نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاجگرکےعارضےمیں مبتلا،اسپتال میں زیرعلاج
  • بریکنگ :- ہمارےپاس ان کےعلاج کیلئےذرائع اورٹیکنالوجی نہیں،ذاتی معالج ڈاکٹر فخرالدین
  • بریکنگ :- علاج کےلیےبیرون ملک جانےکی اجازت نہ ملی توخالدہ ضیاکی جان جاسکتی ہے،ذاتی معالج
Coronavirus Updates

جلسے اور خطیب

جلسے جلوسوں کا جتنا کلچر برصغیر پاک و ہند میں ہے شاید ہی دنیا میں کہیں اور ہو۔ ایک زمانہ تھا کہ قائدین و سامعین کے درمیان جلسوں کے ذریعے ہی ابلاغ ہوتا تھا۔ اُس دور میں یہی جلسے لوگوں کے لیے انٹرٹینمنٹ کا بھی ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ ان عوامی جلسوں میں جو جتنا بڑا خطیب ہوتا اس کے پنڈال میں اتنی ہی رونق ہوتی۔ تحریک پاکستان سے پہلے مولانا عطااللہ شاہ بخاری کا طوطی بولتا تھا۔
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا۔ بیشک بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں۔ سید عطااللہ شاہ بخاری کی شعلہ بیانی ساحری سے کم نہ تھی۔ وہ اپنی تقریر کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید سے کرتے۔ وہ ایک مخصوص لے سے قرآن پڑھتے تو نبض کائنات تھم جاتی، پتوں کی سرسراہٹ رک جاتی، شجروحجر پر وجد طاری ہو جاتا۔ یوں لگتا جیسے تاروں بھرے آسمان کی وسعت سے نورانی صحیفہ اترتا چلا آ رہا ہے۔ شاہ صاحب نے عنفوانِ شباب میں کانگریس اور مسلم لیگ کے مشترکہ پلیٹ فارم سے خلافت کے موضوع پر تقریر کرکے رنگ باندھ دیا اور لوگوں کو چونکا دیا۔ شاہ صاحب اپنی بات کو کئی کئی انداز سے بیان کرتے اور پھر سامعین سے پوچھتے کہ بات سمجھ میں آئی یا نہیں۔
ایک کامیاب خطیب کا کمال کیا ہے؟ اس کا کمال یہ ہے کہ وہ مجمع کو اپنی مٹھی میں بند کرلے۔ سید صاحب کی تقریر میں کہیں شبنم، کہیں جذبات کی تپش، کہیں احساسات کی ٹھنڈک، کہیں آبِ رواں کی سی روانی، کہیں تلاطم خیز موجوں کی سی طغیانی، کہیں لہجے کی حلاوت، کہیں آواز کا زیروبم، کہیں حسبِ موقع کئی کئی مترادفات اور کہیں برمحل اشعار کا استعمال۔
حضرتِ شاہ صاحب نمازِ عشاء کے بعد اپنے خطاب کا آغاز کرتے اور اذانِ فجر کے ساتھ اختتام کرتے۔ اس دوران مجمع ہمہ تن گوش رہتا؛ البتہ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ شاہ صاحب کی ساحرانہ خطابت کے باوجود مجمع اُن کے سیاسی مؤقف کی حمایت نہ کرتا۔ شاہ صاحب برصغیر میں مسلمانوں کی الگ ریاست کے حق میں نہ تھے مگر جب برصغیر میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست وجود میں آگئی تو شاہ صاحب پاکستان آگئے اور انہوں نے ملتان میں قیام کیا اور عملاً اپنے پرانے مؤقف سے رجوع کر لیا۔ مسلمانانِ ہند سید صاحب کی شعلہ بیانی پر سر دُھنتے مگر قائداعظم محمدعلی جناح کی صدا پر لبیک کہتے تھے۔ غالباً 1945ء میں سید عطااللہ شاہ بخاری نے کہیں تقریر کرتے ہوئے کہا: میں چوالیس برس لوگوں سے ہم کلام رہا اور لوگ میری تقریروں پر سر بھی دھنتے رہے مگر اُن کے دلوں نے کوئی اثر قبول نہ کیا۔
نواب بہادر یار جنگ بے مثل خطیب اور انتہائی عالم و فاضل شخصیت تھے۔ انہیں عربی، فارسی، اردو اور ہندی پر عبور تھا۔ وہ 1905ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت نے انہیں غوروفکر کی عادت ڈالی۔ اس وقت اُن کی عمر محض 22 برس تھی جب 1927ء میں انہوں نے مجلس اتحادالمسلمین قائم کی۔ نواب بہادریار جنگ دراز قامت اور نہایت ہی وجیہ شخصیت کے مالک تھے۔ نواب صاحب کو شعلہ بیان مقرر کہا جاتا تھا۔ جس جلسے میں اُن کی تقریر ہوتی لوگ سننے کیلئے دور دور سے آیا کرتے تھے۔ نواب بہادر یار جنگ قائداعظم محمدعلی جناح کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنمائوں میں شامل تھے۔ مارچ 1940ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جس اجلاس میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی اس میں آپ کی تقریر معرکہ آرا تھی۔ آپ کو قائدِ ملت اور لسان الامت کے خطابات سے نوازا گیا۔ افسوس یہ کہ نواب بہادریار جنگ کا صرف 39 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔
خطابت کی دنیا میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اس لحاظ سے منفردوممتاز مقام رکھتے تھے کہ اُن کی تقریر میں شعلہ بیان ہوتی نہ ہی شعروشاعری‘ اس کے باوجود لوگ نہایت دلچسپی اور سنجیدگی کے ساتھ اُن کا دو اڑھائی گھنٹے پر محیط خطاب سنتے۔ نہایت منطقی انداز میں سیاسی حالات کا تجزیہ کرتے۔
قیام پاکستان کے بعد آغا شورش کاشمیری کی خطابت کا بہت شہرہ تھا۔ وہ خطیب بھی تھے، شہرہ آفاق شاعر بھی تھے اور دلوں کو جھنجھوڑنے والے نثرنگار بھی۔ ہمیں اپنے زمانۂ طالب علمی میں اُن کی خطابت کے کرشمے سننے اور دیکھنے کا موقع ملا۔ عطااللہ شاہ بخاری کی طرح آغا صاحب بھی کئی کئی گھنٹے خطاب کرتے اور لوگ گوش برآواز رہتے۔ آغا شورش کاشمیری کی خطیبانہ جادوگری اور ساحری سے سامعین بہت محظوظ ہوتے تھے۔ بعد کے ادوار میں نوابزادہ نصراللہ خان کی سیاسی خطابت کا اپنا نرالا رنگ تھا۔ نوابزادہ صاحب زیادہ طویل خطاب نہ کرتے تھے۔ وہ برمحل اشعار استعمال کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ نواب صاحب بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ وہ غزل میں غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ غمِ دوراں کی بھی نہایت خوبصورت عکاسی کرتے تھے۔ سامعین ان کے سیاسی تجزیے اور جمہوریت کیلئے اُن کے والہانہ پن کی بہت داد دیتے تھے۔ آج کے دور میں پرانے خطیبوں کی روایت کوکسی حد تک مولانا فضل الرحمن نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ 
میں بہت غور کرتا رہاکہ موجودہ دور میں ایک سے بڑھ کر ایک مؤثر ذریعۂ ابلاغ موجود ہے‘ اب تو ٹیلی وژن، سوشل میڈیا اور متعدد اخبارات و جرائد کے ذریعے قائدین کرام ایک وقت میں لاکھوں سامعین و ناظرین سے مخاطب ہوسکتے ہیں۔ اس کے باوجود ہزاروں کے مجمع والے جلسوں کی اہمیت اپنی جگہ کیوں قائم ہے؟ اس لیے کہ ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں سپریم حیثیت پارلیمنٹ کی ہوتی ہے؛ چنانچہ وہاں جلسوں، ریلیوں اور کانفرنسوں کی ضرورت ثانوی ہوگئی ہے۔ ان ملکوں میں عام انتخابات بالعموم صاف اور شفاف ہوتے ہیں لہٰذا دھرنوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔
پی ڈی ایم کے لاہور کے جلسۂ عام کے بارے میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین بیان بازی جاری ہے۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اگر پی ڈی ایم کے مینارِ پاکستان کے جلسے میں داتا دربار سے لے کر شاہدرہ تک سر ہی سر ہوتے تب بھی حکومتی ترجمانوں کی طرف سے وہی تبصرے آنے تھے جو اب کیے جا رہے ہیں۔ شدید سردی کے موسم میں، کورونا کے جان لیوا خطرات کی سروں پر لٹکتی ہوئی تلوار کے باوجود اگر لاکھ نہ سہی پچاس ہزار لاہوریوں نے بھی جلسے میں شرکت کی اور پانچ چھ گھنٹے وہاں بیٹھے رہے تو یہ پی ڈی ایم کے جلسے کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ پی ڈی ایم کے جلسوں کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے شیڈول اور پروگرام کے مطابق مختلف صوبوں اور مقامات پر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود جاری رہے اور اس میں غیرجانبدارانہ ذرائع کے مطابق ہزارہا لوگوں نے شرکت کی اور پی ڈی ایم کے مؤقف کے ساتھ ہمنوائی کا ثبوت دیا۔
حکومت کو اب اندازہ ہو جانا چاہئے کہ پی ڈی ایم والے اپنی دھن کے پکے اور اپنے شیڈول کے سچے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے وزیراعظم عمران خان کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت مستعفی نہیں ہوتی تو پھر پی ڈی ایم اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی۔ حکومت کو اپوزیشن کی ڈیڈ لائن کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور تصادم سے بچنے کا کوئی راستہ نکالنا چاہئے۔ ہماری تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جب بھی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تو اس کے انتہائی بھیانک نتائج نکلے۔ چاہئے تو یہ کہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ہو جس میں وقتی بحران کا ہی نہیں ہمارے مستقل مسائل کا متحدہ و متفقہ حل بھی تلاش کیا جائے اور آئندہ کے لیے یہ فیصلہ ہو جائے کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں گے۔ یہ بھی کہ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہوگی اور جلسوں اور جلوسوں کے کلچر پر پارلیمنٹ میں مسائل حل کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں