نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سادھوکی میں کالعدم تنظیم اورپولیس کےدرمیان تصادم کاواقعہ
  • بریکنگ :- کامونکی:تھانہ ایمن آبادمیں واقعہ کامقدمہ درج کرلیاگیا،پولیس
  • بریکنگ :- مقدمہ میں انسداددہشتگردی ایکٹ سمیت 16دفعات شامل کی گئیں
  • بریکنگ :- کامونکی:پولیس اہلکاروں کےاغوااورتشددکی دفعات بھی شامل
  • بریکنگ :- چوری،توڑپھوڑاورسرکاری سامان چھیننےکی دفعات بھی شامل
  • بریکنگ :- شیخوپورہ :مریدکے میں پولیس ملازمین کےقتل ، اغوا کا مقدمہ درج
  • بریکنگ :- شیخوپورہ: دہشتگردی ،قتل ،اغوا ،بغاوت سمیت 26 دفعات شامل
  • بریکنگ :- شیخوپورہ :مقدمہ ایس ایچ او صدر مریدکے کی مدعیت میں درج کیا گیا
  • بریکنگ :- شیخوپورہ :مقدمے میں رکن سندھ اسمبلی قاسم فخری بھی نامزد
Coronavirus Updates

کراچی کی کایا پلٹ سکتی ہے

جواں سال بیرسٹر مرتضیٰ وہاب سے تو ہماری براہ راست یاداللہ نہیں مگر وہ اپنی گفتگو‘ اپنے طرزِ تخاطب اور اپنے الفاظ کے چنائو سے بڑے مہذب لگتے ہیں۔ آدمی بولتا ہے تو اس کے لب و لہجے سے اس کی تعلیم و تربیت جھلکتی ہے۔ مرتضیٰ وہاب کی والدہ محترمہ فوزیہ وہاب 2002ء کی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے رکن قومی اسمبلی تھیں۔ اُن دنوں میں اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس کے ساتھ ساتھ وہاں سے ایک دو اہم ٹی وی چینلوں پر اپنا پروگرام پیش کرتا تھا۔ وہ میرے پروگرام میں تشریف لاتی تھیں اور نہایت شگفتہ و شائستہ گفتگو کیا کرتی تھیں۔
جناب نصیر سلیمی کراچی شہر کا ایک بڑا نام ہیں۔ انہوں نے یہ نیک نامی بے داغ صحافت‘ خدمتِ خلق اور شہر کی علمی‘ ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لے کر کمائی ہے۔ انہوں نے ٹیلیفون پر مجھے بتایا کہ مرتضیٰ کے والد مرحوم وہاب صدیقی صاحبِ علم دانشور تھے۔ وہ ٹیلی وژن پر ایک متوازن پروگرام بھی پیش کیا کرتے تھے۔ مرتضیٰ وہاب پہلے سندھ حکومت کے مشیر اطلاعات تھے اور اب انہیں کراچی میٹروپولیٹن کا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا ہے۔
گزشتہ چند برس سے کراچی مسائلستان بنا ہوا ہے۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیروں کے پہاڑ‘ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں‘ سڑکوں پر بہتا ہوا گندا پانی‘ صاف پانی کی عدم دستیابی ہی نہیں نایابی‘ پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت زار‘ محلوں میں جگہ جگہ پھیلی ہوئی گندگی‘ خونخوار کتوں کے غول کے غول اور صحت و صفائی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر۔ اس پر کورونا کی حشر سامانیاں۔ یہ ہے آج کا ''عروس البلاد‘‘ روشنیوں کا شہر کراچی۔ قیام پاکستان سے لے کر پہلی تین دہائیوں تک کراچی تعصبات سے پاک تھا۔ سندھی‘ مہاجر اور لوکل و نان لوکل وغیرہ کی کوئی تقسیم نہ تھی۔ کراچی کمال کا شہر تھا۔ یہ غریب پرور اور علم پرور شہر تھا۔
پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر میں ملک کے چاروں صوبوں سے عوام الناس بالخصوص نوجوان آتے اور چند مہینوں میں ہی اُن کی کایا کلپ ہو جاتی۔ نوجوانوں کو روزگار بھی ملتا اور شام کے اوقات میں انہیں مزید تعلیم کے مواقع بھی میسر آتے۔ باہر سے آنے والے یہ نوجوان لوگ کراچی کے کلچر میں رچ بس جاتے۔ اگرچہ سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو کراچی شہر کے مسائل کا اصل حل تو عوام کی منتخب لوکل گورنمنٹ ہے۔ ایک منتخب میئر عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے تاہم اسے شومئی قسمت ہی کہیے کہ صرف سندھ کی ہی نہیں چاروں صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کے ساتھ ایک سوکن کا سا سلوک کرتی ہیں۔ پہلے تو یہ حکومتیں بلدیاتی اداروں کو قائم ہی نہیں ہونے دیتیں اگر قائم ہو جائیں تو انہیں کام نہیں کرنے دیتیں۔ کراچی کے مسائل کا حقیقی حل تو تعصب سے پاک فضا کی واپسی ہے۔
تین چار دہائیوں تک لسانی تعصبات کے عفریت نے اس شہر کی فضا کو بری طرح مسموم کیا تھا۔ یہاں بھتہ اور کلاشنکوف کلچر پروان چڑھایا گیا۔ یہاں صاف شفاف انتخابات کے کلچر کو پامال کیا گیا۔ یہاں کے امن و امان کو تباہ و برباد کیا گیا۔ یہاں انسانوں کو اپنے مذموم مقاصد کی خاطر چڑیوں کی طرح پھڑکایا گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ایک بار پھر شہر کراچی نے خوشگوار فضا کی طرف واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔
دادو سے تعلق رکھنے والے حکیم احسن عباسی قیام پاکستان کے موقع پر کراچی کے میئر تھے۔ اُن کا شمار شہر کے نہایت نیک نام ناظمین میں ہوتا ہے۔ 1979ء سے لے کر 1987ء تک کراچی کو ایک ایسا میئر ملا جیسا چشم فلک نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ میئر عبدالستار افغانی درویش صفت ہی نہیں فی الحقیقت درویش میئر تھے۔ انہوں نے آٹھ برس تک اس شہر کی بے پناہ خدمت کی اور اُن کے بعد 2001ء سے لے کر 2005ء تک نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کراچی کے میئر منتخب ہوئے۔ خان صاحب کی امانت و دیانت آج تک کراچی میں ضرب المثل ہے۔ انہوں نے بڑے بڑے پروجیکٹ شروع کروائے۔نئے بلدیاتی انتخابات تک مرتضیٰ وہاب کو شہر کراچی کی خدمت کا ایک سنہری موقع ملا ہے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نئے ایڈمنسٹریٹر کی تقرری کے بعد موصوف نے بڑے اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ماضی کی تلخیوں کو یکسر بھلا کر اور سیاست سے بلندوبالا ہو کر مل جل کر اس شہر کی روشنیاں اور خوشیاں واپس لانی ہیں۔ مرتضیٰ وہاب نے بڑی دل خوش کن باتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں مسائل کی بحثوں پر نہیں اُن کے حل پر یقین رکھتا ہوں۔ اُنہوں نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کراچی کارپوریشن صداقت‘ دیانت‘ اخلاص اور محنت کو اپنا شعار بنا لے تو پھر وہ شہریوں کی زبردست خدمت کر سکتی ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ کشاکش کی پالیسی کو یکسر ختم کر کے باہمی تعاون کے کلچر کو پروان چڑھائیں گے۔
جناب مرتضیٰ وہاب کے لیے ہمارا مشورہ یہ ہوگا کہ دیانت و امانت کی بے مثال شہرت رکھنے والی اور کئی بار بحیثیت میئر اس شہر کی خدمت کرنے والی جماعت اسلامی سے بھی وہ ضرور تعاون حاصل کریں۔ اب ہم جناب مرتضیٰ وہاب اور اہل کراچی کو ایک ایسی عملی مثال بتانے لگے ہیں جسے سن کر وہ دنگ رہ جائیں گے اور محوِ حیرت ہو کر یقینا یہ کہہ اٹھیں گے کہ
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی
میرے عزیز دوست ڈاکٹر اسد اسماعیل ان دنوں امریکہ میں ایک نامور طبیب کے طور پر پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ناظم آباد کراچی کے رہنے والے ہیں۔ گزشتہ دو تین برس سے وہ اپنے محلے کی خراب و خستہ حالت سنوارنے اور سدھارنے کے لیے زرکثیر کے ساتھ ساتھ اپنی چھٹیوں کا زیادہ وقت بھی صرف کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک وٹس ایپ پیغام کے ذریعے مجھے اپنی فلاحی سرگرمیوں کی ایک جھلک دکھائی ہے۔ یہ تفصیل ڈاکٹر صاحب کی زبانی ہی سنیے: ''حسین بھائی! ہمارے گھر کے پچھواڑے جس پارک میں ہم لڑکپن میں کھیلا کرتے تھے‘ اس کی حالت اب ناگفتہ بہ ہے۔ پارک جو کبھی خوبصورتی کا نمونہ تھا اب گندگی کے ڈھیر بن چکا ہے۔ پارک کے درخت یا تو کاٹ لیے گئے ہیں یا وہ سوکھ چکے ہیں۔ پارک میں جو بینچ تھے خدا جانے کون اٹھا کر لے گیا ہے۔ میں نے اب بھاری قسم کے نئے بینچ خریدے ہیں۔ مالی سے کہا کہ وہ سارے پارک کے لیے نئے گملے لائے۔ پہلے سے دوگنے درخت لگوا دیے گئے ہیں۔ مالی کی میں نے اچھی تنخواہ مقرر کی ہے۔ پارک کے سامنے سیوریج کا گندا پانی بہہ رہا تھا جس سے سارے محلے میں تعفن پھیل چکا تھا۔ نمازی اس بدبو سے الگ پریشان تھے۔ میں نے پلمبرز کو بلا کر نئی سیوریج لائن ڈلوا دی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب اہل محلہ کو بدبو سے نجات مل چکی ہے۔ اسی طرح جس محلہ لائبریری میں ہم 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے اب اس کی حالتِ زار دیکھ کر رونا آتا ہے۔ میں نے لائبریرین کی اجازت سے لائبریری کے لیے بہت سی نئی کتابیں خریدیں‘ نیا فرنیچر منگوایا ہے۔ باتھ رومز ناقابل استعمال ہوچکے تھے اُن کی بھی کی مکمل مرمت کروائی گئی ہے۔ بے نور سٹریٹ لائٹوں میں نئے قمقمے لگوا دیئے گئے ہیں۔ میں نے اہل محلہ کے مشورے سے خواتین و حضرات پر مشتمل ایک ویلفیئر کمیٹی بنا دی ہے جو اب ان تمام فلاحی کاموں کی نگرانی کا فریضہ انجام دے گی۔‘‘
جناب مرتضیٰ وہاب کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ ڈاکٹر اسد اسماعیل سمیت بہت سے اوورسیز اہلِ کراچی اپنے شہر کو مزید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے مالی و فنی تعاون پیش کرنے پر آمادہ ہیں۔ یہ پاکستانی صرف دیانت و امانت کی ضمانت چاہتے ہیں۔ کیا مرتضیٰ یہ ضمانت فراہم کر سکتے ہیں؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں