نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مثبت رہیں اورمثبت کھیلیں،کپتان بابراعظم
  • بریکنگ :- گیم کوانجوائےکریں،بابراعظم کی کھلاڑیوں کوتلقین
  • بریکنگ :- پاک بھارت ٹاکرا،بابراعظم کی قومی اسکواڈکی حوصلہ افزائی
  • بریکنگ :- ورلڈکپ جیتناہے،صرف یہ مائنڈسیٹ رکھیں،بابراعظم
Coronavirus Updates

تین سالہ کارکردگی اور ناقابلِ فہم عقدہ

اردو انگریزی تقریری مقابلے میں کوئی سیاست دان جناب وزیراعظم عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہوم گرائونڈ ہو یا کوئی بین الاقوامی فورم‘ خان صاحب بولتے ہیں تو لفاظی کے دریا ہی بہا دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں تحریک انصاف کی تین سالہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے انہوں نے جو ''حقائق‘‘ بیان کیے یا کمالات گنوائے وہ عام آدمی کے اوپر سے ہی گزر گئے تھے۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی تجارتی خسارہ‘ فارن زرمبادلہ‘ درآمدو برآمد کا توازن‘ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے حاصل کردہ قرضوں کی اصل حقیقت وغیرہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔خان صاحب غریبوں کے دل کی باتیں جب دردمندی سے کیا کرتے تھے اور اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے کی نوید سناتے تھے اور یہاں اصلاحی اور ''انصافی‘‘ عدل و انصاف لانے کی خوش خبری دیتے تھے تو لوگ لپک کر اُن کی طرف جاتے تھے۔
خان صاحب نے مہنگائی کے خاتمے کی بات کی تھی مگر اُن کے تین سالہ دور میں اشیا کی قیمتیں ساتویں آسمان پر چلی گئی ہیں۔ جناب عمران خان نے بجلی گیس کے بلوں اور پٹرول کے ریٹ میں کمی کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر ہوا اس کے برعکس ہے اور ان سب چیزوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح خان صاحب نے آئی ایم ایف کے سامنے کشکولِ گدائی نہ لے جانے کا فیصلہ بھی کیا تھا مگر عملاً اُنہیں کوچۂ رقیب میں سر کے بل جانا پڑا۔ اسی طرح خان صاحب نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا مگر امر واقع یہ ہے کہ خان صاحب کے تین سالہ دورِ اقتدار میں کئی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے لاکھوں افراد کو نکال دیا گیا ہے۔ اسی طرح جناب عمران خان نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے شعلہ بیانی سے کام لیا؛ تاہم اُن کے دور میں یہ مسئلہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھ گیا ہے۔ چلیے ہم سارے مالی‘ معاشی اور عالمی معاملات میں تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار پارٹی کو نہیں حالات کی ''ستم ظریفی‘‘ کو قرار دے لیتے ہیں؛ تاہم جو عقدہ میں حل نہیں کر سکا وہ یہ ہے کہ جناب عمران داخلی محاذ پر جو کام بآسانی انجام دے سکتے تھے وہ انہوں نے کیوں نہیں کیے۔ جناب عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم ایک بار نہیں ہزار بار یہ کہا کہ دیکھئے یہ کیسے اپوزیشن لیڈر ہیں جو منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولتے ہیں جبکہ یہاں کوئی انگریزی سمجھتا نہیں۔ انہوں نے سرکاری تقریبات بھی اردو میں منعقد کرنے پر زور دیا، اگرچہ عملاً ایسا نہیں ہورہا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خان صاحب اردو کو سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ کیوں نہیں کرسکے۔
اپنی تین سالہ کارکردگی میں خان صاحب نے عدلیہ اور پولیس اصلاحات کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا۔ تین سالہ مدت میں پولیس کی کارکردگی بہتر نہیں پہلے سے کئی گنا ابتر ہوئی ہے۔ اپنے دورِ اقتدار میں خان صاحب کا اصل فوکس اپوزیشن رہی ہے۔ سنگل نیشنل کریکولم کا بہت چرچا کیا جا رہا ہے۔ جناب وزیراعظم چند روز پہلے لاہور آئے تو انہوں نے قومی نصاب کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے مگر جب قومی نصاب اور اس نصاب کی حقیقت قوم کے سامنے آئی تو قوم کے ہر ذی شعور شخص کا وہی احساس تھا جو صبح آزادی کے کئی برس بعد ممتاز شاعر جناب فیض احمد فیضؔ کا تھا:
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
جناب وزیراعظم نے انگلش میڈیم سکولوں کو بدترین غلامی کی نشانی قرار دیا مگر دوسری طرف وہ تعلیمی ادارے اسی کروفر کے ساتھ انہی کتابوں کے ساتھ‘ انہیں بھاری بھرکم فیسوں کے ساتھ‘ اپنی اسی امتیازی شان کے ساتھ‘ اپنے اے لیول اور او لیول امتحانوں کے ساتھ قائم دائم ہیں۔ وہ برائے نام قومی نصاب پڑھائیں گے مگر اپنا وہی پرانا طرزِتعلیم اور طریقۂ تعلیم جاری رکھیں گے۔ سنگل نیشنل کریکولم کے نام پر جو نصابِ تعلیم رائج کیا گیا ہے وہ کوئی نئی تخلیق نہیں۔ یہ وہی نصابِ تعلیم ہے جو 2006ء میں جرمنی کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے جی آئی زیڈ کی فنڈنگ اور تکنیکی معاونت سے تیار کیا گیا تھا۔ اس ''قومی نصاب‘‘ کی اس وقت انچارج محترمہ نگہت لون تھیں اور آج بھی موصوفہ ہی پی ٹی آئی کے ''قومی نصاب‘‘ کی ٹیکنیکل ایڈوائزر ہیں۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے آزاد ہیں کہ وہ سنگل نیشنل کریکولم کی بنیادی ضروریات پوری کر کے اضافی کتب لگانے اور باہر کے آکسفورڈ اور کیمبرج جیسے اداروں سے امتحانات دلوانے میں بھی انہیں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ انگلش میڈیم سکولوں نے مکمل آزادی کے لیے ہائی کورٹ سے ایک سال کے لیے اپنا پرانا نصابِ تعلیم جاری رکھنے کی اجازت بھی لے لی ہے۔ بھارت نے تقریباً تین دہائیاں پہلے ہی یہ او اور اے لیول کا غلامانہ طرزِ تعلیم اور نصابِ تعلیم ترک کر دیا تھا مگر ہم ایک نظریاتی ملک ہوتے ہوئے ابھی تک اس غلامانہ طرزِ تعلیم کو خیرباد نہیں کہہ سکے۔
اس نام نہاد قومی نصاب کا سب سے زیادہ نقصان پنجاب سمیت تمام صوبوں کے دیہاتی علاقوں کو ہوگا۔ سبب اس کا یہ ہے کہ اس نصاب کے مطابق پہلی جماعت سے ریاضی اور سائنس کی تعلیم انگریزی میں دی جائے گی۔ میاں شہباز شریف نے بھی تعلیمی‘ نفسیاتی اور زمینی حقائق جانے بغیر پنجاب میں بھی اسی طرح کا آدھا تیتر آدھا بٹیر سکول سسٹم رائج کیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پنجاب کے دیہاتی علاقوں میں اعلیٰ کارکردگی تو کجا بچے دھڑا دھڑ فیل ہونے لگے اور بہت بڑی تعداد سکول چھوڑ گئی۔ اس پر شدید احتجاج ہوا تو پھر شہباز شریف صاحب نے اردو کی کتابیں رائج کر دیں۔ ہمارے حکمران تعلیمی معاملات کے لطیف نکات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جناب عمران خان کی باتوں سے تو یہ لگتا تھا کہ وہ قومی امنگوں اور بابائے قوم محمدعلی جناح اور حکیم الامت علامہ اقبال کی تعلیمات کے مطابق اردو ذریعہ تعلیم کی حمایت کریں گے اور اردو میں ہی کم از کم سکولوں کی حد تک ایک نصاب رائج کریں گے تاکہ زعمائے ملت کے وژن کے مطابق نسلِ نو کی بہتری تعلیم و تربیت کا اہتمام ہوسکے۔ جناب عمران خان کو چاہئے تھا کہ وہ اس نازک قومی معاملے کے لیے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان‘ جناب ڈاکٹر عطاالرحمن اور پاکستان کے نامور ماہر تعلیم جناب ڈاکٹر خورشید رضوی جیسی شخصیات سے رہنمائی لیتے۔ اس کے بجائے انہوں نے ایک ڈھلے ڈھلائے ''انگلش میڈیم‘‘ وزیر تعلیم سے ''یکساں قومی نصاب‘‘ کی توقع لگا لی تھی۔
قومی نصاب آنے کے بعد عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ ہر بڑا انگلش میڈیم سکول اپنے اپنے مروجہ نصاب کے تحفظ کے لیے ہائی کورٹ پہنچا جہاں سے انہیں اپنا سابقہ سلیبس جاری رکھنے کی مشروط اجازت مل چکی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی نظریاتی جماعت کے حمایت یافتہ انگلش میڈیم سکولوں کی انتظامیہ نے بھی سابقہ سلیبس جاری رکھنے کا اجازت نامہ حاصل کرلیا ہے۔جناب عمران خان فخریہ بتاتے رہے کہ اُس وقت تک قوم سازی ہو ہی نہیں سکتی جب تک کہ اپنی زبان میں ایک نصاب نہ ہو۔ خان صاحب سے بڑھ کر عالمی منظرنامے سے براہِ راست آگہی کون رکھتا ہے۔ کیا خان صاحب کو معلوم نہیں کہ چین نے چینی زبان میں‘ جاپان نے جاپانی زبان میں‘ اور یورپ کے چھوٹے چھوٹے شہروں جتنے ممالک نے اپنی زبان میں اپنے بچوں کو تعلیم دی ہے۔ آج فن لینڈ جیساچھوٹا سا ملک سکول تعلیم میں دنیا میں نمبرون ہے۔ وہ انگریزی میں نہیں فنش زبان میں اپنے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔
جناب وزیراعظم! آپ جو کچھ بیان کرتے ہیں اسے نافذ کیوں نہیں کر پاتے؟ اگر آپ جیسا قومی درد اور وژن رکھنے والا وزیراعظم بھی وہی غلامانہ روش اختیار کرنے پر مجبور ہے تو پھر یہاں کون قومی امنگوں کے مطابق اردو میں یکساں قومی نصاب رائج کرے گا اور اردو کو سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ کرے گا۔ براہِ کرم یہ عقدہ حل فرمائیے کہ ایسا کیوں!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں