نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- واشنگٹن:امریکی صدرجوبائیڈن کاتقریب سے خطاب
  • بریکنگ :- کوروناکی نئی قسم سےنمٹنےکےلیےآج پہلےسےزیادہ طریقےموجود ہیں،جوبائیڈن
  • بریکنگ :- ہم کوروناکی نئی قسم سےلڑیں گےاورشکست دیں گے،جوبائیڈن
  • بریکنگ :- وباکامقابلہ کرنےکےلیےویکسین کی نئی خوراکوں کی ضرورت ہے،جوبائیڈن
  • بریکنگ :- وباکےخاتمےکےلیےویکسین کی تیاری کوفروغ دیں گے،جوبائیڈن
  • بریکنگ :- کوروناکی نئی قسم باعث تشویش لیکن ڈرنےکی ضرورت نہیں،جوبائیڈن
  • بریکنگ :- اسوقت لاک ڈاؤن لگانےکاکوئی آپشن موجودنہیں،امریکی صدرجوبائیڈن
Coronavirus Updates

بھنگ

جناب فواد چودھری سے ہماری ہلکی پھلکی یاد اللہ ہے۔ نہایت ذہین شخص ہیں۔ عوامی سیاست کے تقاضے اپنی جگہ مگر نجی محفلوں میں دردِ دل کے ساتھ معقول گفتگو کرتے ہیں۔ چودھری صاحب‘ اگرچہ ابھی تک‘ شیخ رشید احمد کے مقام کو تو نہیں پہنچے مگر خبروں میں ''اِن‘‘ رہنے کا فن اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ وزیرِ اطلاعات تھے تو صبح و شام ٹی وی سکرینوں سے لے کر اخباری صفحات تک صرف انہی کا طوطی بولتا تھا۔ دوستوں کا خیال تھا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی خشک وزارت میں جا کر چودھری صاحب خبروں اور سرخیوں سے فیڈ آئوٹ ہو جائیں گے مگر وہاں جا کر بھی چودھری صاحب سکرینوں کی رونق اور شہ سرخیوں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ طلوع و غروبِ قمر سے لے کر پاکستانی وینٹی لیٹر بنانے تک چودھری صاحب روزانہ ایک نئی خبر لے کر طلوع ہوتے ہیں۔ چند روز پہلے انہوں نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک چونکا دینے والی خبر دی جس کے مطابق ملک میں بھنگ کاشت کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
ہم بھنگ کے طبی فوائد پر تو بعد میں روشنی ڈالیں گے پہلے حشیش کے بارے میں شاعروں کے کہے گئے اشعار سے لطف اندوز ہو لیں۔ بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ سائنس شاعری کی ضد ہے۔ حالانکہ سائنسی ایجادات اور شاعرانہ کلام دونوں کا مصدرو منبع وجدان ہے۔ بہت سی ایسی ایجادات ہیں جن کا آئیڈیا پہلے ہمیں شاعرانہ کلام میں ملتا ہے اور بعد میں ان ایجادات نے ٹیکنالوجی کا جامہ زیب تن کیا۔ البتہ یہ بات تو مسلمہ ہے کہ طب اور شاعری دونوں میں بھنگ کو دردکش اور سکون آور سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی نے ایک قطعے میں حقیقت ِحال بھی بیان کی ہے اور نہایت لطیف پیرائے میں طنز بھی کیا ہے۔ 
اب تو جینے کی یہی صورت ہے اے اہلِ جنوں
چھوڑ کر نقشِ جہاں میں رنگ بھرنے کی اُمنگ
اک بہشتِ بے خودی اور لذتِ برگِ حشیش
سایۂ تاک اور دل میں کچھ نہ کرنے کی اُمنگ
اہلِ نظر جانتے ہیں کہ شعر و ادب کی دنیا میں بھنگ کو سبزہ بھی کہا جاتا ہے۔ سید انشاء نہایت ہی قادر الکلام شاعر تھے اور حسبِ موقع مختلف اصنافِ سخن سے کام لیتے تھے۔ وہ غم ِدنیا سے چھٹکارا پانے اور روحانی مدارج طے کرنے کا نسخہ بتاتے ہیں۔
ہے جی میں فقیروں کی طرح کھینچ لنگوٹا
اور باندھ کے تہمت
چل کنجِ خرابات میں ٹک گھونٹیے سبزہ
فواد چودھری نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ پاکستان میں بھنگ کو محدود پیمانے پر کاشت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ بھنگ کی یہ فصل ادویہ سازی میں استعمال ہو گی نیز اس کی برآمد سے اگلے تین سالوں میں ایک ارب ڈالرز کا زرِمبادلہ کمایا جائے گا۔ چودھری صاحب نے یہ بھی بتایا کہ سردست بھنگ کی کاشت کاری کے لیے پشاور‘ جہلم اور چکوال کا انتخاب کیا گیا ہے۔ دوسری طرف کراچی یونیورسٹی کے تحقیقی سینٹر برائے کیمیائی و نباتاتی علوم نے ملکی سطح پر سائنسی سروے کروا کر چودھری صاحب کے برعکس بھنگ کی کاشت کے لیے جن علاقوں کی نشاندہی کی ہے اُن میں مری ایکسپریس وے کے روٹ پر لوکوٹ کا مقام‘ ہری پور اور سندھ کا علاقہ ٹھٹھہ شامل ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھنگ کی سرکاری کاشت کی بھی انسدادِ منشیات یا اینٹی نارکوٹکس کا شعبہ نگرانی کرے گا۔ کانفرنس میں بھنگ کو کینسر سمیت کئی بیماریوں کا علاج بھی بتایا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ چین کے 40 ہزار ایکڑ رقبے اور کینیڈا میں ایک لاکھ ایکڑ پر بھنگ کی کاشت کی جا رہی ہے۔ ہم نے اپنے طور پر چودھری صاحب کے دعووں کی تصدیق کرنا چاہی تو معلوم ہوا کوئی ایسی ثقہ ریسرچ سامنے نہیں آئی جس سے معلوم ہو کہ واقعی بھنگ امراض کا علاج ہے۔ البتہ مختلف طبی مصادر اور اطبّا حضرات سے یہ معلوم ہوا کہ زمانہ قدیم سے بھنگ ایک درد کش دوا کے طور پر استعمال ہوتی آئی ہے۔ اسلام آباد کی سڑکوں کے دونوں طرف بھنگ کے سبز پودے بکثرت لہلہاتے نظر آتے ہیں۔ اگر اسلام آباد اور اس کے گردو نواح میں پھیلی ہوئی اس خود رو فصل کو ہی ہم کاٹ کر ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیں تو اس سے بڑا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں کسی نئی کاشتکاری کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ ایشیائی ملکوں میں اسے گھوٹ کر ایک فرحت بخش نشہ آور ٹھنڈے مشروب کے طور پر پیا جاتا ہے جبکہ یورپ و امریکہ میں اس کے خشک کیے گئے مرجھائے ہوئے پتوں کو سگریٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کینیڈا کہ جہاں بقول چودھری صاحب بھنگ کی کاشت ایک لاکھ ایکڑ اراضی پر کی جاتی ہے وہاں ادویہ سازی میں تو اس کے استعمال کے کوئی شواہد نہیں ملے البتہ وہاں کے شہری سالانہ کئی ارب ڈالر کی ماری جوآنا سے اپنی روح کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ 
ایک گونا بے خودی اور لذتِ برگ حشیش کا بڑا پرانا رشتہ ہے۔ شیخ الجبل حسن بن صباح نے گیارہویں صدی میں اپنے پرتشدد سیاسی عزائم کیلئے ایک جنت بنائی تھی۔ اس کے کارندے نوجوانوں کو پھانس کر غیرمحسوس طریقے سے انہیں بھنگ پلا دیتے تھے۔ جب وہ اس کے زیراثر ہوش و حواس کھو بیٹھتے تو انہیں حسن بن صباح کی جنت میں پہنچا دیا جاتا۔ جب وہ آنکھ کھولتے تو خود کو ایک ایسے عالم میں پاتے جہاں کی خوشیاں اور مسرتیں اُن کے تصور اور تخیل سے کہیں بڑھ کر ہوتیں۔ پرفضا وادیوں‘ روح افزا آبشاروں‘ جانفزا باغوں اور پرفریب مرغزاروں میں وہ سیر کرتے جہاں حوروں کی صحبت اور مشروباتِ روحیہ انہیں میسر ہوتے جنہیں غالباً شرابِ طہور کے طور پر پیش کیا جاتا۔ پھر ان لوگوں سے جنت کی چاٹ میں بڑے ظالمانہ کام کرائے جاتے۔ عبدالحلیم شرر کے تاریخی ناول ''فردوسِ بریں‘‘ میں بھی حسن بن صباح کی جنت کی جھلکیاں موجود ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے بھی اپنی مشہور نظم ''خضرراہ‘‘ میں نوجوانوں کو بھی اس جنتِ ارضی سے خبردار کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
ساحرالموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش
تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات
''الموط‘‘ وہ مقام تھا جہاں یہ جنت واقع تھی۔ 
مجھے حیرت ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت زرعی انقلاب کی نوید سنا کر اب محدود پیمانے پر بھنگ کی کاشت تک کیوں آ پہنچی ہے۔ شاید اس حکومت کو معلوم نہیں کہ پاکستان میں بھنگ ممنوعہ منشیات کی فہرست میں شامل ہے اسی طرح امریکہ سمیت کئی ممالک میں بھنگ اے شیڈول ممنوعہ منشیات میں بہت نمایاں ہے۔ ان حالات میں یہ کیسے کاشت ہو گی اور کیسے برآمد ہو گی؟ یہ جناب فواد چودھری ہی بتا سکتے ہیں۔ غالباً 2016ء میں میرپور خاص سندھ کے ایک وکیل امان اللہ سومرو نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی کہ پہلے کی طرح بھنگ کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ اُنہوں نے یہ بھی لکھا کہ بھنگ غریبوں کا مشروب ہے۔ اُن کے خیال میں بھنگ منشیات نہیں بلکہ جڑی بوٹی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ وہ اسے ایک دردکش اور فرحت بخش مشروب کے طور پر 1963ء سے استعمال کر رہے ہیں‘ مگر 1977ء میں اسے جنرل ضیا الحق نے ممنوع قرار دے ڈالا۔ یہاں سومرو صاحب سے ایک بھول ہوئی ہے کہ بھنگ سمیت منشیات کو جنرل صاحب نے نہیں‘ ذوالفقار علی بھٹو نے ممنوع قرار دیا تھا۔ 
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ حکومت عام فہم باتوں کے بجائے ''ناقابلِ فہم‘‘ نادر آئیڈیاز کی طرف کیوں جاتی ہے۔ جہلم اور پوٹھوہار کی ساری بیلٹ زیتون کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے جس سے بغیر رکاوٹ کے اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ نہ جانے فواد چودھری زیتون چھوڑ کر بھنگ کی کاشتکاری پر کیوں مائل ہیں؟ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں