نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سکیورٹی الرٹ پرسیریزختم کرنےکافیصلہ کیا،نیوزی لینڈکرکٹ چیف ایگزیکٹو
  • بریکنگ :- ہمارے لیےکھلاڑیوں کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے،ڈیوڈوائٹ
  • بریکنگ :- موجودہ حالات میں ہمارےپاس یہی آپشن تھا،نیوزی لینڈکرکٹ چیف ایگزیکٹو
  • بریکنگ :- پی سی بی نےسیریز کیلئےبہترین میزبانی کی،ڈیوڈوائٹ
  • بریکنگ :- ہمارےکھلاڑی محفوظ ہیں،بہترین انتظامات کیےجارہےہیں،ڈیوڈوائٹ
  • بریکنگ :- ہمیں اندازہ ہےپی سی بی کیلئےبڑادھچکہ ہے،ڈیوڈوائٹ
  • بریکنگ :- کھلاڑیوں کی واپسی کےانتظامات کیےجارہےہیں،ڈیوڈوائٹ
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈحکومت نےسکیورٹی الرٹ جاری کیا،ڈیوڈوائٹ
Coronavirus Updates

دھمکیاں

میں گزشتہ دو تین روز سے ایک اور ہی طرح کی دنیا میں گم تھا۔ میں شام کی منڈیر پر کھڑا زندگی کو ایک نئے زاویۂ نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ قارئین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ دمِ واپسیں زندگی کے بارے میں ازسرِنو غوروفکر چہ معنی دارد؟ تاہم انگریزی محاورے کے مطابق اصلاح کبھی متاخر نہیں ہوتی۔ فراق گورکھپوری نے کہا تھا؎
موت کا بھی علاج ہو شاید
زندگی کا کوئی علاج نہیں
اگر اسے مبالغہ نہ گردانا جائے تو یوں کہوں گا کہ میں نے زندگی اور موت دونوں کا ''علاج‘‘ دریافت کر لیا تھا۔ میں نے ندا فاضلی کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے زندگی کو فطرت کے حسین نظاروں اور دلکش رعنائیوں میں تلاش کرنے کی کامیاب سعی کی۔ شاعرِ مذکور نے کہا تھا؎
دھوپ میں نکلو گھٹائوں میں نہا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
جون ایلیا کے خوبصورت شعر میں ایک لفظ کے تصرف کے ساتھ ہم نے اپنے انداز سے زندگی گزارنے کا فن بھی دریافت کر لیا تھا۔ جون ایلیا کا شعر ملاحظہ کیجئے ؎
زندگی ایک فن ہے لمحوں کو
اپنے انداز سے 'سنوارنے‘ کا
میرا پختہ ارادہ تھا کہ میں اس نئی دنیا کی اپنے قارئین کو بھی سیر کرائوں گا۔ مجھے یہ زعم ہو چلا تھا کہ جو نسخہ میرے ہاتھ لگا ہے اس سے شاید ہم سب کی زندگیاں سنور جائیں گی۔
یہ خیالات الفاظ کے پیرہن میں ترتیب پارہے تھے کہ میں دھمکیوں کی پرشور آوازوں سے چونک اُٹھا۔ ٹیلی وژن سکرین پر نظر پڑی تو وزیر ریلوے اعظم خان سواتی الیکشن کمیشن آف پاکستان پر گرج برس رہے تھے۔ وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کہہ رہے تھے کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں اس لیے ہمیشہ دھاندلی کی گئی۔ ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کو آئین سے نکال دیا جائے اور آئینی ترمیم کر کے عام انتخابات کرانے کا اختیار حکومت وقت کو دیا جانا چاہئے؛ تاہم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ‘ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور سمندرپار پاکستانیوں کے لیے ووٹنگ سے متعلق ترامیم مسترد کر دیں۔ فواد چودھری نسبتاً معتدل وزیر سمجھے جاتے ہیں مگر الیکٹرانک ووٹنگ اور الیکشن کمیشن کو ڈکٹیٹ کرنے میں وہ بھی انتہا پسند اعظم سواتی سے پیچھے نہیں۔ فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈکوارٹر ہے۔ چیف الیکشن کمیشن کمشنر کو اگر سیاست کرنی ہے تو وہ عہدہ چھوڑ دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراضات احمقانہ ہیں۔ دونوں وزرا کے شعلے اگلتے ہوئے بیانات کا نفسیاتی تجزیہ تو میں بعد میں پیش کروں گا پہلے یہ عرض کردوں کہ کسی آئینی ریاستی ادارے کو آگ لگانے جیسے بیانات آئین سے انحراف کے مترادف ہے۔ لہٰذا ان وزیروں کا پہلا جرم تو آئین شکنی ہے۔
مذکورہ وزرا کا دوسرا جرم یہ ہے کہ آپ بغیر ثبوت کے کسی عام شخص کے خلاف بھی سرعام کوئی الزام عائد نہیں کر سکتے مبادا کہ آپ ایک خودمختار آئینی ادارے کے خلاف پیسے پکڑنے اور اپوزیشن سے سازباز کرنے جیسے شدید نوعیت کے الزامات عائد کریں۔ مجھے معلوم نہیں کہ عدالت اتنے سنگین طرزِعمل کا ازخود نوٹس لے گی یا نہیں‘ اور میرے علم میں یہ بھی نہیں کہ وزیروں کی ریاستی اداروں کے خلاف تندی و تیزی کے تدارک کے لیے عدالت عالیہ یا عدالت عظمیٰ کا دروازہ کون کھٹکھٹائے گا البتہ مجھے یہ بات معلوم ہے کہ ملکوں میں انارکی اور خانہ جنگی صرف گولہ بارود سے ہی نہیں الفاظ و الزامات کی گولہ باری سے بھی پیدا کی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے الزامات کی یہ یورش فوری طور پر قابل گرفت ہے تاکہ ملک انارکی سے محفوظ رہے۔ اب آئیے وزیروں کے ان آگ برساتے الزامات کے نفسیاتی تجزیے کی طرف۔ نفسیات کا مجھ جیسا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ کوئی شخص دھمکیوں پر تب اترتا ہے جب اس کے پاس دلیل کے جواب میں کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ نیز جب وہ دلیل کے ترکش کو خالی پاتا ہے تو پھر وہ شعلہ بیانی اور الزام تراشی پر اتر آتا ہے۔ نفسیات والے یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب کسی شخص کو معلوم ہو کہ اس کا مفاد کسی خاص شے کے ساتھ وابستہ ہے تو پھر وہ ہر قیمت پر اُس شے کو حاصل کرنے کے درپے ہو جاتا ہے۔ مشینوں سے وزیروں کی جذباتی وابستگی سے تو یوں لگتا ہے کہ ان کی امیدوں کا انحصار ووٹوں پر نہیں مشینوں پر ہے۔ وزیروں اور مشیروں کے رویے سے تو یہ واضح ہوگیا کہ وہ مشینوں پر الیکشن کمیشن کے عائد کردہ 37 اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دے سکے ہیں۔ اسی طرح وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھی دلیل سے قائل نہیں کر سکے اور نہ ہی وہ اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر اسے مشینی پولنگ کی برکات سمجھا سکے ہیں۔ ایسے حوصلہ شکن حالات ہوں تو پھر اقتدار پسند لوگ دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ موجودہ حکومت ریاست کے کئی ستونوں کو کیوں منہدم کر دینا چاہتی ہے۔
حکومت اینکروں کی زبان بندی اور صحافیوں کے قلم پر بندشیں عائد کرنے کے لیے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک خوفناک قسم کی قانون سازی کر رہی ہے۔ اس قانون سازی کو صحافیوں کی تمام تنظیموں اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے۔ جناب عمران خان آزادیٔ صحافت کے علمبردار تھے جبکہ مجوزہ قانون میڈیا مارشل لاء کے مترادف ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آجکل ہمارے وزیر اور مشیر گھر پھونک تماشا دیکھنے کے مشغلے سے اپنا دل بہلا رہے ہیں اور اپنے تئیں جناب وزیراعظم عمران خان کو خوش کررہے ہیں۔ حکومت کے یہ مہرباں اس بات سے بالکل غافل ہیں کہ ہمارے ریجن میں کیا مثبت تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ انہیں یہ ادراک بھی نہیں کہ ان مثبت تبدیلیوں کے ثمرات سے فیض یاب ہونے کے لیے ملک میں داخلی استحکام اور باہمی اتحاد کتنا ضروری ہے۔ اسی طرح انہیں یہ بھی احساس نہیں کہ لوگ مہنگائی اور بدعنوانی کے ہاتھوں کس قدر پریشان ہیں۔ اب ذرا دل تھام کر مہنگائی کی تازہ ترین لہر کے بارے میں سنیے کہ جو کورونا کی چوتھی لہر سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ گھی 96 روپے فی کلو جبکہ کوکنگ آئل 97 روپے فی کلو مہنگا ہوگیا ہے۔ کارن کوکنگ آئل کی قیمت میں 370 روپے فی لٹر اضافہ ہوا ہے لہٰذا اس کی قیمت 500 روپے سے بڑھ کر 870 روپے فی لٹر ہوچکی ہے۔ ایک ہفتے میں اشیا کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافہ انتہائی ناروا ہے۔ حکومتی وزیر و مشیر ان قیمتوں کے ساتھ ووٹروں کا سامنا نہیں کر سکتے اس لیے انہوں نے مشینوں سے دل لگا لیا ہے۔ الیکشن کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے جسے عدالتی اختیارات بھی حاصل ہیں اور یہ کسی رکن اسمبلی کو نااہل بھی قرار دے سکتا ہے۔
موجودہ حکمران انتخابی اور صحافتی اداروں کو جس طرح سے اپنے کنٹرول میں لانا چاہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس طرح کی کوششیں گزشتہ ادوار کے حکمران بھی کر چکے ہیں اور اس کا خمیازہ بھی بھگت چکے ہیں۔ ایئر مارشل اصغر خان مرحوم نے ایک شاندار کتاب لکھی جس کا ٹائٹل تھا We've Learnt Nothing from History۔ ٹائٹل پیج پر عنوان کے اوپر ذوالفقار علی بھٹو‘ جنرل ضیا الحق‘ بے نظیر بھٹو‘ میاں نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کی تصاویر ہیں۔ ہماری خواہش اور دعا ہے کہ کتاب کے اگلے ایڈیشن میں اس ٹائٹل پیج پر جناب عمران خان کی تصویر کا اضافہ نہ ہو۔ یقینا خان صاحب بھی ایسا ہی چاہیں گے۔ اگر وہ واقعتاً ایسا ہی چاہتے ہیں تو پھر وہ اپنے وزیروں مشیروں کو خودمختار آئینی اداروں کے خلاف دھمکیاں دینے اور آمرانہ قانون سازی کرنے سے روکیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں