نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:اچھرہ میں ٹرانسفارمرگرنےسےخاتون کی ہلاکت کاواقعہ
  • بریکنگ :- خاتون کےشوہرکی مدعیت میں واقعہ کامقدمہ تھانہ اچھرہ میں درج
  • بریکنگ :- واپڈاانتظامیہ کی غفلت سےبیوی جاں بحق ہوئی،ایف آئی آرکامتن
  • بریکنگ :- لاہور:پولیس واپڈاانتظامیہ کےخلاف کارروائی کرے،ایف آئی آر
Coronavirus Updates

شہادت شانِ حسینؓ ہے

سانحہ کربلا کو گزرے تقریباً چودہ صدیاں بیت گئی ہیں مگر اس غم کی شدت میں آج تک کمی نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہو رہا ہے۔ جوں جوں انسان بیدار ہو رہا ہے اور مسلمان غوروفکر کر رہا ہے توں توں اس پر منکشف ہو رہا ہے کہ ایک طرف اس سانحہ میں مظلومیت اپنے آخری درجے کو پہنچی ہوئی تھی تو دوسری طرف عزیمت کمال کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ امام عالی مقامؓ چاہتے تو انہیں شاید فقہ سے سہارا مل جاتا مگر انہوں نے رخصت یا مصلحت سے کام نہیں لیا بلکہ عزیمت کا راستہ اختیار فرمایا۔ یہی عزیمت رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کا کارِ عظیم انجام دیتی رہے گی۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی
جس میں بڑے بڑوں کا ہے رخصت پہ انحصار
اس معرکے میں نقشِ عزیمت حسینؓ ہے
یہاں سوچنے والا سوال یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اتنی عظیم قربانی کیوں دی؟ کیا تخت و تاج پر اُن کا کوئی ذاتی دعویٰ تھا۔ کیا کسی ایک شخص کی کسی ذاتی برائی پر امام عالی مقامؓ نے اتنے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور نہ صرف اپنی جان گنوا دی بلکہ اپنے گھر والوں کی گردنیں بھی کٹوا دیں۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ نواسۂ رسول اور جگر گوشۂ بتول کسی ذاتی مفاد یا کسی ذاتی انتقام کے لیے کشت و خون کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ پھر وہ عظیم مقصد کیا تھا جس کے لیے خانوادۂ رسول کی گردنوں کا نذرانہ پیش کیا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کچھ عرصہ تک ریاست مدینہ کے حاکم کا تعین ربِّ ذوالجلال کے فرمان کے مطابق ہوتا رہا کہ مسلمان اپنے معاملات و مسائل باہمی مشاورت سے طے کریں۔ اس کے بعد پہلی بار اسلامی ریاست میں خلافت کا راستہ ترک کر کے خاندانی موروثیت کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ یزید کی ولی عہدی اور تخت نشینی اسلامی ریاست کے دستور، اس کے مزاج اور اس کی روح سے متصادم تھی۔ جناب امام عالی مقامؓ نے بھانپ لیا کہ اگر ریاست مدینہ کی گاڑی خلافت کی پٹڑی چھوڑ کر موروثیت کی پٹڑی پر چڑھ گئی تو آئندہ چل کر اس تبدیلی سے بہت بڑی خرابیاں جنم لیں گی۔ خلافت کی روح رضائے الٰہی اور اتباعِ رسول ہے جبکہ انسانی بادشاہت کا بنیادی مقصد حکومت کا حصول‘ بے پناہ اختیارات کا ارتکاز اور مولانا مودودی کی اصطلاح کے مطابق ''تسخیرِ خلائق‘‘ ہوتا ہے۔ اس نتیجے پر پہنچ کر حضرت حسینؓ نے یزید کی بیعت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یزید کے نائبین بالجبر بیعت لینا چاہتے تھے۔ آپ مدینہ منورہ سے مکۃ المکرمہ آ گئے۔ یہ حج کا زمانہ تھا۔ وہاں آپ کو اہلِ کوفہ کی طرف سے لکھے گئے خطوط کے کئی تھیلے وصول ہوئے کہ آپ کوفہ تشریف لائیں ہم آپ کی بیعت کر لیں گے۔ جب حضرت حسینؓ نے کوفہ جانے کا فیصلہ کر لیا تو کئی اکابر صحابہ نے اختلافی رائے دی۔ امام عالی مقامؓ کو راستے میں اس دور کا سب سے بڑا شاعر فرزدق ملا۔ فرزدق کو اہل بیت سے خصوصی محبت اور شدید لگائو تھا۔ اس موقع پر فرزدق نے بصد ادب و احترام حضرت حسینؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ اہلِ کوفہ کے دل آپ کے ساتھ ہوں گے مگر اُن کی تلواریں یزید کے ساتھ ہوں گی‘ اس لیے میری رائے تو یہ ہے کہ آپ واپس لوٹ جائیں۔ اصلاحِ احوال کے لیے بڑھتے ہوئے قدم واپس جانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ لوٹ کر تو وہ جاتا ہے جسے زندگی پیاری ہوتی ہے مگر حضرت حسینؓ کو زندگی سے کہیں زیادہ وہ مقصد پیارا تھا جو موروثی خطرات کی زد میں تھا۔ اسلامی ریاست و سیاست میں آگے چل کر جو تبدیلیاں آئیں اور خلافت کے شورائی طریقے سے ہٹ کر موروثیت نے جو شکل اختیار کی اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ پٹڑی کی تبدیلی کے آغاز سے ہی امام عالی مقامؓ نے مستقبل کے منظرنامے کا اندازہ لگا لیا تھا۔ ان مطلق العنان اسلامی معاشروں میں عدل کی جگہ ظلم نے لے لی، مشاورت کی جگہ من مانی نے لے لی، خداترسی اور پرہیزگاری کی جگہ شان و شوکت اور عیش و عشرت نے لے لی۔ مختصر یہ کہ انسانیت کے نام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام یہ ہے کہ ظلم کے سامنے، جبر کے سامنے، دھونس اور دھاندلی کے سامنے اور ناانصافی کے سامنے گردن جھکانے سے انکار کر دو۔ اس راستے میں اگر تمہیں جان بھی دینا پڑے تو شان سے جان دے دو۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے صرف پچاس برس بعد نواسۂ رسولؓ کے ساتھ میدانِ کربلا میں جو سانحہ پیش آیا اس میں ظالموں نے نہ صرف اس مقدس تعلق کو بھلا دیا جو حسینؓ کا خاندانِ نبوت سے تھا، بلکہ وہ ساری روایات بھی پس پشت ڈال دیں کہ کس طرح خود تاجدارِ نبوتﷺ حسنین کریمین کی نازبرداریاں فرمایا کرتے تھے اور انہیں جوانانِ جنت کا رتبۂ بلند عطا فرمایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ظالموں نے انسانیت کا درس بھی فراموش کر دیا۔ اس پر جتنے آنسو بہائے جائیں کم ہیں۔ ہم حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خانوادے کی مظلومیت کو زیادہ سے زیادہ اُجاگر کرتے ہیں مگر ''حسینیت‘‘ کو اپنا مقصدِ اوّلیں قرار نہیں دیتے۔ حسینؓ اور حسین کے رب کو راضی کرنے کے لیے ہمیں نواسۂ رسول کے مشن کو اپنانا ہو گا اور اسوۂ حسینی کی پیروی کرنا ہو گی۔ صرف دو لفظوں میں اسوۂ حسینی کا مطلب رضائے الٰہی ہے۔ دیکھئے اردو کے ایک عظیم شاعر مجید امجد نے اس حقیقت کو شعر کے پیرائے میں کیسے بیان کیا ہے
سلام ان پر تہِ تیغ بھی جنہوں نے کہا
جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تو چاہے
اسوۂ شبیری ہے کہ صداقت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہو۔ اگر صداقت کے لیے دل میں مرنے کی تڑپ ہو تو اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرو۔ پیکر خاکی میں جاں کیسے پیدا ہو گی۔ پیکر خاکی میں جان احکامِ خداوندی کے سامنے تسلیم و رضا سے پیدا ہو گی۔ وہ تسلیم و رضا جس کا عملی نمونہ حضرت اسمٰعیلؑ نے فرمانِ ربی کے سامنے کٹوانے کے لیے گردن پیش کرکے دیا تھا۔ تبھی تو اقبال نے خلاصۂ کلام یوں پیش کیا تھا
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسمٰعیل
آج محرم الحرام کے ان ایام میں امت مسلمہ اور اس کے حکمرانوں کو حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ درس یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ ملک خدا کا ہے اور اس پر اُسی کا حکم چلنا چاہئے۔ اسلامی نظام اور قانون کی رو سے اقتدارِ اعلیٰ کا مالک و مختار ربِّ ذوالجلال ہے۔ اور یہی بات اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ لہٰذا جو بھی حکومت آتی ہے وہ اپنی رعیت اور اپنی قوم کے بارے میں اور اُن کی فلاح و بہبود اور ان کی خوشحالی کے بارے میں اقتدارِ اعلیٰ یعنی اللہ کی ذات کو جوابدہ ہے۔ حسینؓ کا پیغام یہ ہے کہ اندازِ کوفی و شامی کو چھوڑ کر ریاستِ مدینہ کا ماڈل پوری طرح اپنایا جائے۔ وہ ماڈل کہ جس میں اس ریاست کا ایک عام بلکہ ایک غیرمسلم شہری بھی اگر خلیفۂ وقت کے خلاف مقدمہ لے کر قاضی کے پاس جائے تو وہ خلیفہ کے مقام و مرتبے کی پروا کیے بغیر انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ دے۔ یہی حسینیت ہے۔ حضرت حسینؓ کی مظلومیت پر غم و اندوہ اپنی جگہ اور اس پر اپنے جذبات و احساسات کا اظہار اپنی جگہ اور اس ظلم عظیم پر آنسوئوں کا سیلِ رواں اپنی جگہ مگر ہماری نظر سے وہ عظیم مقصد ایک لمحے کے لیے بھی اوجھل نہیں ہونا چاہئے جس مقصد کے لیے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تاریخ میں بے مثال قربانی دی۔ مولانا محمد علی جوہر نواسۂ رسول اللہ اور اُن کے خانوادے سے شدید محبت رکھتے تھے۔ دیکھئے انہوں نے حضرت حسین کی شہادت اور شہادت کے مقصد کو کیسے اُجاگر کیا ہے۔
نوحۂ غم سے گھٹاتے نہیں ہم شانِ حسین
کہ شہادت ہی حقیقت میں تھی شایانِ حسین

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں