نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لندن:گورنرپنجاب چودھری محمد سرور کی پریس کانفرنس
  • بریکنگ :- گورنربننےکی خواہش نہیں تھی،پارٹی نےعہدہ دیا،چودھری محمد سرور
  • بریکنگ :- آپ کوسائیڈلائن کیاگیا؟صحافی،مجھےبعدمیں پتہ چلا،چودھری سرورکاجواب
  • بریکنگ :- لندن:کام کاعہدہ دیاجاتاتوڈلیورکرسکتاتھا،گورنرپنجاب چودھری سرور
  • بریکنگ :- اپنےدائرہ اختیارمیں آنیوالےکام خوش اسلوبی سےکرنےکی کوشش کررہاہوں،گورنر
  • بریکنگ :- ملک کابوسیدہ نظام عوامی مسائل حل کرنےسےقاصرہے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس اورعدلیہ میں اصلاحات لانےمیں ناکام رہے، گورنر چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس،عدلیہ اورپراسیکیوشن میں بڑےپیمانےپراصلاحات کی ضرورت ہے،گورنرپنجاب
  • بریکنگ :- پاکستان کاالمیہ ہےشخصیات کےپیچھےبھاگتےرہے،ادارےمضبوط نہیں کیے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- ن لیگ کےدورمیں شروع ہونےوالاادارہ اوورسیزپنجاب کمیشن اچھاکام کررہا ہے،گورنر
Coronavirus Updates

اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

حفیظ ہوشیارپوری کیا حسبِ حال شعر کہہ گئے ہیں
دلوں کی اُلجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
ملک کے اندرونی و بیرونی منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو صورتحال انتہائی گمبھیر دکھائی دے گی۔ ہماری دونوں سرحدوں پر حالات کشیدہ ہیں۔ مشرقی سرحد پر ہر وقت بھارت کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتا اور معصوم شہریوں کو شہید کرتا نظر آتا ہے۔ گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں بھارتی دہشت گردی کا منصوبہ بے نقاب کیا ہے۔ اُن کے بیان کے مطابق افغانستان میں بھارتی سفارتخانہ سازشوں کا مرکز ہے۔ کرنل راجیش نامی سفارتکار پاکستان کے خلاف کروڑوں بانٹ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے سات سو افراد کی ملیشیا بنائی۔ فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ نومبر دسمبر میں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ الطاف حسین گروپ‘ طالبان اور کالعدم بلوچ تنظیموں کو اسلحہ اور رقوم فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کی تفصیل میں جائیں تو بڑی ہی ہولناک تصویر دکھائی دیتی ہے۔
جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو وہاں سے امریکہ رخصت ہو رہا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ امریکی فوجوں کے انخلا سے پہلے وہاں پر طالبان اور افغان حکومت کے مابین صلح اور پاور شیئرنگ کا کوئی مضبوط اور دیرپا منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا مگر بدقسمتی سے ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا۔ اگر افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی زور پکڑتی ہے اور اندرونی جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو پاکستان اس کی حدّت سے نہیں بچ سکتا اور مغربی سرحد سے بھی ایک بار پھر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ گویا پاکستان دوطرفہ دہشت گردی کے خطرات کی زد میں ہے۔ یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے اور ایک متفقہ و متحدہ قومی پالیسی کا تقاضا کرتی ہے۔ 
جہاں تک معیشت کا تعلق ہے تو اس کی حالت دگرگوں ہے۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 44 ہزار 801 ارب روپے ہو گیا ہے۔ اس حکومت کے سوا دو سالہ دورِ حکومت میں 14 ہزار 922 ارب روپے قرضہ بڑھا ہے۔ مہنگائی سے لوگ بلبلا رہے ہیں۔ حکومتی ترجمان بلندوبالا بنی.گالہ کے مکیں کو ''سب اچھا‘‘ کی رپورٹیں دیتے ہیں اور عوام کو کوئی اچھی خبر سنانے کے بجائے ہر وقت اپوزیشن کو برا بھلا کہتے سنائی دیتے ہیں۔ بیوروکریسی ڈر کے مارے کام کرنے کو تیار نہیں کہ کل جیلیں کون بھگتے گا۔ سرمایہ کار سرمایہ کاری پر آمادہ نہیں۔ یہ تشویشناک حالات ملکی سلامتی اور معاشی خوشحالی کیلئے قومی یکجہتی کی ضرورت کا بڑی شدت سے احساس دلاتے ہیں مگر حکومت کے پاس صرف ایک ہی امرت دھارا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپوزیشن کو چور‘ ڈاکو اور جیب کترے قرار دے کر اپنے دل کا قرار حاصل کیا جائے۔ اب ایک اچھی خبر سننے میں آئی ہے کہ مریم نواز نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے فورم سے فوج کے ساتھ بات چیت ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ بات چیت اوپن ہو۔ اس خبر کی مریم بی بی نے تصدیق کی ہے اور فوج نے بھی اس کی تردید نہیں کی۔ گویا کہیں نہ کہیں بہار کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو بھی گرینڈ نیشنل مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں اگرچہ مریم نواز نے مذاکرات کیلئے ایک شرط یہ بھی لگائی ہے کہ پہلے حکومت کو گھر بھیجا جائے مگر مذاکرات کا آغاز ہو گیا تو پی ڈی ایم اس شرط پر اصرار نہیں کرے گا۔ اندازہ ہے کہ مذاکرات کا ایجنڈا تین نکات پر مشتمل ہو گا۔
.1 فیئر اور فوری الیکشن، .2 مقتدرہ انتخابات میں کوئی مداخلت نہ کرے
.3 الیکشن کے بعد بھی مقتدرہ کی طرف سے کوئی مداخلت نہ کی جائے
مذاکرات کا تیسرا نکتہ خاصا مبہم ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی مقتدرہ اور منتخب حکومت ایک نہیں کئی ملکی معاملات پر باہم مشورہ کرتے رہتے ہیں۔مقتدرہ کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کی دعویدار حکومت کے ترجمان اپوزیشن کو طعنہ دے رہے ہیں کہ وہ فوج سے مذاکرات پر اب آمادہ ہے جبکہ وہ پہلے اس سے انکار کرتی رہی ہے۔ جب قائد ایوان‘ وزیراعظم پاکستان کسی بھی قومی و سیاسی فورم پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت کرنے پر تیار نہ ہو اور ملکی معاملات سنگین سے سنگین تر ہوتے جا رہے ہوں تو اُن سے ہی بات کرنا ہوتی ہے کہ جن کی بات سیاسی حکومت سنتی ہے۔ یوں بھی فوج تیسری دنیا کے سیاسی معاملات میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص اپنا کردار ادا کرتی رہتی ہے۔بعض لوگوں کے خیال میں باپ بیٹی کے بیانیے میں تضاد ہے‘ تاہم بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں میاں نواز شریف کی شدتِ اظہار کا بھی اصل مدعا مذاکرات ہی ہیں؛ تاہم میاں صاحب کے اسلوبِ اظہار کے ساتھ ان کے بہت سے ووٹروں‘ کارکنوں اور لیڈروں کا بھی اتفاق نہیں حتیٰ کہ ہماری معلومات کے مطابق گوجرانوالہ جلسے میں میاں صاحب کا خطاب بلاول بھٹو کیلئے ہی نہیں خود مریم نواز کیلئے بھی ایک سرپرائز تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض زخم اور چوٹیں اتنی شدید ہوتی ہیں کہ آدمی تڑپ اٹھتا ہے مگر ایک سیاستدان کے لیے ضبطِ فغاں بھی ایک بنیادی اور ضروری صفت ہے۔ میاں نواز شریف کا معاملہ اگر صرف اپنی ذات تک محدود ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ اُن کی ہرچہ باداباد پالیسی ایک ذاتی معاملہ ہے مگر میاں صاحب کو یہ ادراک ہونا چاہئے کہ دو جہازوں کو طوفانوں سے نکال کر لے جانا اُن کی ذمہ داری ہے۔ ایک پی ڈی ایم اور دوسری اُن کی اپنی پارٹی ہے۔ اگر میاں صاحب کی تلخ نوائی سے مسلم لیگ (ن) کے کچھ ارکان بکھر جاتے ہیں یا بہت سے ارکان نیم دلی سے چپ سادھ لیتے ہیں اور پی ڈی ایم میں دراڑ پڑتی ہے تو یہ میاں صاحب کیلئے نفع کا نہیں خسارے کا سودا ہو گا۔ 
سیاست میں ایک اور نکتہ بھی بڑا اہم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کتنا آگے بڑھنا ہے‘ پھر کتنا پیچھے ہٹنا ہے نیز سٹاپ کہاں کرنا ہے۔ یقینا میاں صاحب سیاست کے ان اسرارورموز سے بہت اچھی طرح آگاہ ہوں گے۔ ہم تو اس مرحلے پر یہی مشورہ دیں گے کہ بیشک اُن کا نالہ خام نہیں پختہ ہو گا ‘مگر پھر بھی انہیں طرزِ فغاں بدلنے کی ضرورت ہے۔ شورش مرحوم کہا کرتے تھے ''شرفاکے سینے رازوں کے دفینے ہوتے ہیں‘‘۔ میں اس میں اتنا اضافہ ضرور کروں گا کہ پختہ مزاج بالعموم دل کے داغوں کو آنکھ یا زبان دونوں سے عیاں نہیں ہونے دیتے۔ اس لیے میاں صاحب کیلئے مشورہ یہی ہو گا کہ اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی۔ یقینا میاں صاحب پاکستان کے حالات کے بارے میں پل پل کی خبر رکھتے ہوں گے مگر پھر بھی بعض زمینی حقائق ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کا ادراک ایک عام انسان اور سیاستدان کو برسرزمین ہی ہوتا ہے۔ میاں صاحب کو مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ذہانت و ذکاوت اور اپنی جماعت کے دانشمند اور دانشور حضرات‘ جن میں شاہد خاقان عباسی‘ خواجہ آصف‘ احسن اقبال‘ خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ وغیرہ شامل ہیں‘ پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے انہیں خودمختاری دینی چاہئے۔ اس وقت ملکی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ اندرونی استحکام اور امن و سلامتی‘ سرحدوں پر کشیدگی اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر مذاکرات کا عمل بلاتاخیر شروع ہونا چاہئے۔ انہی مذاکرات کے دوران ملک کے اہم ترین مسائل و معاملات پر بھی غور کرلینا چاہئے جن میں بڑھتے ہوئے قرضوں سے نجات‘ تعلیم و خوراک سے محروم بچوں کے لیے ان دونوں نعمتوں کی یقینی فراہمی اور عام آدمی کے لیے حصولِ انصاف بھی شامل ہوں۔ شاعر نے سچ ہی تو کہا ہے کہ
دلوں کی اُلجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں