد پچھے برس 11.1لاکھ تھی۔ 2011 ء میں پاکستان میں 1443414 افراد نے گوشوارے جمع کرائے تھے ۔ 2006-07 ء میں یہ تعداد اکیس لاکھ تھی ۔ یعنی پچھلے دس سالوں میں ایف بی آر نے دس لاکھ ٹیکس گزاروں کو بھگا دیا۔ 
یہ ایک افسوس ناک صورت ِحال ہے لیکن کوئی بھی اس کا ذکر نہیں کرتا۔ اگر اس کی ذمہ داری ایف بی آر کے پر عائد نہیں ہوتی تو پھر اس کا ذمہ دار کو ن ہے ؟اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق 2015 ء کے آخر تک پاکستان کی آبادی 195.5 ملین تھی۔ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ خط ِ غربت کے نیچے زندگی بسر کرتا ہے ۔افرادی قوت تقریباً ساٹھ ملین افراد پر مبنی ہے ۔ اس میں بیالیس فیصد قابل ِ ٹیکس آمدنی سے کم کماتے ہیں۔ تمام اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد یہ کیا جاسکتا ہے کہ دس ملین لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر گوشوارے محض دس لاکھ ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایف بی آر 90لاکھ لوگوں سے گوشوارے حاصل کرنے میں ناکام ہے ۔ ان افراد میں بیس لاکھ کے قریب انتہائی دولت مند افراد بھی شامل ہیں۔ یہ ہے اس ادارے کی مایوس کن کارکردگی کی کہانی جس سے ہمارا مالیاتی نظام مسلسل دبائو کا شکار ہے ۔ ہم آسانی سے آٹھ کھرب روپے ٹیکس کی مد میں وصول کرسکتے ہیں جس سے قرضہ جات سے نجات اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وسائل فراہم کیے جاسکتے ہیں۔ افسوس، حکمران اس معاملے میں مکمل بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں