نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:اچھرہ میں ٹرانسفارمرگرنےسےخاتون کی ہلاکت کاواقعہ
  • بریکنگ :- خاتون کےشوہرکی مدعیت میں واقعہ کامقدمہ تھانہ اچھرہ میں درج
  • بریکنگ :- واپڈاانتظامیہ کی غفلت سےبیوی جاں بحق ہوئی،ایف آئی آرکامتن
  • بریکنگ :- لاہور:پولیس واپڈاانتظامیہ کےخلاف کارروائی کرے،ایف آئی آر
Coronavirus Updates

بجٹ کیسا ہونا چاہئے؟

زخموں کی اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی زخموں پر نمک پاشی سے ہوتی ہے۔ آج کل حکومتی مہربان یہی نمک پاشی کا کارِخیر سرانجام دے رہے ہیں۔ جناب فواد چودھری فرماتے ہیں کہ اگر مہنگائی بڑھی ہے تو خریداری بھی بڑھی ہے جبکہ مختلف گیلپ سروے رپورٹوں کے مطابق عوام کی قوتِ خرید آدھی رہ گئی ہے۔ فواد چودھری صاحب نہایت ذہین و فطین سیاستدان ہیں لیکن وہ شاید خود کو ہر شعبے کا ماہر سمجھتے ہیں۔
بجٹ عوام کے نزدیک ٹیکسوں اور مہنگائی میں اضافے کا جبکہ حکومت کے نزدیک اعدادوشمار کے ردّوبدل کے سنہری گورکھ دھندے کا دوسرا نام ہے جس میں عوام الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ حکومت پاکستان کا نہیں آئی ایم ایف کا ہوگا جسے وہ اپنی ترجیحات کے مطابق ترتیب دے رہا ہے۔ افسوس تو مگر یہ ہے کہ اپوزیشن کی کسی جماعت نے ترقی یافتہ جمہوریتوں کے ماڈل کے مطابق اپنا شیڈو بجٹ پیش نہیں کیا۔ تفصیلی کیا مختصر بھی پیش نہیں کیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ یہ جماعتیں الگ الگ یا مشترکہ طور پر بجٹ کا ایک خاکہ پیش کرتیں کہ اگر ہم برسراقتدار ہوتے تو ہمارا عوام دوست بجٹ غریبوں کو غربت کی دلدل سے کیسے نکالتا اور مہنگائی و بیروزگاری سے کیسے چھٹکارا دلاتا مگر ابھی تک اپوزیشن نے عوام کے سامنے کوئی متبادل بجٹ تجاویز و اصلاحات پیش نہیں کیں۔
قارئین کرام! یہ نہ سمجھئے کہ میں بھی باتوں میں لگا کر آپ کو اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں الجھا رہا ہوں۔ مجھے خود بھی گرافوں کے اتار چڑھائو سے کبھی لگائو نہیں رہا البتہ میں آپ کے سامنے ایک دل چسپ موازنہ پیش کر رہا ہوں۔ جناب وزیراعظم نے کوئٹہ میں نہایت فخر سے کہا کہ ہم معاشی مشکلات سے نجات حاصل کر چکے ہیں۔ رواں مالی سال میں جی ڈی پی میں اضافے کے باعث ہماری شرح نمو 4 فیصد ہو چکی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ خوشخبری ہے تاہم اعدادوشمار کی اس جادوگری پر اپوزیشن ہی نہیں عالمی اقتصادی ادارے بھی انگشت بدنداں ہیں اور اسی لیے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ عوام کی سہولت کے لیے اتنا بتا دوں کہ جی ڈی پی کیا ہے؟ گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ سے مراد وہ تمام اشیاوخدمات ہیں جو کسی ملک کے اندر ایک سال کے دوران پیدا ہوتی ہیں اور مارکیٹ میں اُن کی خریداری ہوتی ہے۔
شرح نمو میں اضافے سے اگر لوگوں کی آمدنی نہیں بڑھتی، روزگار کے مواقع نہیں پھلتے پھولتے، لوگ خط غربت سے اوپر نہیں آتے، اُن کے معیارِ زندگی میں خوشحالی کی کوئی رمق نہیں دکھائی دیتی تو پھر گروتھ ریٹ میں یہ اضافہ الفاظ کی فسوں کاری کے علاوہ کچھ نہیں۔ اب ذرا اس موازنے پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ 2019-20 میں حکومتی اعدادوشمار کے مطابق شرح نمو منفی 0.47 فیصد تھی۔ 2020-21 یعنی رواں مالی سال کے بارے میں حکومتی تخمینہ یہ تھا کہ ہماری شرح نمو 2.9 فیصد ہوگی۔ یہی شرح نمو حکومت نے گزشتہ ماہ ایک عالمی اقتصادی ادارے کو تحریری طور پر پیش کی تھی۔ مستند اعدادوشمار کے مطابق آئی ایم ایف نے ہماری ترقی کا تخمینہ دو فیصد جبکہ ورلڈ بینک نے ڈیڑھ فیصد لگایا تھا۔ معیشت کے خوابِ پریشاں کی یہی تصویر چوتھے وزیر خزانہ نے اپنی آمد سے محض دو تین ہفتے پہلے دکھائی تھی اور علی الاعلان کہا تھا کہ حکومت نے معاشی ترقی کا بیڑہ غرق کر دیا‘ مگر پھر کیا ہوا کہ نئے وزیر خزانہ کی دبنگ انٹری کے بعد صورتحال اچانک بدل گئی۔ ڈیڑھ دو فیصد سے اوپر نہ جانے والی شرح نمو یکایک 3.94 پر کیسے چلی گئی اور اگلے مالی سال میں یہ شرح نمو 4.80 کیسے ہو جائے گی؟ رواں مالی سال کے اختتام پر شرح ترقی میں اضافے کا کوئی ادنیٰ سا عکس بھی عوامی زندگیوں میں نظر نہیں آرہا۔ اس کے برعکس حالات پہلے سے کہیں بڑھ کر دگرگوں ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
جہاں تک غربت میں اضافے کا تعلق ہے اس کی کوئی حدوحساب نہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں دو کروڑ عوام خط غربت سے نیچے جا چکے ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق جس شخص کی روزانہ آمدنی دو ڈالر یعنی 300 روپے سے کم ہے وہ خط غربت سے نیچے ہے جبکہ پاکستانی معیار کے مطابق جس فرد کی روزانہ آمدنی 100 روپے سے کم ہے وہ خط غربت سے نیچے ہے۔ اس حساب سے بھی پلاننگ کمیشن کے تازہ سروے کے مطابق پاکستان میں 7 کروڑ 77لاکھ افراد خط غربت سے نیچے ہیں۔ غربت کا یہ بھیانک منظر دیکھئے‘ اپنے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے بلندبانگ دعوے دیکھئے اور اُن کا اپنا معیارِ زندگی دیکھئے۔ ان دونوں مناظر میں ہے کوئی مطابقت؟ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے ہر ماہ دو اڑھائی بلین ڈالر کا فارن ایکسچینج بھیجنے پر بغلیں بجا رہی ہے مگر حکومت نے خیبرپختونخوا میں اپنے 8 سالہ دور اور وفاق کے پونے تین سالہ دور میں ایسی کوئی سکیم پیش نہیں کی جو اوورسیز پاکستانیوں کی وطن مستقل واپسی کی صورت میں اُن کا متبادل وسیلۂ روزگار بن سکے اور عمومی معاشی خوشحالی کا ذریعہ بھی وجود میں آسکے۔
منگل کے روز چیف جسٹس صاحب نے ملک کی معاشی زبوں حالی پر ریمارکس دیتے ہوئے حکومت کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لے کر تنخواہیں دے رہے ہیں۔ یہ طرزِعمل ملکی معیشت کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ جناب جسٹس گلزار احمد نے زور دے کرکہا کہ کے پی میں سرکاری نوکری کے علاوہ کوئی روزگار نہیں۔ سرکاری ادارے ملازمین سے بھر دیئے گئے ہیں۔ کے پی حکومت تنخواہیں اور پنشن دینے کے قابل نہیں۔مجھے یاد ہے کہ ہم نے متحدہ مجلس عمل کی حکومت کو قاضی حسین احمد مرحوم کے ذریعے اور سینیٹر اعجاز چودھری کے توسط سے تحریک انصاف کی حکومت کو بالخصوص خیبر پختونخوا میں اسی صوبے سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک پاکستانیوں کے فنڈز سے اُن کیلئے روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا کرنے کیلئے ایک سکیم تحریری طور پر پیش کی تھی۔ اس سکیم کے مطابق چھوٹے صنعتی یونٹ اور پرائیویٹ ادارے قائم کیے جاتے ہیں جیسے مصر میں ''معاش‘‘ کے نام سے اوورسیز مصریوں کے لیے وطن واپسی کے بعد باضمانت روزگار اور اچھے معیارِ زندگی کا اہتمام کیا جاتا ہے‘ مگر اس ملک میں کہ جہاں سیاست ہر شعبے پر غالب ہے وہاں مجھ جیسے فقیرِ بے نوا کی کون سنتا ہے۔ ہماری تحریری سکیم کا متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے کوئی جواب دیا تھا اور نہ اب تحریک انصاف نے اس سکیم کے بارے میں کسی مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ملک میں خوشحالی اور معاشی استحکام تب آئے گا جب لوگوں کی قوتِ خرید بڑھے گی اور قوتِ خرید تب بڑھے گی جب لوگوں کی آمدنیاں بڑھیں گی، جب روزگار کے وسیع تر مواقع ملیں گے، اور جب مہنگائی کی کمر ٹوٹے گی۔ اب مہنگائی کی عمومی شرح 14 فیصد ہے۔ جبکہ آٹا چینی اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں اس شرح سے بھی کہیں اوپر چلی جاتی ہیں۔ حکومت آنے والے بجٹ میں بالواسطہ سیلز ٹیکس اور بجلی و گیس کے بلوں میں نمایاں کمی کرے۔
اب آخر میں ریاست مدینہ کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے کہ جب مدینہ میں قحط پھیلا تو حضرت عمرؓ نے اسلامی ریاست کے خوشحال علاقوں سے غلہ اور خوراک منگوا کر لوگوں میں اس کی تقسیم شروع کر دی اور وہ بنفس نفیس جگہ جگہ جا کر لوگوں کے احوال کا جائزہ لیتے۔ حضرت عمرؓ خود خشک روٹی کے علاوہ کچھ نہ کھاتے۔ آپؓ کا فرمان تھا کہ جب تک ریاست مدینہ کا ایک فرد بھی بھوکا ہے اُس وقت تک خطاب کے بیٹے کے لیے تازہ روٹی ممنوع ہے۔ یہاں ایک کروڑ بچے ناکافی خوراک سے نڈھال ہیں مگر اُن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ دیکھئے آنے والا بجٹ عوام کی کمر پر مہنگائی کے مزید کوڑے برساتا ہے یا اُن کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں