نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لندن:کام کاعہدہ دیاجاتاتوڈلیورکرسکتاتھا،گورنرپنجاب چودھری سرور
  • بریکنگ :- اپنےدائرہ اختیارمیں آنیوالےکام خوش اسلوبی سےکرنےکی کوشش کررہاہوں،گورنر
  • بریکنگ :- ملک کابوسیدہ نظام عوامی مسائل حل کرنےسےقاصرہے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس اورعدلیہ میں اصلاحات لانےمیں ناکام رہے، گورنر چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس،عدلیہ اورپراسیکیوشن میں بڑےپیمانےپراصلاحات کی ضرورت ہے،گورنرپنجاب
  • بریکنگ :- پاکستان کاالمیہ ہےشخصیات کےپیچھےبھاگتےرہے،ادارےمضبوط نہیں کیے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- ن لیگ کےدورمیں شروع ہونےوالاادارہ اوورسیزپنجاب کمیشن اچھاکام کررہا ہے،گورنر
  • بریکنگ :- لندن:گورنرپنجاب چودھری محمد سرور کی پریس کانفرنس
  • بریکنگ :- گورنربننےکی خواہش نہیں تھی،پارٹی نےعہدہ دیا،چودھری محمد سرور
  • بریکنگ :- آپ کوسائیڈلائن کیاگیا؟صحافی،مجھےبعدمیں پتہ چلا،چودھری سرورکاجواب
Coronavirus Updates

سینیٹ الیکشن‘ پڑائو یا منزل

4 فروری کو جب مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کی تو اُس کا لب لباب یہ تھا کہ سینیٹ الیکشن ایک پڑائو جبکہ لانگ مارچ ہماری منزل ہے۔ انہوں نے سینیٹ کا انتخاب متفقہ و متحدہ طور پر لڑنے کا سندیسہ بھی سنایا۔ مولانا نے اعلان کیا کہ 26 مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا۔ تاہم گزشتہ چند روز سے پی ڈی ایم کے مختلف قائدین کی طرف سے جو باتیں سننے میں آرہی ہیں اُن سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ کہیں راہی پڑائو کو ہی تو منزل نہیں سمجھ بیٹھا۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ شاید سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ پی ڈی ایم کی رہبر کمیٹی کے معزز رکن فرحت اللہ بابر نے بھی اسی خیال کو مزید تقویت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی کے گزشتہ کئی اجلاسوں میں لانگ مارچ نہیں سینیٹ انتخابات زیر بحث آئے ہیں۔ بابر صاحب نے یہ بھی اشارہ دیا کہ لانگ مارچ کی تاریخ بدل بھی سکتی ہے۔
اس دوران میاں نواز شریف سے بھی یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ لانگ مارچ سے پہلے پی ڈی ایم کو شٹرڈائون اور پہیہ جام کے آپشن پر بھی غور کرنا چاہئے۔ ان تمام باتوں سے تو یوں لگتا ہے کہ کہیں مولانا فضل الرحمن یوسفِ بے کارواں تو نہیں ہوجائیں گے؟ قافلہ سالاروں کی سوچ میں اگر بے یقینی پیدا ہو جائے اور شعورِ منزل ہی دھندلانے لگے تو پیروکار بھی کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بقول باصر کاظمی
کیا راستہ بدل گیا یا منزل بدل گئی؟
کہیں کوئی پس پردہ کہانی تو پروان نہیں چڑھ رہی۔ بظاہر اس کی بہت دھندلی سی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ شاید اسے ہی بہار کا امکان سمجھ لیا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم اور سپیکر قومی اسمبلی سید یوسف رضا گیلانی کا اسلام آباد کے سینیٹ اکھاڑے میں اترنا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ اس معرکے میں مقتدرہ نیوٹرل رہے گی۔ اس حوالے سے چاہِ یوسف سے جو صدا آئی ہے اُس کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مقتدرہ مکمل طور پر غیرجانبدار رہے گی۔اپوزیشن اس سیٹ کے خیالی زینے سے خاصی بلندی پر پہنچ چکی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی کے ووٹوں سے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے مقابلے میں جیت جاتے ہیں تو پھر ایوانِ زیریں میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ صرف پیش کی جا سکتی ہے بلکہ کامیاب بھی کرائی جا سکتی ہے۔ میں مختلف پریس کانفرنسوں میں جب یوسف رضا گیلانی کے سنجیدہ و فکرمند چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملتان کے سیدزادے کو یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں سینیٹ کی عاشقی میں ''عزتِ سادات‘‘ ہی خطرے میں نہ پڑ جائے۔ دوسری طرف ایوانِ بالا کیلئے سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی اور پی ڈی ایم کے درمیان معاملات کے طے پاجانے سے مجھے خوشگوار حیرت ہوئی ہے۔
اب کے پی میں جماعت اسلامی اپوزیشن کے امیدواروں کو ووٹ دے گی۔ پانچ جماعتوں کی طرف سے پانچ امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے جبکہ جماعت اسلامی کو خواتین کی نشست پر پی ڈی ایم کی حمایت حاصل ہوگی۔ یوں سینیٹ میں جماعت اسلامی دو میں سے ایک رہ جانے والی سیٹ کو ایک بار پھر دو بنا سکتی ہے۔ اسی طرح کراچی میں صوبائی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات کی اور انہیں پیشکش کی ہے کہ اُن کی پارٹی سینیٹ میں ایم کیو ایم کی دو نشستوں کیلئے اپنے امیدوار دستبردار کروانے کو تیار ہے‘ لیکن اس کے جواب میں ایم کیو ایم کو قومی اسمبلی میں سینیٹ کیلئے یوسف رضا گیلانی کی حمایت کرنا ہوگی۔ ابھی متحدہ نے پیپلز پارٹی کو کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ اگر یہ ڈیل پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتی ہے تو پھر کئی سوالوں کا جواب مل جائے گا۔ پھر یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ واقعی مقتدرہ غیرجانبدار ہے اور ایم کیو ایم کی حمایت سے گیلانی صاحب کی سینیٹ سیٹ پر کامیابی کے امکانات بھی خاصے روشن ہو جائیں گے۔
سینیٹ پاکستان میں ہی نہیں ہر ملک میں ایک ایسا ایوان سمجھا جاتا ہے کہ جس میں ملکی دانش و مہارت کی کہکشاں جمع ہوتی ہے جو اپنی فکر کی روشنی سے نہ صرف ایوان بلکہ اپنے وطن کو بھی منور کرتی ہے۔ یہ اصحابِ فکر بالعموم روزمرہ سیاست سے ماورا ہوتے ہیں اور نہایت سنجیدگی و سمجھداری سے نازک قومی معاملات کو زیربحث لاتے ہیں۔ پاکستانی سینیٹ میں مختلف ادوار میں بعض سینیٹرز ایوانِ بالا کے ماتھے کا جھومر اور اس باوقار ادارے کی آن بان اور شان شمار ہوتے رہے ہیں۔ ان میں پروفیسر خورشید احمد‘ راجہ ظفرالحق‘ سرتاج عزیز‘ پروفیسر ساجد میر‘مشاہد حسین سید‘ پرویز رشید‘ حافظ حسین احمد‘ اعتزاز احسن اور مشاہداللہ خان مرحوم شامل تھے۔ ہمیں حافظ حسین احمد کے سینیٹ میں نہ آنے کا بطورِ خاص افسوس رہے گا۔ حافظ صاحب سینیٹ اجلاسوں کے دوران اور پھر اخباری بیانات و ٹی وی پروگراموں میں طنز اور مزاج کی باہم ملتی ہوئی سرحدوں سے پھوٹتے ہوئے ذومعنی پرلطف جملوں سے سیاست کے خارزار کو خوش رنگ صحنِ چمن بنانے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ مگر صد افسوس کہ حافظ صاحب نے اس شاخ کو ہی کاٹ دیا جس پر اُن کا آشیانہ بننے کا امکان تھا۔
اب تک سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بعض مستحسن فیصلے سامنے آئے ہیں۔ پنجاب میں بغیر انتخاب کے سینیٹ سیٹوں پر دونوں بڑی پارٹیوں کا انتخاب ایک معقول فیصلہ تھا جس کی تعریف و تائید کی جانی چاہئے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے مایہ ناز صحافی‘ ممتاز دانشور اور واجب الاحترام معلم جناب عرفان صدیقی کو سینیٹ کا ٹکٹ دے کر ایوانِ بالا کے وقار میں مزید اضافہ کیا ہے۔ صدیقی صاحب نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وفا شعاری کا جو رشتہ برسوں پہلے استوار کیا تھا اس پر وہ ثابت قدمی کے ساتھ گامزن رہے۔ اس راستے میں بڑے کٹھن مقامات بھی آئے اور انہیں بغیر کسی جرم کے پس دیوارِ زنداں بھی جانا پڑا مگر ان کے پائے استقلال میں کوئی اضمحلال نہ آیا۔ البتہ سینیٹر پرویز رشید کے کاغذاتِ نامزدگی کا ایک انتظامی مسئلے پر مسترد کیا جانا کوئی خوشگوار فیصلہ نہیں گردانا جائے گا۔
بعض حلقوں کی رائے کے مطابق سینیٹ الیکشن میں جہانگیر ترین کی حمایت فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ اگرچہ وہ قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ ہی سینیٹ کے‘ مگر وہ کنگ میکر ضرور ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی تشکیل میں بھی اُن کا کردار سب سے نمایاں تھا۔ قومی اسمبلی کے الیکشن کے لیے مناسب امیدواروں کے چنائو سے لے کر اُن کی جیت تک اور پھر آزاد امیدواروں کو اپنے جہاز میں بھر بھر کر بنی گالا لانے تک اُن کے حسنِ کارکردگی کو پارٹی قیادت بہت سراہتی رہی ہے۔ اب شنید یہ ہے کہ جہانگیر ترین کی خاموش حمایت یوسف رضا گیلانی کے پلڑے میں جائے گی کیونکہ دونوں کے درمیان رشتہ داری اور علاقائی قربت کا تعلق استوار ہے۔
پی ٹی آئی کی اندرونی بے چینی اور خانہ جنگی اپوزیشن کو بہت فائدہ پہنچا سکتی ہے مگر اس کیلئے ہم پیش گوئی کے بجائے انتظار کو ترجیح دیںگے اور انتظار کی گھڑیاں ختم ہوا چاہتی ہیں۔ بس ایک دن ہی تو باقی ہے۔ البتہ ہمیں پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کے حوالے سے بعض خدشات بھی لاحق ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اپوزیشن کی بڑی پارٹیاں سینیٹ پڑائو کو ہی منزل نہ بنا لیں۔ اس صورت میں بے دلی و بے یقینی سے ہونے والا لانگ مارچ کہیں اُس لانگ مارچ کے مشابہ نہ ہو جائے جس کا نقشہ شاعر نے اس شعر میں کھینچا ہے
بحر پُر شور ہے‘ نزدیک نہیں ساحل بھی
گھر سے بے گھر ہوئے اور نہ ملی منزل بھی

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں