نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سیکیورٹی فورسزکاہرنائی میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پرآپریشن
  • بریکنگ :- فائرنگ کےتبادلےمیں 6 دہشت گردہلاک،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ہلاک دہشتگردوں میں کالعدم بی ایل اے کاکمانڈرطارق عرف ناصر شامل
  • بریکنگ :- آپریشن کےدوران ہتھیاراورگولیاں قبضےمیں لےلی گئیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دہشتگردوں کےخاتمےکیلئےآپریشنزجاری رہیں گے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- امن وامان خراب کرنےکی کسی کواجازت نہیں دی جائےگی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دہشتگردوں کوامن واستحکام تباہ نہیں کرنےدیں گے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بلوچستان کےعوام کی سماجی،اقتصادی ترقی سبوتاژنہیں کرنےدی جائےگی،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates

قومی حکومت کی بے وقت راگنی

وجوہ کچھ بھی ہوں مگر گزشتہ کئی ماہ سے پی ڈی ایم تعطل کا شکار تھی۔ اتوار کی شب باغ جناح کراچی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے قائدین نے اپنی طویل غیرحاضری کی داستان تو نہ سنائی‘ نہ ہی باعثِ تاخیر کے بارے میں کچھ بتایا مگر اُن کا جلسہ بہت بھرپور اور جاندار تھا۔ اس موقع پر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ابہام سے پاک دوٹوک الفاظ میں مستقبل کا پورا نقشہ اور لائحہ عمل بیان کیا اور کہا کہ اب جلسے بھی ہوں گے، ریلیاں بھی ہوں گی، روڈ کاروان بھی چلیں گے اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے بھی پُرجوش خطاب کیا اور اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے اور عوامی تحریک کے پروگرام کی بھرپور تائید کی۔ کراچی والے جلسے کے اگلے روز ہماری مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر لیڈر سے لاہور میں ملاقات ہوگئی۔ ہارٹ ٹو ہارٹ تبادلۂ خیال کے دوران ہم نے قائد موصوف سے عرض کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں مقبولیت کا گراف نیچے گر رہا ہے۔ مسلم لیگی قائد نے ہم سے دریافت کیا کہ آپ کی رائے میں اس کا سبب کیا ہے؟ ہم نے لگی لپٹی رکھے بغیر انہیں بتایا کہ اس کا سبب یونٹی آف کمان اور یونٹی آف بیان کا نہ ہونا ہے۔ انہوں نے اس رائے سے زیر ِلب اتفاق کیا۔ ہم نے مسلم لیگی قائد کے التفات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عرض کیا کہ پارٹیوں کے اتحاد اور الائنس سوال و جواب سے نہیں افہام و تفہیم سے چلتے ہیں۔
پیپلز پارٹی سے سندھ کی حکومت کی قربانی کا مطالبہ ایک نظری مطالبہ تو ہو سکتا ہے مگر یہ سیاسی مطالبہ نہ تھا۔ نہ تو ایسے غیرحقیقت پسندانہ مطالبے پر کوئی شدید ایکشن لینے کی ضرورت تھی اور نہ ہی اپنے اتحاد کی ایک بڑی پارٹی کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے تھا۔ نیز ہماری رائے میں الائنس کے اندر کے اختلافات اندرونِ خانہ ہی حل ہونے چاہئیں تھے۔ سرعام دوطرفہ بیان بازی جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہے۔ مسلم لیگی قائد نے ہماری کئی باتوں سے اتفاق اور کئی سے اختلاف کیا؛ تاہم ہماری اس بے تکلف نشست میں کسی بھی طرح کی قومی حکومت کا کوئی تذکرہ ہوا اور نہ ہی اس کے بارے میں اشارتًا یا کنایتًا کوئی بات ہوئی۔
کراچی کے جلسے میں میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کے جوشِ خطابت اور طرزِ بیان میں لب و لہجے کا اختلاف ضرور تھا‘ مگر وہاں مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے پی ڈی ایم کی تحریک میں دل و جان سے شرکت کرنے کا بڑا واضح عندیہ دیا تھا۔ اتوار کی شب یہ محسوس ہوتا تھا کہ اب میاں شہباز شریف اور اُن کے برادرِ بزرگ کے مابین حائل خلیج خاصی کم ہوگئی ہے اور صدر مسلم لیگ (ن) اب عوامی تحریک کے حوالے سے یکسو ہو چکے ہیں؛ تاہم اگلے ہی روز شہباز شریف کا بیان آیا کہ ہم مفاہمت یا مزاحمت نہیں 2023ء کے شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اگر مزاحمت نہیں تو پھر جلسے جلوس کیوں، روڈ کاروان کیوں اور اسلام آباد کی طرف مارچ کیوں؟ اتوار کے اپنے خطاب کے دوران بار بار شہباز شریف نے 2023ء کے انتخابات جیتنے کی بات کی۔ انتخاب جیت کر انہوں نے کراچی کی قسمت بدل دینے کی جذباتی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ شہباز شریف نے کراچی کو غریب نواز شہر قرار دیا جو ملک کے کونے کونے سے آئے بے وسیلہ لوگوں کو روزگار مہیا کرتا ہے۔
میاں شہباز شریف جیسے صاحبِ مطالعہ شخص سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ سیاسی کامیابی کے لیے منتشر خیالی نہیں یکسوئی درکار ہوتی ہے کیونکہ بے یقینی تردد کو جنم دیتی ہے اور تردد کا نتیجہ بے عملی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ شفاف الیکشن کا ہدف مقرر کرنے کے ساتھ ہی اگلے سانس میں میاں شہباز شریف نے ایک ایسی بات کہہ ڈالی کہ جس سے
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میاں شہباز شریف نے کہاکہ ہماری بے ثمر خارجہ پالیسی، ہماری معاشی بدحالی اور سیاسی بے یقینی جیسے کچھ ایسے مسائل ہیں کہ جن کو مسلم لیگ (ن) اکیلے نہیں سلجھا سکتی۔ یہ مسائل ایک متحدومتفق قومی حکومت کے قیام کے متقاضی ہیں۔ کراچی میں اپنے قیام کے آخری روز پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا ''جب میں الجھے ہوئے بے پناہ مسائل کو دیکھتا ہوں تو میں اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ ان مسائل کی اصلاح کوئی اکیلی پارٹی نہیں کر سکتی‘ اس کیلئے سب پارٹیوں کو سوائے موجودہ حکمران جماعت کے کہ جس نے یہ سارے مسائل پیدا کیے ہیں، مل کر چلنا ہوگا وگرنہ ہمارے لیے منزلِ مقصود پر پہنچنا بہت دشوار ہوگا۔‘‘
میاں شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ بڑے بڑے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیں انفرادی نہیں ''اجتماعی دانش‘‘ اور متحدہ کاوش کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ قومی حکومت کی کیا شکل ہو گی اور یہ کیسے قائم ہو گی اور اس کے قیام کا کون سا وقت مناسب ہوگا‘ اس کے بارے میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میاں شہباز شریف نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اکثریت سے کامیاب ہو جاتی ہے تب بھی اُس کے لیے تمام مسائل کو تن تنہا حل کرنا بہت دشوار ہوگا۔
جب کبھی قومی حکومت یا قومی مفاہمت یا اجتماعی دانش جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں تو اُس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس میں کچھ اُدھر کا اشارہ بھی شامل ہے۔ میاں شہباز شریف کی اس قومی حکومت یا قومی مصالحت کے حق میں ایک بھی بیان نہیں آیا۔ مسلم لیگ (ن) کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگ زیب نے کہا کہ قومی حکومت کے بارے میں میاں شہباز شریف نے قومی یکجہتی کی خاطر شاید قومی حکومت کا لفظ استعمال کیا ہے؛ تاہم یہ اُن کے ذاتی خیالات تو ہوسکتے ہیں یہ پارٹی پالیسی نہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے پی ڈی ایم کی طرف سے میاں شہباز شریف سے وضاحت طلب کرلی ہے کہ 'مزاحمت نہ مفاہمت بلکہ قومی حکومت کی تشکیل‘ یہ کس کا بیانیہ ہے۔ پی ڈی ایم کا یا مسلم لیگ (ن) کا؟ مولانا حیدری نے کہاکہ پرسوں شہباز شریف نے کراچی میں کہاکہ ہم اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے اب وہ قومی حکومت کی بات کررہے ہیں۔ وہ بیانیہ درست تھا یا یہ بیانیہ درست ہے؟ پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ کا کہنا ہے کہ قومی حکومت ٹائپ بیانات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم یکسو نہیں متردد ہے اور آئے روز اُس کا بیانیہ بدلتا رہتا ہے۔
اتوار کی شب میاں برادران کے لانگ مارچ والے بیانیے اور پیر کے روز میاں شہباز شریف کے قومی حکومت والے بیانیے میں بعدالمشرقین ہے۔ جب 2022ء میں ایک برس قبل عام انتخابات کے انعقاد کی خبریں گرم ہیں‘ اُس وقت قومی حکومت کی پیشکش ناقابل فہم محسوس ہوتی ہے۔ شاید چوائس آف ورڈز کے معاملے میں میاں شہباز شریف کے عرفان سے کچھ بھول ہوئی ہو۔ بقول مریم نواز وہ قومی حکومت نہیں قومی مصالحت کی بات کررہے تھے۔ شہباز شریف کو قومی حکومت کے بارے میں زیادہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہئے تھا کیونکہ اِن تفصیلات سے عوامی تحریک کی نفی اور بے یقینی کا تاثر ملتا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کو چاہئے کہ وہ ہر طرح کی منتشر خیالی کو خیرباد کہہ کر عوامی مطالبات کے پرجوش ترجمان کا کردار ادا کرے۔ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور مریم صاحبہ کو بیٹھ کر ایک بیانیے پر مکمل یکسو ہو جانا چاہئے۔ واجب الاحترام شریف خاندان کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہئے کہ اُن کے بیانیوں میں جتنا تضاد ہوگا اُن کی مقبولیت کے گراف میں اُتنی ہی کمی آئے گی جبکہ انتخابات سر پر کھڑے ہوں اس وقت قومی حکومت کی بات کرنا بے وقت کی راگنی کے علاوہ کچھ نہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں