نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاجگرکےعارضےمیں مبتلا،اسپتال میں زیرعلاج
  • بریکنگ :- ہمارےپاس ان کےعلاج کیلئےذرائع اورٹیکنالوجی نہیں،ذاتی معالج ڈاکٹر فخرالدین
  • بریکنگ :- علاج کےلیےبیرون ملک جانےکی اجازت نہ ملی توخالدہ ضیاکی جان جاسکتی ہے،ذاتی معالج
Coronavirus Updates

دیارِ شمس

قونیہ اک چراغ ہے گویا
جس کی لَو رات دن چمکتی ہے
روشنی دور تک پہنچتی ہے
دو برس قبل قونیہ میں مولانا روم ؒاور ان کے مرشد شمس تبریزیؒ کے مزار پر حاضری کے موقع پر پروفیسر زاہد منیر عامر نے یہ خوبصورت نظم کہی تھی۔ اس نظم میں مولانا روم ؒکے مشہور شعر کی طرف اشارہ ہے۔ مولانا نے فرمایا تھا:
دی شیخ برا چراغ ہمی گشت گرد شہر
کز دام و دو ملولم و انسانم آرزوست
کل میں اپنے شیخ کے ساتھ چراغ لے کر سارے شہر میں پھرتا رہا کہ میں وحشیوں اور درندوں کی صحبت سے تنگ آ گیا اور مجھے ایک انسان کی تلاش ہے۔ارضِ مقدس کے بعد ترکی ایک ایسی سر زمین ہے کہ جس کا نام آتے ہی دل کا جلترنگ بج اٹھتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر صدر شعبہ اردو اورینٹل کالج لاہور معروف محقق‘ مصنف‘ شاعر اور کالم نگار بھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان کے علاوہ بیرونی دنیا میں اردو کے سفیر کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں اور چالیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی ہر کتاب خون ِجگر سے لکھی ہوتی ہے اور وہ تخلیقی عمل کا شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی عملی و ادبی خدمات و فتوحات کا تذکرہ کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔ فی الحال ہم قارئین کو ڈاکٹر صاحب کے تازہ ترین سفر نامے کا تعارف کرانا چاہتے ہیں۔ اس سفر نامے کا ٹائٹل ہے ''دیارِ شمس‘‘۔بھاری بھرکم علمی پس منظر کے باوجود ڈاکٹر صاحب کے اس سفر نامے کا امتیازی وصف ان کی شگفتہ نگاری ہے‘ تاہم ڈاکٹر صاحب نے ہر تاریخی واقعہ ثقہ روایات کے ذریعے ہی بیان کیا ہے۔ استنبول میں وہ سب سے پہلے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے روضے پر حاضر ہوئے۔ نبی کریم ﷺ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو یہ طے پایا تھا کہ جہاں آپؐ کی اونٹنی قصواء رکے گی وہ اسی گھر کے مہمان ہوں گے۔ حضرت ابو ایوبؓ کے مقدر کا ستارا ایسا چمکا کہ قصواء آپ کے گھر کے سامنے رک گئی اور آپ ؓکو میزبانِ رسولؐ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت ابو ایوبؓ ایک لشکرِ اسلام کے ساتھ استنبول کی فصیل تک پہنچ گئے‘ اگرچہ مسلمانوں کو فتح حاصل نہ ہوئی اور انہیں واپس جانا پڑا‘ تاہم حضرت ابو ایوبؓ کا آخری وقت قریب تھا انہوں نے وصیت کی مجھے شہر کی فصیل کے قریب دفن کر دیا جائے۔ ترکی میں ابو ایوب انصاریؓ کو ''سلطان ایوب‘‘ کے نام سے شہرت حاصل ہے۔ اب روضۂ ابو ایوبؓ میں حاضری کی روداد ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی زبانی سنئے: ''ہم قسطنطنیہ کی فصیل کے باہر کھڑے تھے‘ لیکن کیا باہر کیا اندر‘ صدیوں نے یہ سب امتیاز ختم کر دیئے تھے۔ اب ہر طرف ترکی ہی ترکی تھا اور حضرت ابو ایوبؓ کا وہ مزار جس کا ذکر ابن قتیبہؒ اور دوسرے متعدد مورخین اور تذکرہ نگاروں نے کیا ہے ‘ ہمارے سامنے تھا۔ موجودہ تعمیر غالباً سلطان محمد فاتح کے زمانے کی ہے۔ اُن کی بارگاہ میں پہنچ کر میں تو بس بیٹھ گیا۔ حذیفہ اور احمد تو حاضری دے کر باہر نکل گئے‘ مگر میں پاس اِنفاس‘ نفی اثبات اور اسمِ ذات میں مگن ہو گیا۔ احاطے میں ہر جانب عربی عبارات درج تھیں‘ مگر افسوس آج کے ترکوں کے لیے یہ خط اجنبی ہے۔ وہ اس خط کو دیکھ تو سکتے ہیں مگر پڑھ نہیں سکتے؎
دیکھتے ہیں سب مجھے لیکن کوئی پڑھتا نہیں
گزرے وقتوں کی عبارت ہوں‘ عجائب گھر میں ہوں
ڈاکٹر زاہد منیر کے ساتھ اس سفر میں ان کا نو عمر صاحبزادہ محمد حذیفہ بھی ہے۔ حذیفہ صاحب نے اس بالی عمریا میں اے لیول بھی کر لیا ہے اور قرآن پاک بھی حسنِ قرأت کے ساتھ حفظ کر لیا ہے اور وہ ایک عدد کتاب کے ابھی سے مصنف بھی بن چکے ہیں۔ ان کی کتاب کا سر نامہ ہے ''یادوں کا اہرام‘‘۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ سفر علمی بھی ہے‘ سیّاحتی بھی ہے اور تحقیقی بھی۔ ہم استنبول میں ڈاکٹر صاحب کی مصروفیات کو آپ کے براہِ راست مطالعے پر چھوڑتے ہوئے ‘ اور آپ کو سیدھے ڈاکٹر صاحب کی رفاقت میں قونیہ لئے چلتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات آپ کو بتا دوں کہ 2018ء کے اس سفر میں ڈاکٹر صاحب کے قدم لینے کے لیے ترکی میں قدم قدم پر اُن کے پرستار‘ شاگرد‘ حکومت اور قدردان موجود تھے۔ چلتے چلتے ایک تذکرہ بھی کر دوں کہ ڈاکٹر صاحب کے ''ترکی نامہ‘‘ نے مجھے اپنا ترکی کا سفرنامہ ''کنارے کنارے‘‘ یاد دلا دیا۔ آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا۔پاکستان سے ترکی جانے والے اکثر پاکستانی سیّاح استنبول‘ برصہ اور انطالیہ وغیرہ تک محدود رہتے ہیں‘ میں خود گاڑی ڈرائیو کر کے انقرہ تک گیا تھا۔ تاہم ڈاکٹر صاحب جیسے با ذوق کم کم ہی ہوتے ہیں جو استنبول سے تیرہ سو کلو میٹر کا سفر ہوائی جہاز سے طے کر کے مولانا رومؒ کے مزار پر حاضری کے لیے جائیں۔ 13 ویں صدی میں مولانا جلال الدین رومی ؒکا دور دورہ تھا۔ مولانا کو علم کے ساتھ ساتھ طرزِ بیان میں بھی کمال حاصل تھا۔ جب آپ کسی جگہ خطاب کے لیے کھڑے ہو جاتے تو لوگ پتھر کی طرح ساکت و جامد ہو جاتے۔ حضرت شمس تبریز ؒصاحب ِحال صوفی بزرگ تھے۔ وہ کسی ''انسان‘‘ کی تلاش میں قونیہ پہنچے اور جب انہوں نے مولانا رومیؒ کا جاہ و جلال دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ یہی وہ انسان ہے جس کی انہیں تلاش ہے۔ تفصیلات تاریخی و ادبی کتب میں درج ہیں۔ حضرت شمس تبریزؒ سے ملاقات کے بعد مولانا رومی ؒکی دنیا بدل گئی اور وہ عالم سے صوفی بن گئے اور جب مولانا کے مرشد شمس تبریزؒ ان کے دل کی دنیا بدلنے کے بعد قونیہ سے غائب ہو گئے تو انہوں نے ان کے فراق میں زبردست اشعارفارسی میں کہے جو مثنوی مولانا روم کے نام سے مشہور ہے۔اب‘ ہم قونیہ میں مولانا جلال الدین رومیؒ کے مرقد کی طرف چلے۔ زائرین کے ہجوم کی بنا پر اند رداخل ہونے کے لیے قطار بنی ہوئی تھی۔ مدخل سامنے تھا اور اس پر ایک شعر درج تھا۔ شعر میں کہا گیا تھا کہ یہ مقام عشاق کے لیے کعبے کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ شعر مولانا جامی کا ہے؎
کعبہ العشاق باشد ایں مقام
ہر کہ ناقص آمد اینجا شد تمام
انگریزی ویورپی زبانوں میں مولانا رومی پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ 2009ء میں ایلیف شفق کا ایک ناول مولانا رومی کے بارے میں شائع ہوا جس کا ٹائٹل ہے The Forty Rules of Love۔ قونیہ میں مولانا روم کے مزار پر حاضری کے بعد ڈاکٹر زاہد منیر مولانا کے مرشد شمس تبریزؒ کے مزار کی زیارت کے لیے گئے ۔ ڈاکٹر صاحب کی زبانی ہی اس حاضری کی کیفیت سنیے۔''شمس کا مزار قونیہ شہر کے ایک محلے کے چھوٹے سے چوک میں ہے۔ یہ چوک پرانی وضع کے محلوں کی گلیوں میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا چوک ہے۔ یہاں ڈاکٹر صاحب کے ایک شاگرد فیصل صاحب کا گھر ہے۔ وہ ڈاکٹر صاحب کو اپنے دولت کدے پر لے گئے‘ جہاں انہوں نے اپنے استاد کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ڈاکٹر صاحب کے سفر نامے میں قدم قدم پر قدیم و جدید ترکی ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ 
سفر نامہ نگار جناب مستنصر حسین تارڑ جیسا با ذوق انسان ہو یا مجھ ایسا عامی یا ڈاکٹر صاحب جیسا زاہدِ شب زندہ دار ہو ‘ کہیں نہ کہیں سے نازک اندام و خوش گفتار مخلوق کا ذکر آ ہی جاتا ہے۔ ذرا یہ ذکرِ جمیل ڈاکٹر صاحب کی زبانی سنیے:قونیہ میں مولانا جلال الدین رومی کے مزار کے احاطے میں ایک ٹونٹی سے میں ابھی وضو کر ہی رہا تھا کہ سامنے سے دو نازک اندام لڑکیاں لہک لہک کر میری جانب آتی دکھائی دیں۔ وہ باتوں میں اس قدر محو تھیں کہ انہیں راستے کا اندازہ ہی نہ ہو سکا اور یکا یک ان کے پائوں اس کیچڑ میں جا دھنسے جو اس ٹونٹی کی فیاضی کے باعث پھیلا ہوا تھا۔ کالم کی تنگ دامانی میں تو یہ ''احسن القصص‘‘ سما نہیں سکتا اس کیلئے آپ کو سفر نامہ ہی پڑھنا ہوگا اور یوں بھی آپ اس خوبصورت اور جاذتِ نظر علمی و ادبی سفر نامے کو پڑھنا شروع کریں گے‘ تو دو سو صفحے کی اس مقناطیسی تحریر کو ختم کئے بغیر اپنی نشست سے اٹھ نہیں پائیں گے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں